ہیگ کی عدالت

ہیگ کی عدالت

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہیگ کی عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی پہلی شکست اور مقدمہ کمزور ہونے کے بعد وفاقی حکومت کو احساس ہوگیا ہے کہ غلطی ہوگئی مزید غلطی کی گنجائش نہیں5سال پہلے بنگلہ دیش میں متحدہ پاکستان کے 9حامیوں کو سزائے موت سنانے کی کاروائی کا آغاز ہوا پہلے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی پھر متحدہ پاکستان کے پہلے حامی کو پھانسی دیدی گئی پاکستان کی حکومت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع نہیں کیا یہ ایسی عدالت ہے جہاں کوئی سیاسی جماعت ،کوئی سماجی تنظیم ،کوئی شہری تنظیم مقدمہ نہیں لے جاسکتی کوئی فرد اپنی فریاد لیکر نہیں جاسکتا 9پاکستانیوں کو یکے بعد دیگرے تختہ دار پر لٹکایا گیامگر عالمی عدالت انصاف کا دروازہ ہماری حکومت نے نہیں کھٹکھٹایا اگر ہماری حکومت عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ لے جاتی تو آج اس عدالت کے سامنے ہمارا موقف مضبوط ہوتا اور ہماری حکومت بہتر پوزیشن میں ہوتی اب جس مقدمے میں پاکستان کو پہلی شکست کا سامنا ہوا وہ بھارتی دہشت گرد اور جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی فوجی عدالت سے دی گئی سزائے موت کا مقدمہ ہے بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں استدعا کی تھی کہ سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا جائے عدالت نے عمل درآمد روک دیا اب بھارت استدعا کرے گی کہ سزائے موت کو معطل کیا جائے عالمی عدالت انصاف بھارتی درخواست پر سزائے موت کو معطل کریگی یا عمر قید میں تبدیل کرے گی کلبھوشن یادیو کے جرائم کی فہرست طویل ہے تین جرائم کے ثبوت اس کو سزائے موت دینے کے لئے کافی ہیں وہ بھارتی نیوی کا حاضر سروس افیسر ہے اور جاسوسی کے لئے ایران کے راستے نام تبدیل کرکے پاکستان میں داخل ہوا ہے دوسرا جرم یہ ہے کہ اس نے دہشت گردوں کی تربیت کا کام کیا ہے دہشت گردوں کو معاوضہ اور اسلحہ دیا ہے تیسرا جرم یہ ہے کہ اس نے دہشت گردی کے واقعات میں دوہزار سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو قتل کیا ہے اور اس کا پھیلایا ہوا نیٹ ورک اب بھی کام کرتا ہے جس جرم کا بہانہ بنا کر اجمل قصاب اور افضل گھورو کو بھارت میں سزائے موت دی گئی ، کلبھوشن یادیو پر ایسا ہی جرم ثابت ہوچکا ہے اور ایک بار نہیں بار بار ثابت ہوچکا ہے مگر ہمارا سسٹم ناکارہ ہوچکا ہے کلبھوشن یادیو کو تین ماہ پہلے سزائے موت ہونی چاہئے تھی ایسے گھناونے جرائم میں ملوث مجرم کو ڈھیل اور مہلت دینے سے مسائل میں الجھاؤ پیدا ہوتا ہے یہ 18اگست 1948کا واقعہ ہے قائد اعظم زیارت میں زیر علاج تھے سکردو کے محاذ پر کھریچو کے قلعے کو فتح کرنے کے بعدبھارتی فوج کے کرنل ایس کے تھاپا اور کپیٹن گنگا سنگھ کو گرفتار کیا گیا 14اگست سے 18اگست تک قیدیوں کے ساتھ ساتھ ان افیسروں سے بھی تفتیش جاری رہی 18اگست کو پاکستانی مجاہدین کے کمانڈرشہزادہ مطاع الملک نے کیپٹن گنگا سنگھ کو سزائے موت دینے کا حکم دیا اس کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتاراگیا۔ ایک گھنٹہ بعد ہیڈ کوارٹر سے میجر غلام جیلانی کا وائر لیس میسج آیا کیپٹن گنگا سنگھ اور کرنل تھاپا کولینے ہیلی کاپٹر بھیجا جارہا ہے دونوں کو راولپنڈی روانہ کرنے کے انتظامات کرو شہزادہ مطاع الملک نے جواب دیا کرنل تھاپا کو بھیجا جائے گاگنگا سنگھ کو سزائے موت دی جاچکی ہے اس خبر پر راولپنڈی سے لیکر کراچی تک کہرام مچ گیادراصل کیپٹن گنگا سنگھ کی رہائی کے لئے بھارت کی طرف سے بیگم رعنا لیاقت علی خان سے رابطہ کیا گیا وزیر اعظم کے دفتر سے اس کو رہا کرنے کے احکامات موصول ہوئے تھے کرنل تھاپا کا نام خانہ پری کے لئے اس میں شامل کیا گیا تھا سفارش گنگا سنگھ کو بچانے کے لئے آئی تھی سکردو کا سٹیشن کمانڈرچترالی باڈی گارڈکے رضا کار فورس کا افسر تھا اس نے موقع پر فوری انصاف کے اصول کے تحت گنگا سنگھ کو کھڑکا دیا تھا کلبھوشن یادیو کوبھی گنگا سنگھ کی طرح فوری انصاف کے اصول کے تحت کھڑ کا دیا جاتا تو بانس بھی نہ رہتا بانسری بھی نہ بجتی اگرچہ عالمی عدالت انصاف کے سامنے پاکستان کا جواب دعویٰ کمزور نہیں ہمارا موقف قانون کے مطابق درست ہے کلبھوشن یادیو کے خلاف شواہد موجود ہیں فوجی عدالت نے شواہد کی بنیاد پر سزائے موت سنائی ہے مگر ہیگ کی عدالت دشمن کی لگائی ہوئی عدالت ہے اس میں شواہد نہیں دیکھے جاتے بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کا اثرو رسوخ پاکستان سے زیادہ ہے اس لئے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہم نے کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے میں تاخیر کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے کلبھوشن کا انجام گنگا سنگھ جیسا ہونا چاہیے تھا مگر منیر نیازی کا مصرعہ ہم پر صادق آتا ہے ’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘‘۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔