گلگت بلتستان میں غذائیت کی کمی سے نمٹنے کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ماہرین

گلگت بلتستان میں غذائیت کی کمی سے نمٹنے کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ماہرین

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( پ ر) گلگت بلتستان میں غذائیت کی کمی کا سدباب کرنے اور خوراک کے معیار کو بلند کرنے میں سول سوسائٹی ، تعلیمی ادارے اور میڈیا اہم و موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک مقامی ہوٹل میں غذائیت کے بارے میں منعقدہ مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین غذائیت ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے زمہ داران نے کہا کہ اس اہم ترین مسئلے سے نمٹنے کے لیئے معاشرے کے تمام طبقات کا کردار ضروری ہے۔

پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ گلگت بلتستان میں Scaling Up Nutritionپروگرام کے کنسلٹنٹ برائے گلگت بلتستان ڈاکٹر نادر شاہ نے کہا کہ معاشرے کے مخصوص طبقات خصوصا بچوں اور ماؤں میں غذائیت کی شدید کمی کی وجوہات کثیرالجہتی ہوتی ہیں، اس میں بنیادی وجہ حکومتی سطح پر غذائیت کے بارے میں کم فوقیت کا دینا، اداروں کی جانب سے اسس مسئلے کو کم ترجیح دینا اور ملکی سطح پر غذائیت سے متعلق عوامی شعور میں فقدان بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر نادر شاہ نے مزید کہا کہ دوسری وجوہات کے علاوہ قومی سطح پر زرعی شعبے میں گراوٹ بھی دیکھنے میں آئی ہے ، جس کی بناء پر GDPمیں زریعے شعبے کا شیئر بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان جیسے خطے میں خواتین اور بچوں میں غذائی کیفیت میں دائمی کمی جنوبی ایشیاء میں نمایاں ہے۔ غذائیت کی کمی اور ناہموارو غیر متوازن خوراک سے متعلقہ مسائل کا سبب اس اہم مسئلے کا عوامی سطح پر ادراک نہ ہونا بھی ہے، ناخواندگی اور غربت کی وجہ سے بھی اس مسئلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ورکشاپ کے شرکاء کو غذائیت کی کمی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر شاہ نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے خاص جغرافیائی اور ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے خطے میں عوام کو آیوڈین کی مستقل کمی کا سامنا بھی رہا ہے ، جس کے بارے میں مزید آگاہی و شعور دینے کی بھی ضرورت ہے۔
ورکشاپ میں nutritionکے دیگرماہرین نے بھی اپنی تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ حمل کے ٹہرنے سے بچے کی پیدائش کے بعد تک کے دو سال کاعرصہ جو کہ 1000دن پر مشتمل ہوتے ہیں ، اس دوران غذائیت پر بھرپور توجہ دینے سے غذائیت کی کمی کے مسئلے سے موثر طریقے سے نمٹا جا سکتا ہے ۔ ورکشاپ کے شرکاء کے لیئے سیکریٹری پلاننگ و ڈیولپمنٹ بابر امان بابر نے اپنے خصوصی پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ اس بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیئے میڈیا کے زریعے متوازن و صحت سے بھرپور غذائیت کے حوالے سے خصوصی پیغام عوام تک پہنچانے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ ڈپٹی چیف پلاننگ ڈپارٹمنٹ محمد باقر نے بھی ورکشاپ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر Nutritionکے حوالے اقدامات کونمایاں ترجیح دی جارہی ہے جس میں UNICEF اور حکومت پاکستان کا بھرپور تعاون شامل ہے۔ محکمہ صحت گلگت بلتستان کے فوکل پرسن نیوٹریشنسٹ ڈاکٹر محمد عباس نے بھی ورکشاپ کے شرکاء کو صوبے میں غذائیت کی صورتحال ، مسائل کے سدباب کے لیے کئے جانے والے حکومتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری کوششوں کے بارے میں بتایا۔
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ فوڈ سائنسز کے سربراہ اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر میر ناصر نے بھی غذائیت و خوراک کے حوالے سے یونیورسٹی کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس شعبے میں مقامی سطح پر مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے او ر اس سلسلے میں ماہرین تعلیم کو معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون بھی درکار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کھانوں کو صحت کے اصولوں کے مطابق پکانے اور محفوظ رکھنے کے لیئے جدید سائینسی اصولوں کو بھی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ پکانے کے دوران اہم غذائی اجزاء کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ ورکشاپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے معروف میڈیا پرسن عبدلرحمان بخاری نے کہا کہ غذائیت کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو غیر میعاری اور ناقص اشیائے خورد و نوش کے تدارک کے لیئے بھی سنجیدہ اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں اور بازاروں میں مختلف دکانوں پر دستیاب ناقص چپس، پاپڑ اور کھانے کی دیگر اشیاء عوام میں بالخصوص بچوں میں بیماریوں کوسبب بن رہی ہیں ۔ ان اشیاء کو بازاروں میں بکنے سے روکنے کے لیئے فوڈ اتھارٹی جیسے اداروں کا قیام بھی وقت حاضر کی ضرورت ہے۔
ورکشاپ کے اختتام پر Scaling Up Nutritionپروگرام کے کنسلٹنٹ برائے گلگت بلتستان ڈاکٹر نادر شاہ نے کہا کہ سول سوسائٹی ، تعلیمی اداروں اور میڈیا کے باہمی اشتراک سے پرائیویٹ سیکٹر و پبلک سیکٹر میں غذائیت دوست پالیسیوں کے نفاذ میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا بھی اظہار کیا کہ اس مسئلے کے حوالے سے بتدریج آگاہی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو کہ خوش آئیند امر ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔