آزاد اور باقاعدہ عدالتی نظام گلگت بلتستان کی ضرورت

آزاد اور باقاعدہ عدالتی نظام گلگت بلتستان کی ضرورت

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: انجینئر تحسین علی رانا

گلگت بلتستان میں عدلیہ طرز کے نظام کی غیر شفافیت کا یہ حال ہے کہ وزیر قانون و پبلک ورکس ڈاکٹر اقبال (نظام کا حال دیکھیں کہ خود ڈاکٹر ہے لیکن انجینئرنگ اور قانون کا وزیر ہے صحت کا نہیں) کا بیان اخبارات کی زینت بنا کہ ججز کے تقرر میں میرٹ ہی نہیں ہے اور نہ ہی عدالتوں میں انصاف مل رہا ہے۔ درحقیقت یہ لولا لنگڑا نظام مکمل طور پر میرٹ سے خالی ہے۔ ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے نتیجے میں بننے والے اس نظام میں وزراء سے لیکر ججز تک اور اساتذہ سے لیکر ڈاکٹرز تک سب ہی میرٹ کی پامالی کو خوب انجوائے کررہے ہیں۔ اگر یہ نظام آئینی تحفظ رکھتا اور عدلیہ انتظامیہ سے الگ خودمختار حیثیت رکھتی تو آج عدلیہ سمیت ہر ادارے میں میرٹ کی پامالی نہ ہوتی، نہ ہی ایک ڈاکٹر انجینئرنگ اور قانون کا وزیر ہوتا، جہاں جج صاحبان تین سال کی ملازمت کے بعد پوری زندگی پنشن اور دیگر مراعات سے مستفید ہورہے ہوں ایسا نظام سوائے گلگت بلتستان کے کہیں نہیں ہے۔ اچھی تنخواہ کے ساتھ تین سال جج کی نوکری اور پھر باقی زندگی بھر کی مراعات کے لئے وکلاء حضرات سیاسی اور زاتی اثر رسوخ استعمال کرتے ہیں اور میرٹ کی پامالی کرتے ہوئے ناجائز طریقے استعمال کرتے ہیں اور۔ پھر ایسے جج سے انصاف نہیں بلکہ انصاف کا قتل ہوتا ہے اور میرٹ کی پامالی کا رونا عام آدمی تو روتا ہی ہے ساتھ ساتھ ارباب اقتدار اور وزراء کو بھی بیانات دینا پڑتے ہیں۔

ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان میں عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرکے خودمختار بنا دے اور تین سالہ کنٹریکٹ کے طریقے کو ختم کرتے ہوئے باقاعدہ عدالتی نظام رائج کرے جہاں ججز سنیارٹی اور نوکری کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کا حصہ بنیں۔ تین سال کی ملازمت کے بعد ساری زندگی کی مراعات نہ صرف انصاف کا قتل ہے بلکہ پنشن کو بدنام کرنے کی سازش بھی۔ انتظامیہ سے آزاد اور خودمختار مکمل عدالتی نظام گلگت بلتستان کی ضرورت ہے، اسی سے عدلیہ سمیت تمام اداروں میں میرٹ کی پامالی کا خاتمہ ہوگا ڈاکٹر صحت کا وزیر بنے گا ، انجینئر انجینئرنگ کا اور وکیل قانون کا وزیر بنے گا اور اسی سے ہی انصاف کا حصول ہر کسی کے لئے ممکن ہوسکے گا۔

گلگت بلتستان کی قوم سے، سیاسی و سماجی قیادت سے اور بالخصوص نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں آزاد اور انتظامیہ سے الگ مکمل عدالتی نظام کے لئے آواز بلند کریں تاکہ معاشرہ ترقی کی منزلیں طے کرسکے اور ہر کسی کو انصاف اور اسکا حق مل سکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔