مسگر منصوبے کی تکمیل کے بعد خیبر پاور ہاوس کی بجلی سینٹرل ہنزہ کو دی جائے گی، ایم ایل اے عتیقہ غضنفر

مسگر منصوبے کی تکمیل کے بعد خیبر پاور ہاوس کی بجلی سینٹرل ہنزہ کو دی جائے گی، ایم ایل اے عتیقہ غضنفر

19 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ (اکرام نجمی، زوالفقار بیگ، اسلم شاہ) ممبر قانون ساز اسمبلی رانی عتیقہ کا ہنزہ میں بجلی کے بحران کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مسگر گوجال کا پروجیکٹ سے بجلی گوجال کوفراہم کرکے خیبرپاور ہاوس کی بجلی سنٹرل ہنزہ کودی جائے گی، کیونکہ مسگر سے ہنزہ تک لمبی ٹرانسمیشن لائن کی وجہ سے لائین لاسسز زیادہ ہونگے ہماری کوشش ہے کہ ٹرانسمیشن لائین پر بہت جلد کام شروع ہو ۔

شارٹ ٹرم میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے ایک تھرمل جنریٹر کو اکتوبر تک ہنزہ پہنچایا جائیگا اس کے علاوہ حسن آباد دو میگاواٹ اور میون شیناکی پانچ سو کلو واٹ منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہیں انشاااللہ جون 2018تک یہ منصوبے مکمل ہونگے عطا آباد 32.5میگاواٹ منصوبہ بہت اہم ہے فیزیبلٹی رپورٹ مکمل ہوکر جمع کیا گیا ہے اس پر تیرہ ملین کی لاگت آئیگی چائینہ یا جرمنی کے کمپنیوں کو اگر یہ کام دیا گیا تو انشااللہ ایک سال میں یہ منصوبہ مکمل ہوگا اس منصوبے کو پی ایس ڈی پی میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا 25مئی کو گلگت بلتستان کا دورہ متوقع ہے یہ ایشو بھی دورے کے موقعے پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے سامنے رکھا جائیگایہ منصوبہ مستقبل کے ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا جارہا ہے پاور سیکریٹری ظفر وقار تاج سے میری بات ہوئی ہے کہ گنش پل پر پانچ میگاواٹ کا بجلی گھر بھی زیر غور ہے میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عطاآباد 32.5پاورمنصوبے کو سی پیک کا حصہ بنانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 100میگاواٹ سے کم پاور کے پروجیکٹ کو سی پیک میں شامل نہیں کیا جاسکتا جبکہ سی پیک منصوبے میں 100بستروں کا ہسپتال ناصر آباد میں بننے جارہا ہے سی پیک کے زریعے نہ صرف ہنزہ بلکہ پورے گلگت بلتستان میں خوشحالی اور روز گار کے نئے مواقعے اور پروجیکٹس کا جال بچھایا جارہا ہے سی پیک سے علاقے کو بہت فائدہ ملے گا حکومت نوجوانوں کو کیلئے سیاحت کے میدان میں روزگار کے مواقعے پیدا کرنے کیلئے بغیر منافع کے قرضے فراہم کرنے پر غور کررہا ہے خواتین کو باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے ہنزہ میں وویکشنل سنٹر ز کے علاوہ کئی اور منصوبوں پر کام جاری ہے ان کے علاوہ تاریخ میں ہنزہ کا سب سے بڑا اے ڈی پی ستر کروڈ سے زائد کا منظور ہوا ہے جس میں خدا آباد گوجال کاپل مختلف سڑکوں کی مرمت و توسیع کے علاوہ ہیلتھ اور ایجوکیشن کے کئی پروجیکٹس شامل ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔