سپریم اپیلیٹ کورٹ میں جج کی خالی نشت پر بار سے اگر کسی اہل وکیل کو جج نہیں لیاگیا تو سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کریں گے۔ بار ایسوی ایشنز

سپریم اپیلیٹ کورٹ میں جج کی خالی نشت پر بار سے اگر کسی اہل وکیل کو جج نہیں لیاگیا تو سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کریں گے۔ بار ایسوی ایشنز

30 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت: سپریم اپیلیٹ کورٹ بار ایسوی ایشن احسان علی ایڈوکیٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اسد اللہ ایڈوکیٹ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ میں جج کی خالی نشت پر بار سے اگر کسی اہل وکیل کو جج نہیں لیاگیا تو وکلاء عدالت عظمیٰ میں کسی طور بھی پیش نہیں ہوں گے اورحکومتی فیصلے کےخلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کریں گے۔ جمعہ کے روز گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپریم اپیلیٹ کورٹ بار کے صدر احسان علی ایڈوکیٹ ، سینئر نائب صدر جاوید اقبال ،ہائی کورٹ بار کے صدر اسداللہ ایڈوکیٹ ،جنرل سیکریڑی مظفرالدین ،ویگر عہدیداروں نے کہا کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ میں جج کی خالی نشت پر مریم نواز اور کیپٹن( ر) صفدر کی ایماء پر مانسہرہ کے کسی وکیل کا نام سمری میں شامل کیا گیا ہے جبکہ گورننس آرڈر کے خلاف چیف کورٹ کے چیف جسٹس کا نام بھی سمری میں شامل کرلیا گیا ہے ان دونوں شخصیات کو کسی بھی صورت میں سپریم اپیلیٹ کورٹ میں بطور جج تعیناتی قبول نہیں کریں گے اورفیصلہ کن احتجاج کریں گے۔ مقامی وکلاء کو نظرانداز کرکے حکومت نے اگر من پسند افراد کو پراشوٹ کے زریعے تعینات کرنے کی کوشش کی تو گلگت بلتستان کے تمام وکلاء خاموش نہیں رہیں گے اور دونوں بار ایسوسی ایشنز حکومتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کریں گے ۔ایک سوال پربار ایسوی ایشنز کے عہدیداروں نے کہا کہ سپریم اپیلیٹ میں سینکڑوں ایسے مقدمات تصفیہ طلب ہیں جن پر چیف کورٹ نے فیصلے صادر کئے ہیں اگر چیف کورٹ کے چیف جسٹس کو بطور سپریم اپیلیٹ کورٹ کا جج مقرر کیا تو وہ اپنے دئے ہوئے فیصلوں کی کاروائی کا حصہ نہیں بن سکتے ہیں اس لئے عدالت عظمیٰ ماضی کی طرح مفلوج ہوکر رہے گا اور جج صرف تنخواہ لینے کی حد تک محدود رہیگا ۔بار کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 175 Aکے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی میرٹ پر تقرری کے لئے باقاعدہ ایک جوڈیشل کمیشن قائم ہے جس کے تحت سپریم اپیلیٹ کورٹ ،ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،پارلیمنٹ کے حکومتی واپوزیشن ممبران اور پاکستان بار کونسل کے نمائندوں پر مشتمل کمیشن جانچ پڑتال کے بعد ججوں کی تقرری کی منظوری دیتا ہے مگر گلگت بلتستان میں چیف کورٹ اور سپریم اپیلیٹ کورٹ میں ججوں کی تقرری حکومت وقت کے صوابدید پر رکھا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ میں جسٹس شہباز خان مرحوم کی جگہ خالی نشت پر حکومت نے حال ہی میں اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے مانسہرہ کے کسی وکیل کا نام سمری میں شامل کیا ہے اور گلگت بلتستان کے وکلاء برادری کو نظر انداز کرتے ہوئے گورننس آرڈر کے خلاف چیف کورٹ کے چیف جسٹس کا نام بھی سمری میں شامل کیا ہے جس پر گلگت بلتستان کے تمام وکلاء برادری سراپا احتجاج ہیں اور حکومت کے اس اقدام کیخلاف گلگت بلتستان کے وکلاء سپریم اپیلیٹ کورٹ میں پیش نہیں ہو نگے اور حکومتی اقدام کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کریں گے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔