عثمان علی انسٹیٹیوٹ فار پیس اینڈریسرچ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانیؔ

’’ پروفیسر عثمان علی میری نظر میں نانگا پربت، کے ٹو اور ہمالیہ سے عظیم ہے۔ ان کے نام میں بڑی کشش اور راز مضمر ہے۔ پروفیسر عثمان بہ یک وقت تاریخ ساز بھی ہے اور انسان ساز بھی‘‘ یہ الفاظ میں نے اس وقت لکھے تھے جب میں بی اے کا طالب علم تھا اورکالم لکھا کرتا تھا۔ کراچی میں دوران طالب علمی گلگت بلتستان کے نامور اہل علم و قلم سے ملنے کا اشتیاق رہتا۔ پروفیسر عثمان علی وہ واحد انسان تھے جن سے ملنا کا مجھے بے حد شوق تھا۔ ایک ہی وجہ تھی کہ وہ کتاب و قلم اور تحقیق و تجسس کے انسان تھے۔ ان کی کتابیں پڑھ کر مجھے گلگت بلتستان کے متعلق آگاہی حاصل ہوئی تھی۔شاید دو ہزار آٹھ کی بات ہے کہ میں اپنی تحقیقی کتاب’’مشاہیر علمائے گلگت بلتستان ‘‘ کے حوالے سے گلگت آیا اورایک ملاقات میں محترم قاضی نثار احمد سے گزارش کی کہ میں پروفیسر عثمان علی سے ملنا چاہتا ہوں۔ تب انہوں نے پروفیسر مرحوم و مغفور کو فون کیا اور میری ملاقات، جائے ملاقات اور وقت ملاقات طے کیا۔ شاید ان دنوں عثمان استاد،محکمہ زکواۃ و عشر میں کوئی ذمہ داری نبھارہے تھے۔ان سے ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات پروفیسر صاحب کی موت تک محبت و دوستی اور تعلق و احترام کا سبب بنی۔پہلی ہی ملاقات میں درجنوں تحقیقی کتابوں کے مصنف نے ایک معصوم طالب علم کو تقریبا دو گھنٹے سنا اور ڈھیر ساری نصیحتوں کے ساتھ رخصت کیا۔ تب کراچی جاکر میں نے ایک کالم ’’پروفیسر عثمان علی میری نظر‘‘ لکھا تھا۔ کاش و ہ کالم مجھے دوبارہ مل جائے۔ اور پروفیسر عثمان علی کی عظمت و سخاوت دیکھے کہ ایک نو مشق اور کم عمر طالب علم کے کالم کا یہ ٹکڑا’’ پروفیسر عثمان علی میری نظر میں نانگا پربت، کے ٹو اور ہمالیہ سے عظیم ہے۔ ان کے نام میں بڑی کشش اور راز مضمر ہے۔ پروفیسر عثمان بہ یک وقت تاریخ ساز بھی ہے اور انسان ساز بھی‘‘ اپنی شاندار تحقیقی کتاب ’’ گلگت کا انقلاب، ۱۹۴۷ء ‘‘ کا حصہ بنا دیا۔اور مزے کی بات کہ یہ کتاب بطور ہدیہ عنایت بھی کیا۔میں اللہ کو حاضر و ناظر سمجھ کر کہہ رہا ہوں کہ پروفیسر عثمان علی جیسا محقق گلگت بلتستان نے ستر سال میں ایک بھی پیدا نہیں کیا۔ میں جب تعلیم حاصل کررہا تھا تو گلگت بلتستان کے بڑے بڑے پی ایچ ڈی لوگوں کا نام سنا کرتا اور ان سے ملنے کے لیے کوشاں رہتا۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ ان ڈاکٹر صاحبان نے کچھ تحقیقی کام کرنے کے بجائے انتظامی پوسٹوں پر اپنا ٹائم ضائع کیا اور سرکار ی نوکری سے ریٹائرڈمنٹ لی۔مجھے ان سے ملکر فقط مایوسی ہی ہوئی۔ پروفیسر عثمان علی نے بھی کم و بیش نصف صدی تدریس کے ساتھ انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھالی مگر انہوں نے اپنے قلم کو ہمیشہ متحرک رکھا اور ایسی ایسی تصانیف ان کے قلم سے نکلی کی شاید اگلے ستر سالوں میں بھی جی بی سے اتنا بڑا محقق اور صاحب نگارش پیدا ہو۔مجھے فخر ہے کہ میں عثمان استاد کا شاگرد تو نہیں خوشہ چیں اور مداح ضرور ہوں اور ساتھ کم عمر دوست بھی۔

ان کے تحقیق کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ پروفیسر صاحب نے اپنے قلم کو تعصب کی الائشوں سے پاک رکھا۔جو سچ جانا وہی لکھا اور لکھنے کا حق بھی ادا کیا۔کسی کو پروفیسر صاحب کی تحقیق سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ان کی نیت پر شک کرنا بخدا گناہ عظیم سے کم نہیں۔محقق کے لیے پہلی شرط ہی یہی ہے کہ وہ غیر جانبداری سے حقائق کا جائزہ لیتا ہے اور نتیجے پر پہنچتا ہے اور یہی کام پروفیسر عثمان علی نے نصف صدی سے زیادہ کیا۔عثمان استاد نے کئی کتابیں لکھی،زبان و ادب پر بھی لکھا،اصلاح معاشرہ پر بھی قلم فرسائی کی، تعلیم وتعلم پر بھی قلم اٹھایا، مگر سب سے زیادہ اور سب سے مستند تاریخ پر لکھا اورحوالہ بن گئے۔ مجھے پی ایچ ڈی اور ایم فل کے مقالوں میں عثمان استاد کی کتابوں کے سینکڑوں حوالے ملے۔عثمان استاد نے گلگت بلتستان کے سرکاری اسکولوں کے لیے بھی معاشرتی علوم کی کتابیں لکھی۔ ہم نے خود ان کی کتاب بطور سلیبس پڑھی۔لفظ ’’استاد‘‘ ان کے نام کا لاحقہ بن گیا تھا۔ ہرکوئی پروفیسر عثمان علی کو ’’عثمان استاد‘‘ سے پکارتا اور یاد کرتا۔باہمی یکجہتی اور قیام امن کے لیے بھی عثمان استاد کی کاوشیں بہت ہی عمدہ رہی ہیں۔ امن معاہدہ ۲۰۰۵ء اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دو ہزار دس سے دو ہزار سولہ تک عثمان استاد کے ساتھ درجنوں نشستیں ہوئی۔ایک نشست میں بزعم خویش ایک متقی و پرہیز گار صاحب میری تحریری لغزشوں اور بے راہ رویوں پر تنقید کے نشتر برسارہے تھے تو اچانک عثمان استاد نے صدرِ مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’گلگت کے نوجوانوں میں مجھے اس سے اچھا لکھنے والا ابھی نہیں ملا‘‘ ۔ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو عثمان استاد نے فون کیا کہ میں ان سے آج ہی لازمی طور پر ملاقات کروں۔ ان کی آواز بہت نحیف اور کمزور لگ رہی تھی ، میرا ماتھا ٹھنکا کہ استاد کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ عثمان استاد نے خود بھی بتایا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں اور مجھ سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت، میں چلاس میں ہوں، سرکار نے ڈگری کالج چلاس پوسٹنگ کی ہے ، ویک اینڈ پر گلگت آکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاونگا۔ پروفیسر صاحب کہنے لگے کہ میں انتظار میں رہونگا۔ لیکن بدقسمتی دیکھیں کہ جب میں گلگت آکر ان کے دولت کدے پر پہنچا تو اطلاع ملی کہ عثمان استادبغرض علاج راولپنڈی تشریف لے جاچکے ہیں۔ پھر فون پر ان سے رابطہ ہوتا رہا۔ یہی بات میں نے مارچ کو ایک ٹاپ کلاس کے بیورکریٹ سے کی کہ عثمان استاد نے مجھے خصوصی طور پر بلایا تھا اور کچھ کہنا چاہتے تھے۔ ان بیورکریٹ کا کہنا تھا کہ’’ شاید عثمان استاد کچھ ایسی باتیں آپ سے شیئر کریں گے جو وہ نہیں لکھنا چاہتے ہیں یا ان کو لکھنے کا موقع نہیں ملا اور آپ کے ذریعے لکھوانا چاہتے ہیں‘‘اور میں اس انتظار میں تھا کہ کب عثمان استاد سے ملاقات ہوگی اور میں ان کی خدمت میں حاضر ہوکر وہ باتیں سنوں اور اپنی تحریر کاحصہ بنالو ں یا شاید میں بھی ان کو فوراً نہ لکھ سکوں مگر دل و دماغ میں محفوظ تو رکھوں اور مناسب وقت پر لکھوں۔ ایک دفعہ ٹیلی فون پر گزارش بھی کی، تو انہوں نے کہا کہ ملاقات ہوگی تو ان شاء اللہ بات چیت ہوگی۔ لیکن پھر ۲۱ اپریل ۲۰۱۷ء بروز جمعہ یہ خبر ملی کی پروفیسرعثمان علی انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔میرے دل میں ایک ایسا چوٹ لگی کہ شاید میں ہی محسوس کرسکتا ہوں۔اس درد کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنا سکتا۔کیونکہ ایسے مراحل میں الفاظ ساتھ دینا چھوڑ دیتے ہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں صرف عثمان استاد کو دیکھا جس نے اپنی عمر سے تیس سال بڑے لوگوں کو بھی پڑھایا۔حیرت کی بات یہ تھی کہ ہر مکتبہ فکر کے لوگ عثمان استاد کی شاگردی کا بھرم بھرتے ہیں۔جنازے میں کچھ بہت ہی ضعیف العمر بوڑھے بھی ملے جولاٹھی ٹیکتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہم نے بھی عثمان استاد سے فلاں سن میں پڑھا ہے۔ ان کی جنازے میں تمام مکاتب فکر کے لیڈر، ممبران اسمبلی اور اہل علم وقلم کے ساتھ عام لوگ بھی تھے۔اور ان کی صحت اور مغفرت کے لیے مساجد، امام بارگاہوں اور جماعت خانوں میں بیک وقت دعائیں ہوئی۔ایسی غیر متنازعہ شخصیات پاکستان بھر میں خال خال ہی پائی جاتی ہیں۔عثمان استاد نے ۸۳ سال کی عمر پائی لیکن ان کی چستی و پھرتی دیکھ کر گمان نہیں ہوتا کہ یہ شخص ۸۳ سال کا بھی ہوسکتا ہے۔ پاکستان بھر میں مجھے یہ واحدغیر عالم آدمی ملا جس نے دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کو بھی پڑھایا۔یعنی ان جید اہل علم نے تمام تعلیم دارالعلوم دیوبند میں حاصل کی اور بعد میں عثمان استاد کے شاگر د بنے۔ہذا من فضل ربی۔گلگت بلتستان میں عثمان استاد سے زیادہ مستند محقق کوئی نہیں۔میں خواب دیکھنے کا عادی انسان ہوں، اور خواب دیکھنے پر پابندی اقوام متحدہ بھی نہیں لگاسکتی۔ کاش میرا یہ خواب پورا ہوجائے کہ ’’ حکومت گلگت بلتستان یا پروفیسر عثمان علی کی اولاد ،’’ عثمان علی انسٹیٹیوٹ فار پیس اینڈریسرچ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بنائے۔اور اس ادارے میں ایک چھوٹی سی مسجد ہو ، ایک الیکٹرونک لائیبریری اور اس کے عملے میں بہت سارے محققین ہوں۔اسی انسٹیٹیوٹ میں ایک الگ تھلگ مینار بھی ہو، اس مینار کا نام بھی ’’مینار عثمان علی‘‘ ہو،اور اس مینار کے فوقانی سرے میں ’’امن اور تحقیق‘‘ کا لفظ سرخی بتیوں سے لکھا جائے۔مجھے یقین ہے کہ امن و محبت اور تحقیق و جستجو سے دلی لگاو رکھنے والے پروفیسر عثمان علی کی روح بھی خوش ہوگی اور یہ مینار گلگت بلتستان میں امن اور تحقیق کا استعارہ بھی بن جائے گا۔اس کام لیے اربوں کا بجٹ بھی نہیں چاہیے ۔مختصر سی رقم سے یہ کام ہوسکتا ہے۔اگر جی بی حکومت مخلص ہوتو ’’ عثمان علی انسٹیٹیوٹ فار پیس اینڈریسرچ‘‘ آسانی کے ساتھ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ اسمبلی میں ایکٹ کے ذریعے اس کو باقاعدہ قانونی ادارہ بھی بنوایا جاسکتا ہے۔حکومت کے لیے اتنا کافی ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، ، سرسید یونیورسٹی، عبدالولی خان یونیورسٹی،آغاخان یونیورسٹی ،غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ،ڈاکٹر اے کیو خان وغیرہ کے ناموں کے ساتھ ادارے بنا ئے جاسکتے ہیں تو ’’ عثمان علی انسٹیٹیوٹ فار پیس اینڈریسرچ‘‘ کی داغ بیل ڈال کر اس کے لیے بجٹ بھی مختص کیا جاسکتا ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں بھی یہ انسٹیٹیوٹ قائم کیا جاسکتا ہے۔اگر جی بی حکومت اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ایسا کوئی شاندار انسٹیٹیوٹ قائم کرنے سے نالاں ہے تو پروفیسر عثمان علی مرحوم و مغفور کے جانشین اور اولاد بھی یہ کام کرسکتی ہے۔میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میرے سامنے اپنے والدین، اولاد، اور بیوی کے ناموں سے منسوب کرکے بنائے گئے اداروں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ میں نام بھی نہیں گنوانا چاہتا لیکن مثال کے لیے شوکت خانم ہسپتال اور تاج محل کافی ہیں۔میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ دے جب تک میرے اس جائز اور معصوم خواب کی تعبیر مجھے نہ ملے۔تو آپ بھی آمین کہیے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments