چترال بلوے میں ملوث افراد پر لگائے گئے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعات واپس

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( محکم الدین ) چترال کے نمایندگان کے ایک وفد نے گذشتہ رو ز ہوم سیکرٹری خیبر پختونخوا سراج احمد خان سے ملاقات کی ۔ وفد میں سابق ایم این اے چترال مولانا عبدالاکبر چترالی ، تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس ،چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر و چیر مین چترال کمیونٹی ڈویلپمنٹ نیٹ ورک سرتاج احمد خان اور سوشل ورکر شاہجہان ساحل شامل تھے ۔ وفد نے سیکرٹری ہوم کو بتایا ۔ کہ چترال میں دہشت گردی ایکٹ کو ہمیشہ غلط اور غیر ضروری استعمال کیا جا رہا ہے ۔ جس سے چترال میں حکومت خصوصا پولیس اور انتظامیہ کے خلاف لوگوں میں انتہائی نفرت امیز رویہ ابھر رہا ہے ۔ جو کہ ہر گز اچھی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سینگور کے مقام پر ایک عام تنازعے میں 179افراد کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ، اُس وقت ڈسٹرکٹ گورنمنٹ چترال نے فوری طور پر دفعات واپس لئے ۔ بعد میں ایون میں جنگل کے تحفظ کی خاطر نکالی گئی ایک ریلی میں شریک 200افراد پر مذکورہ دفعات لگائے گئے ۔ حالانکہ اس ریلی کی وجہ سے ایک تنکے کا بھی نقصان نہیں ہوا تھا ۔ اور اب حالیہ واقعے میں شریک افراد پر 7ATAلگایا گیا ہے ۔ جب کہ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پولیس اس دفعہ کا ناجائز اور غیر ضروری استعمال کررہا ہے ۔ جو کہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔ وفد نے فوری طور پر 7ATAکے دفعات واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ سیکرٹری داخلہ نے گزارشات و حالات و واقعات سننے کے بعد اس بات سے اتفاق کیا ۔ کہ چترال پولیس نے 7ATAکا بے محل استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے ڈی آئی جی انوسٹگیشن سے بات کی اور وفد کو یقین دلایا کہ مذکورہ دفعات کو واپس لینے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ اورمتعلقہ اداروں کے ذریعے اس کو ممکن بنایا جائے گا ، وفد نے سیکرٹری ہوم خیبر پختونخوا سراج احمد خان کو چترال آنے کی دعوت دی ۔ جسے انہوں نے قبول کی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments