یونیورسٹی آف چترال کی کامیابی عوام کی بھر پور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری

یونیورسٹی آف چترال کی کامیابی عوام کی بھر پور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد)چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف چترال کی کامیابی عوام کی بھر پور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے جو کہ بنیادی اسٹیک ہولڈر ہیں جن کی اخلاقی، سیاسی، معاشرتی سپورٹ کی ہردم اورہر مرحلے میں ضرورت رہے گی اور اس موقع پر سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر سوچ کو پروان چڑہانا یونیورسٹی کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہوگا جوکہ ترقی کی راہ میں سب سے بڑا رکاوٹ بنے گا۔ پیر کے روز چترال پریس کلب کے ‘مہراکہ’پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یونیورسٹی آف چترال کی قیام کے حوالے سے لئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ایک ماہ پہلے اپنی تعیناتی کے بعد سے اب تک انہوں نے پراجیکٹ کی پی ۔سی ون کی تیاری سے لے کر ان تمام امور کی کاغذی کاروائی بھی مکمل کرکے رکھ دی ہے جن کی چھ ماہ بعد ضرورت ہوگی اور یہ بات باعث مسرت ہے کہ صوبائی حکومت نے 314میلین روپے ریلیز کردی ہے جس سے ابتدائی کام شروع کردئیے گئے ہیں جبکہ وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت تقریباً تین ارب روپے آنے والے بجٹ میں اس پراجیکٹ کے لئے منظور کی ہے ۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی کے قیام کے پہلے تین سال تک یونیورسٹی کے ملازمین کے جملہ اخراجات کو صوبائی حکومت برداشت کرے گی جس کے بعد اس کی فنڈنگ ہائیر ایجوکیشن کمیشن باقاعدہ بنیادوں پر کرے گی اور اس وقت دونوں حکومتیں اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کردی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ چترال میں پہلے سے قائم دو مختلف یونیورسٹیوں عبدالولی خان یونیورسٹی اور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے غیر معیاری کیمپس یہاں قائم تھے جن کے غیر ضروری ملازمیں یونیورسٹی آف چترال پر بوجھ بننے والے ہیں کیونکہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے کیمپس میں ملازمیں کی تعداد 80سے ذیادہ جبکہ طلباء وطالبات کی تعداد صرف 64تھی ۔ ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے کہاکہ ہم نے یونیورسٹی آف چترال کے قیام کے تناظرمیں تین مختلف موضوعات پر سوشل سروے مکمل کروادئیے ہیں جن میں علاقے کی تعلیمی ، معاشی اور معاشرتی خدوخال نمایان ہورہے ہیں اور یونیورسٹی کی منصوبہ بندی میں ان جمع شدہ حقائق کو ہی پیش نظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی آف چترال محض ڈگری دینے کا ایک ادارہ نہیں ہوگا بلکہ اس یونیورسٹی سے علاقے میں ترقی کی راہیں کھل جائیں گے اور نئی جہت کا تعین ہوگا جوکہ ترقی کی منزل کی نشاندہی کریں گے جبکہ اب چترال کے لئے بھی وہ مرحلہ آگیا ہے کہ ہم تعلیمی میں مقدار کی بجائے معیارکی طرف قدم بڑہائیں اور اعلیٰ تعلیم کو بامقصد بنیادوں پر استوار کریں جوکہ ترقی کے مختلف سیکٹروں میں ہمیں آگے بڑھنے کا باعث بن سکیں اور ہمیں آنے والے پچاس سالوں کے لئے سوچ کر چلنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ملازمتوں پربھرتی میں میرٹ کی بالادستی کو ہرصورت مقدم رکھا جائے گا اور کوئی سیاسی دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا تاکہ اسے ایک معیاری تعلیمی درسگا ہ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ انہوں نے حاضریں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی کیمپس چترال شہرکے اندر یا قریبی مضافات میں ہونا ناگزیر ہے جس کے لئے کئی مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے جن میں سین لشٹ (431کنال )، دولوموچ(439کنال )، سنگور (534کنال) ، گمبس بروز )606کنال ) اور ایون (405کنال ) شامل ہیں جن میں سے کسی ایک انتخاب کیاجائے گاکیونکہ یونیورسٹی کے لئے کم ازکم چار سو کنال زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقت کے ساتھ ساتھ ضلعے کے مختلف وادیوں میں اس یونیورسٹی کے سب کیمپس کھولے جائیں گے جہاں بی۔ ایس پروگرام کی ابتدائی دو سال کی تعلیم دی جائے گی جس کے بعد باقی دوسال کے لئے انہیں کمیپس آنا ہوگا۔ انہوں نے تیاریوں کے سلسلے میں مزید کہاکہ یونیورسٹی کے امور میں مشاورت کے لئے ایک ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے حضرات کوشامل کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر حاضریں نے مختلف تجاویز بھی پیش کئے۔ آغا خان ایجوکیشن سروس کے جنرل منیجر بریگیڈیر (ر) خوش محمد خان نے کہا کہ چترال میں معیاری تعلیم کی شدید فقدان ہے جس کا اندازہ پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری رکھنے والے امیدواروں کی مختلف اسامیوں کے لئے انٹرویوز سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ ڈگری کے مطابق قابلیت پیدا کرنے کے لئے اس یونیورسٹی کو سب سے ذیادہ اہمیت دینی ہوگی جسے یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے سامنے ٹارگٹ کے طور پر رکھنا چاہئے۔ اس موقع پر پروگرام کے moderatorڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کہا کہ یونیورسٹی آف چترال میں اعلیٰ تعلیمی معیار قائم کرنا ، اس کے امتحانات کے نظام کو صاف ، شفاف اور کرپشن سے پاک کرنا اور ڈگری اور قابلیت میں مطابقت پیدا کرنا اور اسے سیاست سے دور رکھ کر میرٹ کی عملداری کو یقینی بنانا ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چترال پریس کلب کے صدر ظہیرالدین نے مہراکہ پروگرام کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی آف چترال لواری ٹنل پراجیکٹ کی طرح ایک خواب تھا جوکہ اب شرمندہ تعبیر ہونے کے قریب ہے اور اس پراجیکٹ کے حوالے سے عوام کو مختلف قیاس آرائیوں اور افواہوں کی بجائے درست معلومات کی فراہمی کے لئے یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کا مہراکہ پروگرام میں مدعو کیا گیا تھا۔ مہراکہ پروگرام میں گورنمنٹ کالج آف کامرس کے پرنسپل پروفیسر صاحب الدین، گورنمنٹ کالج چترال کے پرنسپل پروفیسر افضل الدین، قاری جمال عبدالناصر ، سابق ڈائرکٹر انفارمیشن محمد یوسف شہزاد، مسرور علی شاہ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، پروفیسر محمد دوست، محمد عرفان عرفان، پروفیسر حسام الدین، رحیم اللہ، صلاح الدین طوفان، اسسٹنٹ پروفیسر شفیق احمد، صدیق احمد، عاصم محمد، محمد اسد، ندیم احمد، میر کمال الدین، فرید عالم بیگ، فضل الرحمن، فرید الرحمن، تنزیل الرحمن، بابر الدین، عتیق احمد، محمد صابر، ناص

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔