ڈگریاں محض تعلیمی اخراجات کی رسیدیں

ڈگریاں محض تعلیمی اخراجات کی رسیدیں

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

لبنان کے معروف فلسفی خلیل جبران لکھتے ہیں
“ابتدائے آفرینش ہی سے رات کی تاریکیاں ہماری روحوں پر مسلط ہیں آخر صبح کب ہوگی ۔۔۔۔۔۔؟ہمارے جسم ایک قید خانہ سے نکل کر دوسرے قید خانہ میں چلے جاتے ہیں اور قومیں ہم پر ہنستی ہمارے پاس سے گزر جاتی ہیں۔آخر ہم قوموں کی ہنسی کب تک برداشت کریں،ہماری گردنیں ایک بھاری جوئے سے چھوٹ کر اس سے بھاری جوئے میں دب جاتی ہیں اور دنیا کی قومیں ہمیں دور سے دیکھ کر ہم پر قہقہے لگاتی ہیں،آخر ہم کب تک قوموں کے قہقہوں پر برداشت کریں ۔۔۔۔؟ہمارے پاؤں ایک زنجیر سے نکل کر دوسری زنجیر میں پھنس جاتے ہیں اور زنجیریں ختم ہوتی ہیں نہ ہم انہیں کاٹ سکتے ہیں ”
(زرد پتے از خلیل جبران)
کسی بھی معاشرے میں بنیادی تعلیم سے اعلیٰ سطح تک معیاری اور سستی تعلیم کی فراہمی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں تحقیق کے بغیر ترقی و خوشحالی یا تعلیمی انقلاب کے خواب کا شرمندہ ء تعبیر ہونا نہایت مشکل ہوتا ہے اور جب کسی ریاست میں تعلیم کے شعبے پر خاص توجہ دی جائے تو وہ ایک بہترین قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرتی ہے ۔پاکستان میں بد قسمتی سے تعلیم کے شعبے پر نہایت کم ہی توجہ دی جاتی ہے یا ناقص نظام تعلیم کے باعث طلباء وطالبات ڈگریوں کے حصول میں کامیاب ضرورہوتے ہیں لیکن عملی زندگی میں کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔کیونکہ پاکستان میں رائج ناقص نظام تعلیم کا بنیادی مقصد ایک محب وطن پاکستانی،ایک اچھا مسلمان یا نوکری کے قابل بنانا ہے جس کے باعث سنجیدہ فکر اور تعمیری سوچ کا فقدان پایا جاتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی میں ساتھواں کانوکیشن وقوع پذیر ہوااور 678طلباء و طالبات ڈگریوں کے حصول میں کامیاب قرار پائے۔یقیناًیہ ایک خوش آئیند بات ہے کہ گلگت بلتستان کے طلباء گھر کی دہلیز پر قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی کی وساطت سے اپنے سینوں کوعلم کی روشنی سے منور کر رہے ہیں لیکن ایک نکتہ غور طلب ہے کہ کیا رنگی برنگی ڈگریوں کے حصول میں کامیاب و کامران قرار پانے والے طلباء و طالبات مستقبل میں زندگی کے مختلف شعبوں میں تحقیق کے ساتھ ساتھ سنجیدہ فکر اور تعمیری سوچ کو زندگی کا نصب العین بنانے میں کامیاب ہونگے۔۔۔۔۔۔؟ یا ڈگری کے حصول کی خوشی محض بے روزگاری کے دروازے پردستک دینے تک قائم رہے گی۔۔۔۔۔؟کیونکہ آج کے دور میں پاکستان خصوصاََ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو استحصالی اور زیادتی کا سامنا ہے۔علاقے میں پرائیوٹ سیکٹر فعال نہ ہونے کے سبب روزگار کا دارومدار گورنمنٹ سیکٹر پر ہی منحصر ہے لیکن  اس میں بھی کرپشن اور اقربہ
پروری کے باعث سیاسی ومذہبی پسند و نا پسندکی بنیاد پر اداروں میں تقرریاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔
کسی بھی معاشرے کا مستقبل نوجوان ہوتے ہیں اور نوجوانوں کی حالتِ زار سے معاشرے کے مستقبل کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن گلگت بلتستان میں اقبال کے شاہینوں کے پرَ ان کی پرواز سے قبل ہی کاٹ دیے گئے ہیں جس کے سبب وہ ابھی تک وطن کی فکر کرنے سے قاصر ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ ناقص نظام تعلیم اورمیرٹ کشی ہے۔پاکستان میں نظام تعلیم تحقیقی بنیادوں پر استوار نہ ہونے کے سبب سب سے زیادہ نمبرات بھی انہی کو دئیے جاتے ہیں جو کتابوں کو رٹ رٹا کر جوں کے توں جواب مرتب کرتے ہیں۔اس کے علاوہ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ نوجوانوں کی قابلیت سنجیدہ فکر اور تعمیری سوچ سے مشروط ہونے کے بجائے انگریزی زبان میں مہارت سے منسلک ہے یعنی جو انگریزی زبان بولنے یا لکھنے میں تھوڑی مہارت رکھتا ہے وہ معاشرے یا تعلیمی ادارے کا سب سے قابل ترین فرد یا طالب تصور کیا جاتا ہے اور تمام نوجوان اسے حسد بھری نگاہوں سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ رشک کرتے ہیں خواہ وہ فکری جمود کا شکار ہو۔حالانکہ دنیا کے ماہرین تعلیم اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ بچے کی بہترین تعلیم اس کی مادری زبان میں ہی ہوسکتی ہے لیکن قومی زبان سے دوری اور انگریزی زبان سے غیر ضروری رغبت کے باعث طلباء کتابوں کو رٹ رٹا کرامتحان پاس تو کر لیتے ہیں لیکن تعلیم کا اصل مقصد یامضمون کی ہیت ماؤف یا زائل ہو جاتا ہیں۔جس کے باعث معاشرہ تعلیم یافتہ ناخواندگی کا شکار ہو جا تا ہے ۔
پاکستان میں گزٹ واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 20 لاکھ نوجوان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوکر محنت کی منڈی میں داخل ہو جاتے ہیں جبکہ روزگار کے موا قع نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔جس کے سبب نوجوان جرائم کی دنیا میں داخل ہوتے ہیںیا منشیات کی دنیا میں اپنے مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنے لگتے ہیں۔اخباری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 6.5فیصد ہے جبکہ گلگت بلتستان میں اس کی صورتحال مزید گھمبیر ہے گلگت بلتستان میں برسرِاقتدار آنے والی ہر حکومت سرکاری اداروں میں تقرریوں میں میرٹ کی بالا دستی کے حوالے سے ببانگ دہل اعلانات اور دعوے تو کرتی ہے لیکن درپردہ میرٹ کشی کا سلسلہ جاری و ساری رہاتا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی (PPP)کی سابقہ حکومت کو غیر تجربہ کاری کے باعث میرٹ کشی کے حوالے سے کئی الزامات کا سامنا کرنا پڑا لیکن مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت میں بھی من پسند افراد کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے ۔وزیر اعلیٰ حفیظ الر حمٰن نے ایک بڑے سیاستدان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ارد گرد کچھ تعلیم یافتہ اور سیاہ کو سفید بنانے میں مہارت رکھنے والا ٹولہ پال رکھا ہے جو نہایت مہارت سے عام عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے میرٹ کا قتلِ عام کرتے ہیں لیکن عوام کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔اس کی واضح مثال محکمہ تعلیم میں کلریکل پوسٹوں کی تقرریاں ہیں جن میں کچھ آسامیاں ٹیسٹ ہونے کے باوجود تاحال بغیر کسی جواز کے تاخیر کے شکار ہیں اور مستقبل میں ان آسامیوں میں بھی من پسند افراد کو کھپانے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔اس کے  علاوہ گزشتہ دنوں سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان میں مشتہر ہونے والی آسامیوں میں ایک آسامی کو بغیر کسی وجہ کے تیسری بار مشتہر کیا گیاحالانکہ اس پوسٹ کا ماضی میں ٹیسٹ
بھی لیا گیا ہے۔آسامیوں کی تقرریوں میں جب عدلیہ میں ہی بے ضابطگیاں پائی جائیں تو عوام دیگر عام اداروں میں میرٹ کی بالادستی کے حوالے سے کیسے امیدیں وابستہ کر سکتے ہیں۔اس کے ساتھ گزشتہ دنوں گلگت بلتستان سیکریٹریٹ میں خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لئے ہونے والے ٹیسٹ میں بھی سخت بے ضابطگیاں دیکھنے کو ملیں جس کے سبب نوجوان میں شدید خدشات کے ساتھ ساتھ نا امیدی پائی جاتی ہے۔
کسی بھی ریاست میں عوام جب اپنی کم علمی ،کوتاہی اور سیاسی شعور کے فقدان کے باعث نااہل حکمرانوں کواقتدار کی باگ دوڈتھما دیں تو معاشرہ ظلم ،نا انصافی اور استحصالی کا شکار ہو جاتا ہے ۔گلگت بلتستان میں نوجوانوں کو مستقبل میں پاکستانی سیاسی پارٹیوں سے امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے جمہور دشمن نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔یہ ایک ننگا سچ ہے کہ جو پاکستانی سیاسی پارٹیاں ملک کے دیگرصوبوں کے عوام کی حالتِ زار بدلنے سے قاصر ہیں وہ بھلا کیسے گلگت بلتستان میں دودھ کی نہریں بہا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟گلگت بلتستان کے باسیوں کو دولت کے انباروں پر قائم اس فرسودہ نظام میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے نظام کو ہی بدلنے کے لئے شعور پیدا کرنے کی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔