آوٹ آف اسکول بچوں کے مستقبل کا ذمہ دارکون؟

آوٹ آف اسکول بچوں کے مستقبل کا ذمہ دارکون؟

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

صفدرعلی صفدر

اقوام متحدہ کے بچوں پرکام کرنے والے ادارے(یونیسیف)نے گلگت بلتستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کے حوالے سے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ جس کے مطابق گلگت بلتستان میں پری پرائمری اور پرائمری سطح کے 65جبکہ مڈل اسکول لیول کے55فیصد بچے اسکول جانے سے قاصرہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کی تیرہ لاکھ آبادی میں سے صرف پرائمری لیول کے تخمیناً سترہزاربچے تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ مڈل لیول کے55فیصد تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسکول نہ جانے والوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد قدرے زیادہ ہے، جن میں شہر کی نسبت دیہی علاقوں کے بچے اکثریت میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے ضلع دیامرمیں بالغ شرح خواندگی سب سے کم جبکہ ضلع ہنزہ میں سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں غربت کو حصولِ تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قراردیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ سرکاری اسکولوں میں مفت تعلیمی سہولیات دستیاب ہیں مگردوردرازعلاقوں سے اسکول جانے والے بچوں کے سفر ،درسی کُتب، جیب خرچ اور دیگرضروری اشیاء کی خریداری پر اُٹھنے والے اخراجات غریب والدین کی استعدادکار میں نہیں۔ علاوہ ازیں بعض علاقوں میں معاشرتی ماحول کے تناظرمیں بچیوں کو اسکول آنے جانے کے حوالے سے غیرمحفوظ قراردیا جاتا ہے جبکہ بعض علاقوں میں قدامت پسندانہ سوچ بچیوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

تاہم مجموعی طورپروالدین کے لئے اپنے بچوں کوسکول میں داخل کرانے کے حوالے سے جس مسئلے کا سامنا ہے وہ دیہی علاقوں میں مناسب فاصلے پرتعلیمی اداروں کی عدم دستیابی ہے ۔ اکثردیہاتوں میں گھرسے اسکول کے درمیان میلوں کا فاصلہ ہوتا ہے جس کے باعث والدین طرح طرح کے موسمی حالات اورقدرتی آفات کے خطرات کے پیش نظراپنے بچوں کو اسکول بھیجوانے سے گریزاں ہیں۔

رپورٹ میں ان رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے چنداہم تجاویزبھی دی گئی ہیں جن میں کمزورمعاشی حالت کے حامل گھرانوں کے بچوں کو حکومت کی جانب سے خصوصی مراعات دینے کی سفارش کی گئی ہے ۔ ان مراعات میں مفت درسی کتب ، سفری اخراجات اور دیگربنیادی ضروریات کے لئے حکومت کی جانب سے مشروط رقم کی فراہمی، تعلیمی اداروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا اور مربوط تعلیمی پالیسیاں مرتب کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

اسی طرح اسکولوں میں زیادہ سے زیادہ بچوں کی حاضری کو یقینی بنانے اور والدین کے اندرتعلیمی شعوراجاگرکرنے کے لئے اساتذہ، سکول منیجمنٹ کمیٹی اور علاقے کے بااثرافراد بشمول مذہبی رہنماؤں کے کردارکو بھی انتہائی اہمیت کا حامل قراردیا گیا ہے۔علاوہ ازیں رپورٹ میںآئین پاکستان کے آرٹیکل25-Aپرسختی سے عملدرآمدکرانے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جس کے مطابق پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کومفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری قراردی گئی ہے۔

یہ رپورٹ یونیسیف کی جانب سے سال2015میں گلگت بلتستان میں منعقدہ سروے کی بنیادپر مرتب کی گئی ہے۔ سروے کے انعقاد کے لئے ادارے نے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز(لمز) کی خدمات حاصل کی تھیں جبکہ محکمہ تعلیم گلگت بلتستان اور وفاقی وزارت تعلیم وفنی

تربیت کابھی تعاون حاصل رہا۔ سترسے زائدصفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بہت سارے ایشوز اور عوامل کا ذکرموجود ہے ، لیکن ان سب کا ایک ہی مضمون میں تفصیل سے احاطہ کرنا ممکن نہیں۔
چنانچہ اوپر کے پیراگراف میں چند چیدہ چیدہ نکات پر ہی خامہ فرسائی کی کوشش کی گئی ہے جو گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔ وہ اس لحاظ سے کہ گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت اقتدارمیں آنے سے اب تک ہرفورم پر تعلیمی اصلاحات کا ڈھنڈوراپیٹتی رہی مگر عملاً اقتدار کا دوسالہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجود تعلیمی اصلاحات اور علم کی روشنی سے محروم بچوں کے مستقبل کے حوالے سے کوئی خاطرخواہ اقدامات اٹھائے نظرنہیں آئے۔

صوبائی حکومت کے ابتدائی دنوں میں تووزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی باتوں اور دعوؤں سے یوں لگ رہا تھا کہ ان کی حکومت بہت جلدعلاقے میں کوئی انقلاب برپاکریگی جس کے تحت علاقے میں ہرطرف ترقی کاروردورہ ہوگا، غربت اور بیروزگاری کا نام ونشان نہیں رہے گا، ہرگاؤں میں اسکول اور ڈسپنسریاں تعمیرہونگیں،کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، کوئی مریض ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی اور ادویات کے فقدان کی شکایت نہیں کریگا، ہرگھرمیں پینے کے لئے صاف پانی میئسر ہوگا،تمام مرکزی سڑکیں اور لنک روڈز شیشے کی صاف مانند نظرآئیں گے، سرکاری محکموں میں کرپشن اور اقرباپروری کا جڑسے خاتمہ ہوگا، سفارش اور رشوت کلچرہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہوجائیگا، کسی غریب یا مسکین کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی ، ہرشخص خوشحال اور خوش باش نظرآئیگا ،وغیرہ وغیرہ۔

لیکن بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ کے ان دعوؤں کے نتائج حقائق کے برعکس نکلنا شروع ہوگئے۔ آج سوائے چندایک اقدامات کے باقی تمام دعوے وہی کے وہی ہیں جوسابق وزیراعلیٰ سیدمہدی شاہ کے دورحکومت میں تھے۔ اگرکسی کومیری ان باتوں پر یقین نہیں آرہا تو ذرا دوردراز علاقوں میں جاکرعوام کی حالت دیکھ لیں تو بخوبی اندازہ ہوگا کہ صوبائی حکومت نے اپنے اقتدارکے ان دوسالوں میں عوام کو کیا گل کھلایا ہے۔

تھوڑی بہت کام اگرہوتا ہوا نظرآتابھی ہے تو وہ وزیراعلیٰ کے اپنے حلقے میں ہے ۔ وہ بھی ابتدائی دنوں میں گلی محلوں سے گندگی اور کچرہ اٹھانے کا نظام، ایک محلے کے لئے پینے کے صاف پانی کا منصوبہ ،کچھ نامکمل منصوبوں پر کام کی رفتارمیں تیزی اور این ٹی ایس کے ذریعے سرکاری ملازمین کی بھرتیوں کی حدتک۔باقی حلقوں میں تو صورتحال پہلے سے بھی ابتری کا شکار ہے۔

دعوے تو یہاں تک کئے گئے بلکہ قومی ٹی وی چینلزپراشتہارات بھی چلوائے گئے کہ ہماری حکومت میں گلگت بلتستان میں کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ اگرایسا تھا توپھریہ سترہزاربچے مڈل اسکول کی تعلیم سے محروم کیسے رہ گئے؟ دعویٰ یہ بھی تھاکہ گندم سبسڈی کو بچوں کو تعلیم دلوانے سے مشروط کیا جائیگا۔اگرایسا تھا تو ان65فیصد پرائمری اور55فیصدمڈل سطح کی تعلیم سے محروم بچوں کے والدین کوکیونکر سبسڈی کی گندم کھلائی گئی؟

سب سے اہم سوال تویہ ہے کہ اس قدرکثیرتعدادمیں بچوں کو بنیادی تعلیم سے محروم رکھنے کی ذمہ داری آخرکس پر عائد ہوگی؟ قصوراس میں صوبائی حکومت کاہے یا والدین اور اساتذہ کا؟

فرض کیجئے دورآفتادہ علاقوں کے والدین میں بچوں کو تعلیم دلوانے کا کوئی شعورنہیں یا انہیں درپیش معاشی مشکلات بچوں کو اسکول میں داخل کرانے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں تو کیا یہ محکمہ تعلیم کا فریضہ نہیں کہ وہ وہاں کے اساتذہ اوراسکول منیجمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے ایسے والدین کے مسائل کا جائزہ لیکرحکام بالا کوآگاہ کریں؟ یا صوبائی حکومت کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ متعلقہ محکمہ سے’ آوٹ آف اسکول چلڈرن‘ کا ڈیٹا طلب کرے؟

کیا کسی وزیر یا مشیریا خودوزیراعلیٰ کوکبھی یہ توفیق ہوئی کہ وہ کسی دیہات میں واقع اسکول کا ازخوددورہ کرکے وہاں کی حالت زارکا جائزہ لیں؟ اگرنہیں تو پھرحاکمِ وقت کو یہ سب کچھ اچھا والا رپورٹ کہاں سے موصول ہوئی،جسے بغیرتصدیق کے فوراً ٹی وی چینلزکے سپردکردیا کہ ہمارے دورمیں کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہیں۔

کیا یہ صوبائی حکومت کے لئے باعث شرمندگی نہیں کہ ایک طرف ہربچہ سکول میں کا نعرہ لگتا ہو اور دوسری طرف ہزاروں بچوں نے سکولوں کی شکل تک نہیں دیکھی ہو؟

اگریوسییف کی یہ رپورٹ واقعی میں صوبائی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے توحکومت کو چاہیے کہ بلاتاخیر صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذکرکے رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں آوٹ آف اسکول بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کے لئے اقدامات اٹھائے ورنہ ان بچوں کے روشن مستقبل کو تباہ کرنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہی عائد ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments