گلگت بلتستان کے عوام اپنی منزل کا تعین کریں

ممتازعباس شگری

کسی قوم کی ترقی وکامرانی میں اس قوم کے عوام کا کردارسب سے اہم ہوتی ہے جب تک وہ قوم اپنی ترقی کیلئے جدوجہدنہیں کرتاکوئی بھی اس کی ترقی کیلئے قدم نہیں اُٹھاتا،اگرہم تاریخ پاکستان پرہی روشنی ڈالیں توسب کچھ عیاں ہوجائے گا،پاکستان اللہ تعالیٰ کی خاض نعمت کے ساتھ ساتھ ہمارے بزرگوں کا خاص تحفہ ہے جنہوں نے خون کے نذرانے پیش کرکے یہ وطن ہندوں اورانگریزوں کے منہ سے چھین لیے ،تاکہ مسلمان ایک آزادمملکت میں دین اسلام کی پیروی کرتے ہوئے زندگی بسرکرسکیں،1906ء میں آل انڈیامسلم لیگ کاقیام پاکستان بنانے کیلئے جدوجہدکاآغازتھا اس دن سے پاکستان کو الگ ریاست بنانے کی سعی کا آغازہوگیاتھا،مسلم لیگ کے قیام نے مسلمانوں میں ایک نئی رح پھونک دی اس د ن سے مسلمان اپنی حقوق کے حصول کیلئے آل انڈیامسلم لیگ کی پلیٹ فارم پرجمع ہوگئے مسلمان آپس میں متحدہوگئے ،مسلمانوں کی جدوجہدکاسلسلہ آگے بڑھتارہایوں سن 1940 ء میں لاہورکے مقام پرایک تاریخی جلسے کا انعقادکیا گیاجس میں ایک قراردارقرادادپاکستان کے نام سے منظورکرلیا ،اس قراردادمیں نوزائیدہ مملکت کا نام پاکستان رکھنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے حصول کیلئے کوششوں کو مزید تیزکرنے کا عندیدہ بھی دے دیا،اسی دن قائداعظم سمیت مسلم رہنماؤں نے اپنی منزل کاتعین کرچکاتھاعوام نے بھی ان کے ہاتھ میں ہاتھ ملاکرچلنے کی یقین دہانی کردی لوگ پاکستان کے حصول کیلئے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھوبیٹھنے کو تیارتھا،بالاآخرچودہ اگست 1947کووہ اپنے منزل کی حصول میں کامیاب ہوگیا، کیونکہ انہوں نے اپنے منزل کی تعین کرنے کے بعدہی آزادی کیلئے جدوجہد کا آغازکیا تھا یوں وہ پوری دنیاکوحیران کرتے ہوئے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اورآج کا پاکستان انہی بزرگوں اورشہیدوں کی جدوجہداوربروقت منزل تعین کرنے کاثمرہے۔

اب ہم گلگت بلتستان کی موجودہ صوتحال پرنظرڈالنے کی کوشش کرتے ہیں،کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پرایک طوفان اس وقت کھڑاہوگیا جب گلگت بلتستان آرڈر2018کی تفصیلات سامنے آگیا،تحقیقات کرنے پرمعلوم ہواکہ میں پہاڑوں کی سرزمین کے باسیوں کے اختیارات کامنبع وزیراعظم پاکستان کو بنایاگیاہے،جس کے تحت بلتستان ایگزیکٹواتھارٹی،قانون سازی اورمالی معاملات سمیت تما م ٹیکسزجوکہ بے آئین گلگت بلتستان کے عوام اورایکشن کمیٹی کی بدولت کچھ ہی عرصہ پہلے ختم کردیاگیا تھا لاگوکرنے کااختیاروزیراعظم پاکستان کو دیاگیا ہے،نئے آرڈرکے تحت ججزکی تقرری بھی کمیٹی کی سفارشات کوپیش نظررکھتے ہوئے وزیراعظم تقررکریں گے،گلگت بلتستان آرڈر2018کے تحت گلگت بلتستان کی کوئی بھی عدالت بشمول سپریم اپیلٹ کورٹ اورچیف کورٹ سوال یا اعتراض نہیں اٹھائے گا عجب منتق یہ بھی شامل تھا کہ گلگت بلتستان کی کی عدالت کا فیصلہ کسی دوسرے صوبے پرکوئی اثرنہیں کرے گاساتھ ہی وزیراعظم کوبھی ان فیصلوں سے مستثنا ہوگا،مطلب پورے گلگت بلتستان کو وزیراعظم کے حوالے کردیاگیا اورسترسالوں سے حقوق سے محروم گلگت بلتستان کے باسیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا،یہ تما م خبریں صبح صادق کیساتھ گلگت بلتستان کی اخباروں کے لیٹ میں سپرلیٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب بھی ہوگئے ،دن بھر لوگ اس ارڈرکو پڑھ کرمایوسی کے عالم میں گم ہوکر سرپکڑتے رہے لیکن امید کی کرن اس وقت جھاگ اُٹھی جب اگلی صبح اخبارات کی سرخیوں میں یہ خبریں پڑھنے کو ملی کہ قومی سلامتی کمیٹی نے گلگت بلتستان کے مجوزہ انتظامی اصطلاحات کے پیکج کومستردکرتے ہوئے عوامی امنگوں کے مطابق بنانے کی ہدایت جاری کردی ہے جس کے بعدڈرافٹ کی منظوری موخرکردی گئی ہے،اب 14مئی کو اجلاس طلب کیا ہے جسکی صدارتی ذمہ داری وزیراعظم پاکستان جناب شاہدخاقان عباسی صاحب فرمائیں گے،جس میں گلگت بلتستان کے تمام اسٹیک ہولڈزکومدعوکیاگیاہے۔اب گلگت بلتستان کے باسیوں کے ذہنوں میںیہ سوالات جنم لے رہے ہیں کیا وہاں پرہمارے نمائندے ایک ہی منزل تعین کرنے میں کامیاب ہونگے یاماضی کی طرح آپس کی اختلافات کو ہوادیتے ہوئے عوامی امنگوں کا قتل عام کرنے میں کامیاب ہونگے۔کیونکہ یہاں توہرکوئی اپنی رائے پیش کرنے سے گریزنہیں کررہا،کوئی سرتاج عزیزسیٹ اپ کو برقراررکھتے ہوئے عبوری آئینی صوبہ بنانے کی حق میں ہے توکوئی کوئی مکمل سیٹ اپ کے ساتھ صوبہ بناو تحریک کا حصہ بناہواہے،کوئی موجودہ نظام کو برقراررکھتے ہوئے مزیداختیارات کی بات کررہی ہے توکوئی کشمیرطرزکی سیٹ اپ کا ڈیمانڈکرتے ہوئے نظرآرہاہے،ان سب مطالبات کے سبب عوام مکمل طورپرکنفیوژن کا شکارہے،اہل گلگت بلتستان مختلف گروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں کیونکہ کوئی صوبہ بناو تحریک کے ساتھ ہے توکوئی سرتاج عزیزسیٹ اپ کے حامی ہے ۔کوئی مزیداختیات کے حق میں آوازبلندکررہاہے توکوئی کشمیرطرزکی سیٹ اپ کیلئے نعرہ لگارہاہے۔لیکن ایک ہی رائے کو منزل بناکرحقوق کی جنگ لڑنے کیلئے کوئی بھی تیارنہیں، کیونکہ ہرکسی کو اپنی رائے مقدم لگ رہاہے، اگرہم واقعی میں حقوق کیلئے اُٹھ کھڑاہوناچاہتے ہیں اگرہمیں واقعی حقوق کیلئے سعی کرناہے توتما م لوگوں کو چاہے وہ حکومتی طبقہ ہویاپوزیشن،سیاسی طبقہ ہویامذہبی ایک ہی پیلٹ فارم پرجمع ہوکراپنے حقوق کیلئے آوازبلندکریں ۔تبی ہم سترسالوں سے محرومی کا ازالہ کرنے میں کامیاب ہوں گے،اوراگرہم آج بھی ایک قوم کی شکل میں حقوق کی جنگ لڑنے میں کامیاب نہیں ہواتوہم نہ آئینی صوبہ بن پائیں گے نہ مکمل سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے،اورہماری صفوں میں موجود کدورتوں ،عداوتوں اورنفرتوں کی آگ کو مزیدفروغ ملے گا لوگ ہم پرہنستے رہیں گے ،ہم آئینی حقوق کی ماتم کرنے پرمجبورہوتے رہیں گے۔ابھی بھی وقت ہے اپنی حقوق کے پیش نظرگلگت بلتستان کے عوام اپنی منزل کا تعین کرکے ایک ہی سمیت میں جنگ لڑے توکامیابی حاصل کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments