پیپلز پارٹی اگر محکمہ جنگلات میں کرپشن اور ٹمبر پالیسی کی آڑ میں ہیراپھیری ثابت کریں تو وزارت چھوڑ دوں گا۔ صوبائی وزیر جنگلات

پیپلز پارٹی اگر محکمہ جنگلات میں کرپشن اور ٹمبر پالیسی کی آڑ میں ہیراپھیری ثابت کریں تو وزارت چھوڑ دوں گا۔ صوبائی وزیر جنگلات

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( پ ر) صوبائی وزیر جنگلات و ماحولیات عمران وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے لیڈران اگر محکمہ جنگلات میں کرپشن اور ٹمبر پالیسی کی آڑ میں ہیراپھیری ثابت کریں تو وہ وزارت چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 6ہزار سے 56ہزار فٹ کے پرمٹ بنائے جانے اور ٹیمپرنگ کا کوئی واقعہ ہوا بھی ہے تو یہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہوا ہوگا۔ صوبائی وزیر جنگلات نے مزید کہا کہ میں امجد ایڈوکیٹ کو میں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ٹمپرنگ ثابت کریں، ہمارے دور حکومت میں عوام کی سہولت کے لیے صرف تعمیراتی مقاصد کے لیے لکڑی کی ترسیل پر سے عارضی طور پر پابندی اٹھائی گئی تھی، تاکہ عوام اپنے گھروں کی تعمیر کے لیے ضروری میٹریل جمع کرسکیں۔ ان پرمٹوں پر بھی جرمانے اور فیس کی مد میں حکومت کو معقول آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ محکمہ جنگلات باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد مکانوں کے نقشے اور دیگر لوازمات کی تصدیق کے بعد ہی عوام کو پرمٹ ایشو کرتا ہے جس کے بعد کٹ میٹریل کی شکل میں لکڑی کے لیے پرمٹ مہیا کئے جا رہے تھے۔ صوبائی وزیر جنگلات نے آگاہ کیا کہ پچھلے ڈیڑھ مہینوں سے عارضی طور پرغیر معینہ مدت کے لیے پرمٹ جاری کرنے پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ محکمہ جنگلات صوبائی حکومت کا وہ ادارہ ہے جو کہ غیر قانونی طور پر جنگلات کی کٹائی کو ناممکن بنانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ضبط شدہ لکڑی کی نیلامی کی مد میں بھی محکمہ جنگلات گورنمٹ کے خزانے میں کروڑوں روپے جمع کراتا ہے۔ صوبائی وزیر جنگلات نے اپنے بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت زبانی جمع خرچ اور اخباری بیانات کے زریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان کے ٹمبر پالیسی کی منظوری کا اعلان وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اپنے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پرکریں گے۔ گلگت بلتستان میں موجودہ حکومت کے دور میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر شجرکاری ہوئی ہے اور تمام اضلاع میں 10لاکھ سے زیادہ پودے لگائے جاچکے ہیں،اور سابقہ دور حکومت کی طرح یہ کوئی زبانی یا کاغذی دعوی نہیں بلکہ ان کے محکمے کے پاس ان تمام لوگوں کا ڈیٹا دستیاب ہے جنہوں نے اپنی اراضی پر محکمہ جنگلات کے تعاون سے نئے پودے لگائے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔