(اجُونے مُوری) خُود کُشی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہماری ذمہ داریاں

(اجُونے مُوری) خُود کُشی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہماری ذمہ داریاں

47 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: بابر خان خانہ آبادی

پچھلے کچھ سالوں سے مُلک کے شہروں علاقوں میں بالعموم اور چترال اور گلگت بلتستان میں بالخصوص خودکُشی کے واقعات میں حیران کُن حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خُود کُشی کے ان واقعات میں زیادہ تر پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ملوث ہو تے/ تی ہیں۔ایسے واقعات کے پیچھے چھپے راز راز ہی رہتے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ بتایا جاتا ہے کہ” خُود کُشی کی وجہ معلوم نہ ہوسکی”کسی بھی علاقے میں کسی لڑکے یا لڑکی کے خُودکُشی کے بعد یہ خبر عوام الناس اور مقامی اخباروں میں گردش کرتی ہے اور حسب روایت کچھ عرصے کے بعد یہ واقعہ اپنی موت آپ مرجاتا ہے اور یوں آہستہ آہستہ زندگی اپنے معمول پر آجاتی ہے۔آیئے ذرا جستجوکریں کہ وہ کونسے عوامل ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے ایک بالکل ٹھیک ٹھاک انسان اپنی جان آپ لینے پر مجبور ہو جا تا ہے۔

۱۔ والدین کا اپنی اولاد سے غیرمعمولی توقعات اور امیدیں۔

۲۔ والدین کی طرف سے اپنے بچوں اور محلے یا علاقے کے دیگر ہم عصر بچوں کی تعلیمی قابلیت کا تقابلی مقابلہ کرانا۔

۳۔ والدین کا اپنے بچوں کو اُن کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اپنی نظر سے دیکھنا۔

۴۔ والدین کا اپنے بچوں کو اُن کے اپنے رنگ ڈھنگ کے سانچے میں ساچنے میں پھلنے پھولنے کیلئے راستہ دینے کے بجائے اپنے خیالات اور خواہشات کے مطابق ماڈیولنگ یا تراش خراش کرنا۔

۵۔ اپنی چادر کے مطابق پاؤں نہ پھیلانا اور گھر کے معاشی حالات سے بے خبر ہوکر اولاد کے لئے بڑے بڑے خواب بُننا اور ان خوابوں کی غلط تعبیر پر حالات سے دل برداشتہ ہونا۔

۶۔ ماں باپ کی طرف سے اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں پر بے جا پابندیا ں لگانااور بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کو کھلی آزادی دینا۔

۷۔ نوجوان بچوں اور بچیوں کے رشتے اُن کی مرضی پوچھے بغیر طے کرنا۔

۸۔ ماں باپ اور نوجوان اولاد کے درمیان کمیونی کیشن گیپ کا حائل ہونا۔

۹۔ بچوں اور بچیوں کے جذبات میں نکھار پیدا کرنے میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کا منفی کردار۔

عموماً یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ زیادہ تر والدین اپنے بچوں کو اُن کی اہلیت ،قابلیت اور صلاحیت کے مطابق پروان چڑھنے نہیں دیتے بلکہ اپنی خواہشات اور خوابوں کے مطابق اُن کی ماڈیولنگ کی کوشش کر تے ہیں۔ اپنی خواہشات اور خوابوں کے مطابق بچوں کو ڈھالنے میں عموماً ماں زیادہ کردار ادا کرتی ہے۔ ہر ماں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے دوسروں کے لئے ماڈل یا نمونہ بنیں۔ دن کے مختلف اوقات میں گھریلوے خواتین ایک دوسری سے ملتی ہیں اور آپس میں گپ شپ میں یہ خواتین اپنے بچوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرتی ہیں ۔ پھر ایک دوسرے کے زبانی وہ دیگر لوگوں کے بچوں کے بارے میں بھی گفتگوکرتی ہیں۔ ایک ماں ہونے کے ناطے ہر عورت اپنی بچی کے بارے میں بڑی محتاط ہوتی ہے۔ وہ کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ گھر سے باہر کوئی اس کی بچی کے بارے میں غلط رائے قائم کرے۔ پھر یہ ماں محلے یا علاقے کے ماحول کے حوالے سے بھی بڑی باخبر ہوتی ہے۔ باپ کے مقابلے میں ماں اپنے بچوں کو اپنی نظر میں رکھتی ہے اور ہر بچے کی ایک ایک حرکت کی نگرانی کرتی ہے۔ وہ بچوں کو محلے کی عورتوں سے ہونے والی گفتگوکی روشنی میں پرکھتی ہے۔ پرکھنے کے اس عمل کے دوران وہ بیٹوں سے کم اور بیٹیوں سے زیادہ سختی سے پیش آتی ہے اور بعض مائیں تو اپنی بیٹیوں سے ایسی باتیں بھی کرتی ہیں جو ان معصوموں کے ذہنوں میں بھی نہیں ہوتیں۔یہ مائیں وقت کے ساتھ ساتھ جب بھی موقع ملے اپنی بیٹیوں سے ان غیر مہمل باتوں کی آڑ لیکر الجھ پڑتی ہیں اور معصوم بچیاں ماں کی زبانی اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا برداشت کرتی رہتی ہیں ۔ باپ اور اولاد کے درمیاں دوستانہ ماحول کے خلاء کی وجہ سے یہ معصوم بچیاں ماں کی طرف سے لگائے گئے بے جا الزامات کے حوالے سے اپنے باپ کے سامنے زبان نہیں کھول سکتیں اور یوں ان بے جا الزام تراشیوں کو نہ سہتے ہوئے موت کو گلے لگاتی ہیں۔ یہ ہوا بچیوں میں خُودکُشی کا ایک رُخ۔ دوسری طرف ماں باپ اپنے بچوں سے حد سے زیادہ تواقعات وابستہ کرتے ہیں اور یہ تواقعات وابستہ کرتے ہوئے وہ اپنے بچوں کی تعلیمی حالت یا قابلیت کو نہیں پرکھتے اور یہ نہیں دیکھتے کہ آیا ان کے بچے یا بچی میں ان کے تواقعات پر پورا اُترنے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔ بچوں سے ان بے جا توقعات کی وابستگی میں والدین مارکیٹ کی ڈیمانڈ کو بھی نہیں دیکھتے۔ جب اولاد اپنے والدین کی خواہشات و تواقعا ت پوری کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو اس کے پاس سوائے موت کو گلے لگانے کے اور کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ بچیوں کی خُودکُشی کی تیسری اور سب سے بڑی وجہ اُن کی مرضی کے برعکس رشتہ طے کرنا ہے۔ گلگت بلتستان اور چترال میں والدین بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کی تعلیم پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ جب اِن پڑھی لکھی نوجوان بچیوں کی شادی اُن کی مرضی اور اُن سے مشورہ لئے بغیر طے کی جائے تو لا محالہ وہ اس رشتے کے خلاف آواز اُٹھاتی ہیں۔ جب اُن کی آواز کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ہے تو وہ شادی سے پہلے ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی سعی کرتی ہیں اور بعض نوجوان لڑکیا ں خودکُشی کی اس قبیح حد کو بھی عبور کرجاتی ہیں۔

نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں خُودکُشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے میں سب سے بڑا کردار اپنی دانست میں ماں کا ہے۔ چونکہ بچے زیادہ تر ماں کے پاس اور ماں کے ساتھ ہوتے ہیں لھٰذا یہ بات بہت اہم ہے کہ ماں بچوں سے دوستانہ ماحول کے اندر ایک اچھے دوست کی طرح برتاؤ کرے اور بچوں کے عزت نفس کا خیال رکھے۔ آج کے بچے وہ بچے نہیں ہیں جو آج سے پندرہ بیس سال پہلے ہوتے تھے۔ آج کے بچوں کو اگر الیکٹرونک نسل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔یہ نسل ہاں یا ناں میں جواب دیتی یا جواب مانگتی ہے۔ آج کا بچہ یا بچی جب پیدا ہوتا /تی ہے تو وہ پندرہ بیس کا تجربہ لیکر آتا/تی ہے۔ بچوں اور بچیوں کے جذبات کو ہوا دینے کے حوالے سے اگر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ دونوں ذر ائع بھی کو ئی مثبت رول ادا نہیں کررہے ۔ ان حالات میں بچوں کے ساتھ بہت احتیاط کے ساتھ برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔والدین کے لئے ضرورت اس امر کی ہے وہ بچوں سے دوستانہ ماحول میں بات کریں ۔ بچوں اور والدین کے درمیاں کوئی پردے کی بات نہ ہو۔ جو بات بھی ہوسب کے سامنے کی جائے۔ والدین کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے بچوں کے بارے میں وہ سنی سنائی باتوں پر کا ن نہ دھریں۔سب بچوں کے ساتھ برابر کا برتاؤکریں۔ بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ بچوں کو اپنی نظر کے بجائے اُن کی نظر سے دیکھیں۔ اپنے بچوں کا مقابلہ کبھی بھی دوسروں کے بچوں سے نہ کریں۔ بچوں کے معاملے میں ہمیشہ مثبت رویہ رکھیں۔ بہت سی مائیں اپنے بچوں کی چھوٹی موٹی حرکتیں شوہر کو نہیں بتاتی ہیں ۔ یہ معمولی معمولی حرکتیں بعد میں بڑے بڑے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ لھٰذا یہ بات بہت اہم ہے کہ ماں اپنے بچوں کے معاملات کے بارے میں شوہر سے وقتاً فوقتاً بات چیت کرے اور میاں بیوی دونوں مل کربچوں کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں اور بچوں کے دوستوں کے بارے میں تبادلہ خیال کریں۔گھر اور گھر سے متعلق کسی بھی سرگرمی کو بچوں سے نہ چھپایا جائے اور بچوں کو سب کچھ کرنے دیا جائے، ان کو اپنے دین یعنی دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات بھی سکھا دیں اور ساتھ میں بچوں کو یہ بھی بتادیں کہ اچھی اور بُری چیزوں کے درمیاں فیصلہ کرتے وقت

ہمیشہ اپنے دین کی بنیادی تعلیمات کی مدد لے لیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ امین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔