گلگت بلتستان میں کلبھوشن یاریمنڈڈیوس نہیں، پھر یہ پابندیاں کیوں؟ 

گلگت بلتستان میں کلبھوشن یاریمنڈڈیوس نہیں، پھر یہ پابندیاں کیوں؟ 

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چھوٹے بھائی کی ناسازی طبعیت کی اطلاع ملتے ہی راتوں رات اسلام آباد پہنچنا پڑا۔ راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں سفری تھکن دورکرنے کی غرض سے کچھ دیرسکون کی نیندکاارادہ کیامگر نیندقریب آنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ سوچا کہ نیٹکوکے کھٹارہ بس میں شاہراہ قراقرم پرجھٹکے کھا کھا کر طویل مسافت طے کرنے کے بعد منزل مقصودتک پہنچنے کے باوجودآنکھ نہ لگنے میں آخرکیا ماجراہوسکتا ہے۔

اسی کشمکش میں دیکھا تو موبائل فون کب کا تھری جی سروس سے منسلک ہوچکا ہے اورفیس بک، ٹویٹر اوروٹس ایپ پربرقی پیغامات اور نوٹیفیکشنز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ پھرخیال آیا کہ ایس سی اوکی برائے نام انٹرنیٹ سروس کے ستائے ہوئے مجھ جیسے ایک انجان گلگتی کے لئے تھری جی انٹرنیٹ سروس تو یقیناً کسی معجزے سے کم نہیں۔ ایسے میں انٹرنیٹ کی دنیا سے کہاں فرصت کی بندہ سکون کی نیندسوجائے۔

نیندکو ایک طرف رکھ کر موبائل کے ساتھ چھیڑخانی میں لگا رہا۔ دیکھا تو فیس بک پر وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے گلگت بلتستان کی سیاحت سے متعلق ایک نوٹیفیکشن گردش میں ہے ۔ جس کے مطابق گلگت بلتستان جانے والے غیرملکی سیاحوں کو وفاقی وزارت داخلہ سے پیشگی این اوسی لازمی قراردیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وزارت داخلہ کا یہ حکم نامہ جنگل میں آگ کی طرح پھیلتا جارہا تھا ۔ گلگت بلتستان کے باسیوں کے علاوہ سوشل میڈیا کے ملکی وغیرملکی صارفین کی ایک بڑی تعداداس حکم نامے کو مذمتی الفاظ میں شیئرکررہے تھے۔

کچھ ہی دیرمیں یہ نوٹیفیکشن قومی و بین الاقومی میڈیاکی توجہ کا مرکزبننے پرطرح طرح کے تبصرے اور تجزئیے بھی شروع ہوئے۔ لیکن تمام کاوشیں بے سود ثابت ہوئیں حتیٰ کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان سے ٹیلی فونک گفتگو اور تحریری خط بھی۔ وہ اس لئے بے سودکہ اس نوٹیفیکیشن کے ردعمل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکی جانب سے آسمان سرپراٹھانے اور صوبائی حکومت کے جوابی خط نے وفاقی وزارت داخلہ کے سرپر جوے تک نہیں رینگنے دئیے۔ اورتمام ترکوششوں کے باوجود وزارت داخلہ کی جانب سے تادم تحریرکوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔

تاہم حکومتی حلقوں کاگمان یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چوہدری نثار کواپنے ماتحت ادارے کی جانب سے جاری حکم نامے پر نظرثانی کی فرصت نہ ملی ہو۔ لیکن یہ گمان ’دل بہلانے کے لئے غالب کا خیال اچھا ‘ کے مصداق صرف صوبائی حکومت کے لئے ایک امیدتوہوسکتی ہے مگرعام تاثریہ ہے کہ وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ دلچسپی چاہے سیاسی فیصلوں کے حوالے سے ہو یا آئینی حیثیت کے تعین کے سلسلے میں، مالی وسائل کی فراہمی کا معاملہ ہویا انتظامی اختیارات کی منتقلی کا، یا پھرسیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے اقدامات کی بات ہو۔

ہاں اگر وفاق کو گلگت بلتستان کے معاملات میں کوئی دلچسپی ہے تو وہ صرف اور صرف اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات کا حصول ہے۔ جب مفادکی بات آجاتی ہے تو نہ صرف برسراقتدار بلکہ تمام قومی سیاسی جماعتیں جی بی کے عوام کودرپیش مسائل اوربنیادی حقوق کی فراہمی کا رونا روتی ہیں۔ پھر مقصدیت کی تکمیل کے بعدخطے کی طرف کوئی پلٹ کردیکھنے کا گوارہ نہیں کرتا کہ یہاں پر انسان بستے ہیں یا کوئی اور مخلوق۔

دو برس قبل کی بات ہے ، یہی مئی کا مہینہ تھا اور آگئے جون میں گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کے عام انتخابات کا شیڈول مقررتھا۔ اسی اثناء انتخابی مہم کے سلسلے میں وزیراعظم میاں محمدنوازشریف گلگت تشریف لاتے ہیں اور ایک پرُہجوم عوامی اجتماع سے خطاب میں گلگت بلتستان میں سیاحت کوفروغ دینے کے سلسلے میں اقدامات کے بلندوبانگ دعوؤں کے ساتھ ساتھ خطے کی آئینی حیثیت کے تعین کے لئے اپنے مشیربرائے خارجی امورسرتاج عزیزکی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کابھی اعلان فرماتے ہیں۔ لیکن وہ دن آج کا دن ، دوسال کا عرصہ گزرگیا، انتخابات کے نتیجے میں صوبائی سطح پر ان کی جماعت اقتدار میں آگئی مگرگلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کے حوالے سے وہ اعلان تاحال اعلان کی حدتک رہ گیا ۔

رہی بات سیاحت کی ترقی سے متعلق دعووں کی۔ یہ دعوے تو وفاق میں برسراقتدار آنے والی ہرجماعت کا وطیرہ رہا ہے مگر مقامی حکمرانوں کی نااہلی کے باعث ان دعو وں کی صحیح تشہیر نہ ہوپارہی تھی ۔ اب کے بار وزیراعظم میاں نواز شریف کو گلگت بلتستان میں ایک ایسے وزیراعلیٰ سے واسطہ پڑگیا جو اپنے قائدین کے ہراعلان کوعوام تک پہنچانے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ چاہے اس پر عمل درآمد ہو یا نہ ہواس سے انہیں کوئی واسطہ نہیں۔ سیاحتی ترقی کے اس خواب کو بھی انہوں نے خطے میں مثالی امن سے تعبیرکرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت سے کام نہیں لیا۔ بلکہ اس بات پر وہ ہمیشہ ناز کرتے رہے کہ ان جماعت اقتدارمیں آتے ہی یہ خطہ امن وامان کے حوالے سے ایشاء کے پیس انڈکس میں شمارہوا ۔

اس بنیادپروزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ گزشتہ برس گلگت بلتستان میں چھ لاکھ سے زائدسیاح آئے۔ لیکن کبھی یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ ان سیاحوں کی آمد سے علاقے کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوئے اور عوام کی معیارزندگی پر اس کا کیا اثرپڑا۔

سوال یہ ہے کہ اگرگلگت بلتستان عالمی سطح پر ایک پرامن خطہ قراردیا گیا اور ایک سیزن میں چھ لاکھ کی تعدادمیں سیاح اس علاقے کا رخ کرلیتے ہیں توپھراچانک غیرملکی سیاحوں کے لئے این اوسی لینے کی شرط کرنے کی نوعبت کیوں پیش آئی؟ وہ بھی عین اس وقت جب خطے میں سیاحت کا سیزن اپنے عروج پر ہواور سیاحوں کی ایک کثیرتعدادپہلے سے ہی اس علاقے میں موجودہوں۔ جبکہ بہت ساروں نے سیاحت کی غرض سے ویزے حاصل کرکے اس حسین وجمیل علاقے کی سیرکی ٹھان لی ہو۔

ٹھیک ہے گلگت بلتستان میں سیاحت کی غرض سے آنے والے غیرملکیوں کے لئے کچھ قوائدوضوابط ضرورمتعین ہونے چاہیے۔ لیکن جب اس مقصدکے لئے ویزے جاری کئے جاتے ہوں توپھرایک اضافی این اوسی لینے کا کیا جواز بنتا ہے؟

اس بات سے انکاری ممکن نہیں کہ گلگت بلتستان اپنی منفردجغرافیائی حیثیت اور سی پیک کا گیٹ وے ہونے کی بدولت پوری دنیاکی توجہ کا مرکز ہے، مگر مجھے یادنہیں پڑتا کہ یہاں کلبھوشن یادیو یا ریمنڈڈیوس کی شکل میں کوئی سیاح داخل ہواہو۔ مجھے یہاں پر کسی ایسی جگہ کا بھی نہیں معلوم جہاں کوئی سیاح ایبٹ آبادکے عالیشان بنگلے میں اسامہ بن لادین کی طرح ایک عرصے تک پناہ لئے بیٹھا ہو۔ نہ کسی ایسی این جی او کے بارے میں علم ہے جو اس خطے میں سیودی چلڈرن والا کرداراداکررہی ہو۔

مجھے آج تک گلگت بلتستان کے کسی سکول، مدرسہ، مسجد، پارک، سرکاری عمارت یا چوک چوراہے پرخودکش حملوں اور بم دھماکوں کے بارے میں بھی کوئی ثبوت مل رہا ہے نہ ہی کسی علاقے میں ڈرون حملوں کی کوئی خبرہے۔ البتہ اس بات کا ضرورعلم ہے کہ یہاں پرسیاحت کیغرض سے آنے والے سیاحوں کی پل پل کی سرگرمیوں پر حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی خاص نظرہے۔

مجھے حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان میں آنے والے سیاحوں کی سیکورٹی کے لئے خصوصی انتظامات کے بارے میں بھی آگاہی حاصل ہے۔ لیکن اس کے باوجودمختلف حیلے بہانوں کے ذریعے ایک ایسے خطے کی سیاحتی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں سمجھ سے بالاترہیں جس کی معیشت کا دارومدارہی سیاحت پر ہو۔

یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیاحت کے حوالے سے یہ پابندیاں ان علاقوں کے لئے کیوں نہیں جہاں غیرملکی کھلاڑیوں کو سرمیدان موت کی نیندسلادیا جاتا ہو؟ یا جہاں سے غیرملکی جاسوس راتوں رات ملک بدرکئے جاتے ہوں؟ اگرایسے علاقوں میں آنے والے سیاحوں کے لئے کوئی قوائدوضوابط نہیں توپھر گلگت بلتستان کے لئے ان قوائدکی ضرورت کیوں پیش آئی؟

چلومان لیا کہ وفاقی وزارت داخلہ نے وسیع ترملکی مفادکی خاطریہ اقدام اٹھایا تو پھرنوٹیفیکشن میں ان وجوہات کا بھی ذکرموجودہونا چاہیے جن کی بناپرجی بی میں غیرملکیوں کے داخلے کے لئے این اوسی لازمی قراردیا گیا۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس نوٹیفیکشن کا اجراء گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی مرضی ومنشاء سے کیا گیا؟ اگر نہیں تومریم نوازکی طرح وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بھی وفاق کو یہ کہنے میں حق بجانب کیوں نہیں کہ آپ ہمارے لئے آسانیاں پیدانہیں کرسکتے تو کم ازکم مسائل پیداکرنے سے تو اجتناب کرے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔