کسٹم حکام کو دینے کے لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایک میگا واٹ جنریٹر سوست ڈرائی پورٹ پر پڑا ہونے کا انکشاف

ہنزہ (بیورو رپورٹ) ہنزہ ہائیڈیل پاور ہاوس حسن آباد کے لئے منگوائی گئی ایک میگاواٹ جنریٹر ایک ماہ سے سوست ڈرائی پورٹ پر بے یار ومدد گار پڑا ہوا ہے۔ ہنزہ میں بڑھتی ہوئی بدترین لوڈ شیڈنگ کے باوجود بالا حکام عوامی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر ںہین آتے۔

تفصیلات کے مطابق پانچ سال قبل گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کے لئے ہائیڈرل پاور جنریٹروں کی خریداری کے لئے ٹینڈرز ہوے تھے اور بہت سارے علاقوں میں متعلقہ ٹھیکیداروں نے جنریٹرز نصب بھی کر دئیے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے ہنزہ کے لئے خریدی گئی جنریٹر پانچ سال کے انتظار اور حکام اور ٹھیکیدار کے حیلے بہانوں کی وجہ سے ایک ماہ قبل سوست پورٹ پہنچ گئی۔ تاہم، ٹھیکیدار اور محکمہ برقیات ہنزہ کے پاس کسٹم ادا کرنے کے لئے روپے تک نہیں ہیں۔ اسی لئے ایک میگاواٹ کا جنریٹر سوست ڈرائی پورٹ پر پڑا حکام کا منہ چڑا رہا ہے۔

دوسری طرف محکمہ برقیات ہنزہ کے حکا م اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے بے پرواہ بیٹھے ہوے ہیں۔

عوامی حلقوں نے گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان سے اپیل کی ہے کہ ہنزہ میں بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے کسٹم فیس ادا کر کے ون میگاواٹ ہائیڈرل پاور جنریٹر نصب کیا جائے، تاکہ عوام کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے تھوڑی بہت آرام مل سکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments