یونیورسٹی آف چترال کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے خلاف رٹ پٹیشن باقاعدہ سماعت کے لئے منظور

پشاور(نمائندہ ) پشاور ہائی کورٹ کے جٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس لال جان خٹک پر مشتمل ڈویژن بنج نے یونیورسٹی آف چترال کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر بادشاہ منیر بخاری کے خلاف دائر پروفیسرڈاکٹر اسمعیل ولی کے رٹ پٹیشن کی سماعت کی۔

پٹیشنر اسمعیل ولی کے وکیل ممتاز قانون دان محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ چترال یونیورسٹی جیسے اہم تعلیمی ادارے کے لئے پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کرتے ہوئے صوبائی حکومت نے قانون کو پامال کرتے ہوئے ایک مقامی ایم پی اے کی سفارش پر ایسے شخص کو پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیا ہے جوکہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے بھیجے ہوئے سمری میں شامل ہی نہ تھا اور نہ شارٹ لسٹڈ تھا اور یہی سمری ایس این جی ڈی سے منظور ہوکر دستخط کے لئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کے پاس بھیج دی گئی تھی۔تاہم سمری منظور کرنے کے بجائے ایک مقامی ایم پی اے کی سفارش کردہ پروفیسر کے لئے سمری خارج کی گئی اورپروفیسر بادشاہ منیر بخاری کو پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کردیا گیا جوکہ سراسر سیاسی مداخلت ، میرٹ کی پامالی اور قانون شکنی کے زمرے میں آتا ہے اور قابل منسوخی ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعدمقدمہ باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے حکومت اور پروفیسر بادشاہ منیر بخاری کو نوٹس جاری کردیے اور چیف سیکرٹری اور ہائیرایجوکیشن کو14دن کے اندر جواب دینے کا حکم دے دیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments