گلگت بلتستان کی آواز

تحریر : لیاقت علی آزاد
مئی سارگن گلیت تھئی خھچی حال بیلن گلیتیچ گلیتو کرے اختیار بیلن گلگت بلتستان کے قومی شاعر جان علی صاحب نے کافی سال قبل یہ شاعری کی تھی یہ بلکل سچ ثابت ہورہی ۔ آج یہ گانا یہ شاعری بہت یاد آرہی ہے ۔ گلگت بلتستان کے موجودہ حالات نا انصافیاں ‘ آرڈر پر آرڈر دیکھ کر اندازہ ہورہا عوام گلگت بلتستان واقعی بے اختیار ہے بےبس ہے ۔ اپنے علاقے کے اندر ہی پناہ گزینوں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ آج کل تو ہم پر یہ مذاق بھی اڈھایا جارہا کی ہم سیکنڈ کلاس تھرڈ کلاس شہری ہے ۔ یہ بات صرف سیاسی نعروں تک ہی محدود ہے میری دھرتی میری مرضی ۔حقیقت اس کے بر عکس ہے ۔ گلگت بلتستان میں دنیا کے لا محدود وسایل ہونے کے باوجود یہاں کے عوام ضروریات زندگی پورا کرنے اور بھوک مٹانے کے خاطر پاکستان کے مختلف شہروں اور بیرون ملک کا رخ کرتے ہے اور وہاں جا کر مزدوری کرنے پر مجبور ہے ۔ جب کہ پٹھان پنجابی یہاں اکر راتوں رات دولت سرمایہ بنا رہے اور اب تو چائنیز کی آمد بھی شروع ہوچکی ہے اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے پاکستانی سرکار تو 71 سالوں سے ہمارے قیمتی وسایل دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہے ۔ اور بدلے میں ہمیں خیریت کی طرح کا بجٹ دیا جاتا ہے جو اس خطے کے ساتھ کھلا مذاق ہے ۔ ہمارے زمینوں پر جبرن خالصہ سرکار کا نام دے کر قبضہ کیا جارہا اور کہیں ڈیمز بنا کر ہمیں ڈوبایا جارہا ہے ۔ سب سے سنگین مسلہ ہماری ڈیموگرافی کو خطرات درپیش ہے ۔نان لوکل لوگوں کی آمد کا سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے ۔۔۔ حق کی آواز اٹھانے والوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا اے ۔ٹی ۔اے جیسے کالے قانون نافذ ہے ۔حق اور سچ بات کرنے والوں کو طاقت کے زور پر دبانے کی سازش بھی جاری ہے ۔ گلگت بلتستان یوتھ میں بیزاری اور مایوسی کی لہر بھی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے ۔اور ھر فورم پر جدوجہد کا سلسلہ جاری ہے مگر قومی اور بین الاقوامی سطع پر کہیں بھی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ۔۔۔ متحرک قوم پرست ترقی پسند تنظیموں کو بھی طاقت کے زور پر دبانے کی سازشیں جاری ہے !!! پاک چین راہداری جیسا بڈا منصوبہ جو ہماری زمینیں چیر کر گزر رہا ہم سے پوچھا تک نئی گیا ہمیں فریق تسلیم نئی کیا گیا ۔۔۔ ایسی بہت ساری نا انصافیوں اور ظلم بربریت کا سلسلہ جاری ہے ۔کسی کو پروا یا احساس تک نئی ہے یہاں بھی 20 لاکھ عوام رہتے ہے۔یہ بھی انسان ہے ان کے بھی کوئی بنیادی حقوق ہے ! میں عوام گلگت بلتستان کو باور کرانا چاہتا ہوں ۔ پاکستان انڈیا یا یو ۔این یا پاکستان سپریم کورٹ سے کوئی امید کوئی آس لگاے مت بیٹھے ۔۔۔ کسی بھی ملک خطے میں تبدیلی عوام لے کر اتے ہے ۔ آو مل کر پر امن جدوجہد کریں اور اپنے خطے کو مکمل با اختیار بنایئے ۔ مسلہ کشمیر کے حل تک جو ہماری متنازعہ حثیت ہے ۔ اس حثیت کے حساب سے اور یو این کی قراردادوں کے مطابق ہمیں مکمل داخلی خود مختاری حاصل ہو اور ایس ایس آر کو بحال کیا جائے ۔جوکہ ہمارا بنیادی حق ہے ۔ اور ہمارے زمینوں کی بندربانٹ ‘ وسایل کی لوٹ مار بند ہو اور حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ نا انصافیاں بند کی جائے ۔۔۔ 
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments