خطہ قراقرم میں نوجوان نسل کے مسا ئل

خطہ قراقرم میں نوجوان نسل کے مسا ئل

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 از قلم تعارف عباس

کسی بھی معاشرہ،ملک،علاقے کی ترقی میں بنیادی کردار نوجوان نسل کا ہوتا ہے کیوں کہ ان میں اس عمر میں ذہنی۔جسمانی اور عقلی مضبوطی کے سبب کچھ کر گزرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔اور دنیا میں جتنے بھی انقلاب رونما ہوے ہیں خواہ وہ انقلاب ایران ہو یا فرانس یا افریکن ممالک میںٓ چلنے والی انقلابی تحریکیں ہو ں نوجوان نسل کا ایک خاص کلیدی کردار رہا ہے۔نوجوان کی تعریف کے دینا کے مختلف ممالک ،تنظیمیں اور اداروں نے مختلف معیار رکھے ہیں۔جس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ورلڈ بینک کے مطابق: ایک نوجوان جس کی عمر پندرہ سے چوبیس سال کے درمیان ہو نوجوان کہلاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان اور بنگلہ دیش کے مطابق بالترتیب جن کی عمر پندرہ سے انتیس سال اور پندرہ سے چالیس سال کے درمیان ہو نوجوان کہلاتے ہیں۔اسی طرح پوری دنیا کی آؓبادی کا دو تہائی حصہ نوجوان نسل پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں 27.63% آبادی یوتھ پر مشتمل ہے جن میں سے ایک تہائی حصہ دیہاتوں میں رہتے ہیں ان میں سے 32 % غیر تعلیم یافتہ ہیں۔

اگر معاشرے میں نوجوان نسل کی مثبت راہ پر تربیت کی جائے اور مواقعے فراہم کیے جایءں تو یہی نوجوان سوسایئٹی کیلیے ایک اہم اثاثۃ ثابت ہوتے ہیں اور مختلف شعبہ ہاے زندگی میں بہیثیت ڈاکٹر،انجینیر،ٹیچر،وکیل،جج،سیاستدان ،صحافی،بزنسمین اور ایک بہترین انسان بن کر انسانیت کی فلاح ترقی اور نجات کا باعث بن سکتے ہیں۔ا ور اگر نوجوان نسل کو مثبت سمت میں رہنمائی اور مواقعوں کی

عدم فراہمی سے معاشرے کیلیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں جسے دہشت گردی،انتہا پسندی اور معاشرتی برایئاں جنم لے سکتی ہیں جسے معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو سکتا ہے۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

خطہ قراقرم جو کہ اٹھایئس ہزار کلو میٹر اور آبادی تقریبا بیس لاکھ پر مشتمل ہے اور آبادی کا چالیس فیصد نوجوان نسل پر مشتمل ہے یہاں کے نوجوانوں نے محدود وسائل کے باوجود تعلیمی ،معاشی،اور سیاسی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ہے۔مگر ستر سالوں سے بہتر تعلیمی و معاشی مواقعے کی عدم فراہمی کی وجہ سے نوجوان نسل میں احساس محرومی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ابھی تک پورے گلگیت بلتستان میں صرف ایک یونیورسٹی ہے جسمیں محدود دیپارٹمینٹ ہیں،میڈیکل اور اینجینیرنگ کی تعلیم کے لیے اب بھی پاکستان کے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے اور وہاں پر بھی صرف وہ طلبہ علم حاصل کرسکتے جو معاشی طور پر مضبوط ہوں ایک عام طالب جو قابلیت اور صلاحیت رکھنے کے باوجود پروفیشنل تعلیم کے حصول سے محروم رہتا ہے اور اکثریت معاشرے میں ایسے نوجوانو پر مشتمل ہے جنھیں اعلی تعلیم کے حصول سے محروم ہونا پڑا۔اگرچہ الیکشن کے دوران وفاقی پارٹیاں بڑے دعوے اور اعلانات کرتی ہیں 2009 کے الیکشن میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے میڈیکل یونیورسٹی اور انجینیرنگ کالج کا اعلان کیا مگر ان کی حکومت کے دس سال گزر گئے مگر اعلانات پر کوئی عمل در آمد نہیں کیا گیا۔اسی طرح موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی بڑے اعلانات کیے جس میں میڈیکل کالج،انجینیرنگ کالج کے ساتھ گلگیت میں خواتین یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی کا اعلان کیا مگر وفاق میں چار سال اور جی۔بی میں دو سال مکمل ہونے کے باوجود کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیںآرہی ہے۔جسے نوجوان نسل کا محرومی کا شکار ہونا یقینی ہے۔

اسی طرح اگر کو ئی نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت اعلی تعلیم کے حصول میں کامیاب بھی ہوتا ہے تو بیشتر روزگا ر کا ذریعہ گونمنٹ کی نوکری کا حصول ہوتا ہے جبکہ پرایؤٹ سیکٹر نہ ہونے کے برابر ہے اور سرکاری نوکریوں میں میرٹ کی عدم بحالی رشوت ستانی،اقرباپروری اور سیاسی گڑ جوڑ کے ذریعے تعیناتی سے قابل اور لایق لوگو ں کا حق مارا جاتا ہے اور نالایق اور نا اہل لوگوں کی تعیناتی سے ادارے بہتر ہونے کے بجاے دن بہ دن ابتری کی طرف جاتے ہیں۔اور جو شخص چور دروازے سے داخل ہوگا تو یقیناًوہ بھی چوری کرے گا اور دوسروں کا حق مارے گا ایسے میں میرٹِ عدل و انصاف اور مساوات کی باتیں صرف کہنے کی حد تک رہتی ہیں اور عمل کہیں پر نہیں ہوتا۔ اور اسکی ایک بڑی وجہ نوجوان نسل کا انفرادی سطح پر سوچنا اور اجتماعی سوچ و فکر سے کنارہ کشی اختیا ر کرنا ہے۔آیئے ذ را آج کی نوجوان نسل کی سوچ اور مقصد زندگی پر نظر ڈالتے ہیں۔

آج کے نوجوانو کا زندگی کا مقصد بہت ہی محدود اور انفرادی سوچ کا حامل ہو کر رہ گیا ہے۔بیشتر نوجوانوں کی سوچ اور جد و جہد اپنے ذاتی مفاد کی حدود سے باہر نہیں نکلتی۔جوانی میں ان کی سعی و کوشش کا محور صرف اور صرف تعلیم ہوتی ہے۔اسکے بعد اگر ممکن ہوتا ہے تو مزید تعلیم کیلیے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔اور وہاں سے واپسی پر کؤئی انتہایی اچھی ملازمت اور بلند عہدہ حاصل کرنے کیلیے کوشاں رہتے ہیں اور خوبصورت شریک حیات کا حصول ان کا نصب العین بن جا تا ہے۔ان تمام سرگرمیوں کے دوران اسکے پاس کوئی ایسا وقت نہیں ہوتا جس میں اجتماعی ذمہ داریوں اور معاشرے کے حوالے سے اپنے فرایئض کے بارے میں غور و فکر کر سکے۔اپنے وطن ،قوم اور انسانیت کو مصایب و مشکلات اور رنج او الم سے نجات دلانے کا سوچے۔ایسے نوجوانو اور ان حیوانات کے درمیان کویی فرق نہیں پایءں گے ۔جنہں اپنے خورد و خواب کے سوا کسی چیز سے غرض نہیں ہوتی۔

تعلیمی اداروں میں نوجوانو کو اچھی معیاری تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت بھی دی جاے تاکہ ایک نوجوان انفرادی سوچ اور مفاد کو اجتماعی سوچ اور مفادپر ترجیح دے اور معاشرے میں ہونے والی برایؤں خصوصا عدم مساوات،ظلم جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرے اور ہمیشہ حق،سچ اور مظلوم کا حامی رہے ۔خطہ قراقرم کی نوجوان نسل پر بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ یہاں کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور سازشوں کا ادراک کریں اور ستر سالوں سے غضب شدہ حقوق کے حصول کے لیے تفرقات اور تعصبات سے بالا تر ہو کر اور خطے کی محرومی اور محکومی کے ازالے کیلیے خود کو تیار کرے اور خود کو جدید دور کی تعلیم سے آراستہ کرکے تحقیق،دلیل اور منظق کے ذریعے اپنے مادر وطن کی شناخت کی ببحالی کیلیے کام کریں۔اور حکومت نوجوان نسل کیلیے بہتر تعلیم و تعلم کے مواقعے فراہم کرنے کیلیے علاقے میں اعلی تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لائے تاکہ معاشرے کا ایک عام نوجوان کا حصول تعلیم کا خواب پورا ہوجائے اور پرایؤٹ سیکٹر میں سر مایہ کاری اور سماجی سرمایہ کاری کے ذریعے بہتر روزگار کے ذرایع فراہم کر ے تاکہ آج کا نوجوان معاشرے کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکے۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔