(حکایات چشم کشا) بیٹی ہونا گناہ تو نہیں۔۔۔۔۔۔؟

(حکایات چشم کشا) بیٹی ہونا گناہ تو نہیں۔۔۔۔۔۔؟

45 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : عارف نوازبلتی

فاضل جمیلی کی عورت سے متعلق ایک خوب صورت نظم ( اقبال جرم ) آپ کی نظر کرتا چلوں۔۔۔۔

وقت سب سے بڑی عدالت ہے۔۔۔ اور میں وقت کی عدالت میں ۔۔۔۔

آج اقبال جرم کرتا ہوں۔۔۔ زندگی کی طویل راہوں میں۔۔۔

ہم شریک سفر رہے دونوں ۔۔۔۔ تو مجھے زندگی سمجھتی رہی ۔۔۔

میں تجھے قتل کرتا آیا ہوں۔۔۔۔ میں نے آدم سے لے کر آج تلک ۔۔۔

جس قدر بھی لہو بہایا ہے۔۔۔ سارا تیرے بدن سے آیا ہے ۔۔۔

تو جو پیدا ہوئی تو میں نے تجھے۔۔۔ زندہ درگور کر کے مار دیا۔۔۔۔

کبھی دیوار میں چنا تجھ کو۔۔۔ کبھی سو لی پہ تجھ کو وار د یا ۔۔۔۔

ہم نے مل کر مکان بنوایا۔۔۔ جس میں دونوں مقیم ہیں لیکن۔۔۔

تو گھریلو غلام کی صورت ۔۔۔ اور میں مالک مکاں کی طرح۔۔۔

صرف اپنی طلب مٹانے کو ۔۔۔۔ میں نے تیری قصیدہ خوانی کی۔۔۔

سوچتا ہوں، تو یاد آتا ہے۔۔۔۔ میں نے کیا کیا غلط بیانی کی۔۔۔

میرا ماضی ہے جھوٹ کی تاریخ۔۔۔ حال اپنے پہ ندامت ہے۔۔۔

تو بغاوت کر۔۔۔ اپنی تاریخ خود مرتب کر۔

اور بغاوت تو ہو چکی ، نئی تاریخ تو مرتب ہو رہی ہے۔صنف نازک اب محض Commodity ، میراث، جاگیر نہیں رہی ، ایک جیتا جاگتا انسان ہے۔ویسا ہی انسان، جیسے چھ ارب کی اس د نیا کے باقی نصف ہیں،بلکہ کہیں کہیں تو ان سے بھی کہیں بہتر۔جسے کل تک تسلیم کی ضرورت ،عادت تھی آج خو د کو تسلیم کروا رہی ہے۔اب تو خواتین خود پر لگے صنف نازک کے لیبل ہی سے گھبرا اٹھتی ہیں ۔

اور دوسری طرف ایک کم زور ، لاچار، اور ہزارہا جکڑ بندیوں میں اسیر خواتین بھی ہیں انہی خواتین میں سے ایک لاچار خاتون کی کہانی ملا خط کیجیے۔۔۔۔۔

میری ملاقات ایک پرانے دوست قمر عباس سے ہوئی جو آج کل لاہور میں ایم بی اے کر رہا ہے۔اس سے دعا سلام کے بعد جب میں نے جب اس کا حال چال پوچھا تو باتوں باتوں میں اس نے جو حکایت مجھے سنائی وہ میں آپ کو بتانا چاہ رہا ہوں۔

اس نے کہا کہ یہ پچھلے سا ل کی بات ہے کہ میں ایک سال بعد گھر جا رہا تھا اس لیے بہت زیاد ہ خوش اور کافی پر جوش بھی تھا سو میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں سے خدا حافظ کہنے کے بعد رکشہ پکڑا اور سٹیشن کی طرف چل پڑا۔لیکن ایک چوک پہ جب میں پہنچا تو میری نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنی تین چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ سٹرک کے کنارے پریشان کھڑی تھیں۔جب میرا گزر ان کے پاس سے ہوا تو میں کیا دیکھتا ہوں وہ عورت بار بار اوپر آسمان کی طرف دیکھتی تھی او ر پھر گھو د میں موجود ننھی سی بیٹی کی طر ف دیکھ کر ایک سرد آہ لیتی اور پھوٹ پھوٹ کر ر و رہی تھی۔

جب میں نے یہ سب دیکھا تو میرے سے رہا نہیں گیا اور میں نے رکشہ روکا او ر یہ معلوم کرنے کی غرص سے اس کے پا س چلا گیا کہ آخر ماجرا کیا ہے ۔ سلام کرنے کے بعد جب میں اس کے قریب گیا تو میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کیونکہ یہ تو میرے علاقے کی ایک عورت جس کو میں پہلے سے جانتا تھا اور کچھ عرصہ پہلے اس کی شادی ایک معزز گھرانے میں ہوئی تھی۔جب میں نے اسے اس حا ل میں دیکھا تو میرا سر چکر ا گیا اور کچھ دیر کے لئے مجھے اپنی نظر وں پہ یقین نہیں ہو ا لیکن کچھ دیر بعد میں نے جب پریشانی کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو پہلے اس نے کچھ نہیں بتایا پھر جب اسے میں نے اپنا نام ا ور جگہ کا بتایا تو اس نے مجھے پہچان لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی میں نے اپنے پاس جو کچھ کھانے کے لیے تھا وہ میں نے ان دونوں بیٹیوں کو دیا۔میرے کافی اسرار کرنے پر اس نے کہا کہ بیٹا میں کیا بتاوں آپ کو ۔میری پانچ سال پہلے شادی ہوئی تھی۔ میرے گھر والے بہت غریب تھے لیکن پھر بھی ادھار وغیرا لے کر میری شادی بڑی دھوم دھام سے کی تھی ۔

شادی کے پہلے دو تین سال بڑے اچھے سے گزرے تھے لیکن جب میں پیٹ سے تھی تو ساس اور خاوند دونوں نے یہ ضد پکڑ کے بیٹھ گئے کہ ہمیں لڑکا ہی چاہئے اگر لڑکی پیدا ہوئی تو تیری خیر نہیں ۔لیکن خدا کے فیصلے کو روک کیسے سکتا ہے بلا ۔میری پہلی اولاد ہی لڑکی پید ا ہوئی ۔جب دوسری او ر تیسری بھی بیٹی پیدا ہوئی تو مجھے منحوس کہہ کر پورے ایک سال کے لیے مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ۔ ساس اور خاوند دونوں بار بار مجھے دوسری شاد ی کا کہہ کے ڈراتے رہتے تھے لیکن میں خاوند کا گھر چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتی تھی کیوں کہ پہلے ہی میرے گھر والے پریشان تھے کیوں کہ مجھ سے چھوٹی تین بہنں گھر میں کنواری بیٹھی ہوئی تھیں اور میرے والدین ان کے شادی کو لے کر بہت پریشان تھے ا ور گھر دور ہونے کی وجہ سے گھر بھی نہیں جا سکتی تھی۔

اس لیے میں چپ چاپ ساس اور خاوند کے طرح طرح کے ظلم یہ سوچ کے سہتی رہی کہ ایک نہ ایک دن میرے ہاں بھی لڑکا پیدا ہوگا ۔لیکن ساس کی کان کسی نے یہ کہہ کر بھر دیے کہ یہ عورت آپ کے لڑکے کے لئے منحوس ہے جب سے اس کے ساتھ آپ کے بیٹے کی شادی ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک آپ کے گھر کی حالت بہتر ہونے کے بجائے پہلے سے زیادہ ابتر ہوتی جا رہی ہے اس لئے آپ اس منحوس عورت کو ا پنے گھر اور بیٹے کی زندگی سے دور کر دینا چاہیے۔ اور ہاں آپ کے بیٹے کے لئے ایک بہت اچھے رشتے کا بندوبست کیا ہوا ہے بس آپ اپنے بیٹے سے بولو کہ اپنی بیوی کو طلاق دے ۔

اس لئے ساس او ر میرے خاوند دونوں نے مل کے مجھے بیٹیوں سمیت گھر سے باہر نکال دیا ۔بیٹا مجھے گھر سے نکالے ہوئے چھ دن گزر چکے ہیں او ر میں اپنی ان چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں۔ جب میں نے اس کی یہ سب باتیں سنی تو میری آنکھیں نم ہو گئیں او ر میر ا سر چکرا گیا اور سہار ا لے کر زمین پے بیٹھ گیا۔میں اندر ہی اند ر یہ سوچ کے پریشان ہو گیا کیونکہ میں نے تو سنا تھا کہ جب کوئی بیٹا پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جاؤ دنیا میں اور ا پنے والد کا سہارا بن جاو لیکن

جب کوئی بیٹی پیدا ہوتی ہے تو رب عزت ارشاد فرماتا ہے جاؤ دنیا میں، میں تیرے والد کا سہارا بن جاؤں گا۔لیکن یہ ظالم د نیا بیٹیوں کو بوجھ کیوں سمجھتی ہے یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے۔

میرے کافی اسرار کرنے کے باوجود وہ اپنے گھر جانے کے لئے تیار نہ تھی اس لئے میں نے ان کے لئے ایک کرایے کے گھر کا انتظام کیا او ر ان کو وہاں بٹھایا ا ور میں نے پرس سے کچھ پیسے نکالے اور اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا کہ ان پیسوں سے آپ اپنے اور بیٹیوں کے لئے کچھ کھانے پینے کی ا شیاء خرید لینا ۔ جب اس نے یہ سب دیکھا تو تھوڑا گھبرا گئی ا ور خاموش کھڑی ان پیسوں کی طرف دیکھ رہی تھی جو میں نے دیے تھے۔ اس لئے میں نے کہا آپ میرے لئے میری ماں کی طرح ہیں۔ آپ کو اس کے بدلے کچھ نہیں کرنا ہے بس آپ میرے لئے دعا کریں یہی میرے لئے بہت ہے۔آپ اپنا اور بیٹیوں کا خیا ل ر کھیں ا نشاء اللہ میں آپ کو ہر ماہ کے شروع میں پیسے منی آڈر کرتا رہوں گا۔ بس آ پ مجھے دعا دیں یہی میرے لئے بہت ہے۔پھر میں وہاں سے اپنے گھر کے لئے روانہ ہو گیا لیکن پورے راستے بار با ر اس کی ساس او ر خاوند کی رویئے کو لے کے حیران تھا کہ کیا ایسے بھی لوگ ا س د نیا میں ہوتے ہیں جن کے اندر رحم نام کی کوئی چیز بھی باقی نہیں ہیں۔اس دن سے لے کر اب تک میں اپنے جیب خرچ میں سے کچھ حصہ او ر ا پنے کچھ دوستوں سے پیسے جمع کر کے ان کو منی آڈر کرتا ر ہتا ہوں ا ب ا للہ کا شکر ہے اس کی تینوں بیٹیاں سکول جا تی ہیں او ر و ہ سب ایک اچھی زندگی گزار رہے ہے۔لیکن آخر میں میری ایک التجاء ہے کہ خدا را اپنی بیویوں کے ساتھ اس طرح کا ظلم نہ کریں کیونکہ وہ بھی کسی کی بہن اور بیٹی ہے۔ ایک نہ ایک دن آپ بھی کسی بیٹی کے باپ بنیں گے اور اگر کوئی آپ کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ایسا کرے گا شاید آپ سے برداشت نہ ہو پائے۔ اور اللہ سے دعا ہے کہ کسی بھی عورت کے ساتھ اس طرح کا ظلم نہ ہو اور ہمیں بھی اللہ دوسروں کی مدد کرنے کی توفیق دے آمین۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔