استور: گوریکوٹ کے رہائشی برکت شاہ کا گھر خاکستر، فائر بریگیڈ کا عملہ سویا رہا

استور: گوریکوٹ کے رہائشی برکت شاہ کا گھر خاکستر، فائر بریگیڈ کا عملہ سویا رہا

32 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

استور(سبخان سہیل) استور کے ضلعی ہیڈ کواٹر گوریکوٹ محلہ دریال کے رہایشی برکت شاہ کے مکان میں ہفتے کی صبح نو بجے سلنڈر گیس پھٹنے کے باعث آگ بھڑک اُٹھی۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے مکان کو اپنی لیپٹ میں لے لیا۔ آگ لگنے کے وقت مکان کے اندر پوری فیملی موجود تھی۔ آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھ کر محلہ دریال کے لوگوں نے مکان کی کھڑکیا ں توڑ کر بچوں، خواتین ، اور مردوں کو باہر نکالا۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ  مکان مکمل جل کر خاکستر ہوگیا، تاہم کسی بھی انسانی جان کا ضیاع نہیں ہوا۔

مکان میں آگ دو گھنٹے تک بھڑکتی رہی لیکن انتطامیہ کو کانوں کان خبر نہ پہنچی۔ فائر بریگیڈ کا دو درجن سے زائد افراد پر مشتمل عملا خواب خرگوش میں مگن رہا۔ پورے ضلعے میں فائر ٹینڈر نہیں۔ فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی تھی جسے صوبائی حکومت نے کسی اور جگہ منتقل کردیا۔ اس معاملے پر انتظامیہ اور مقامی نمائندے پراسرار انداز میں خاموشی اختیار کئے بیٹھے ہیں۔

 گزشتہ دو سال کے دوران آتشزدگی کے درجنوں واقعات استور سٹی میں پیش آئے ہیں مگر بر وقت فائر بریگیڈ کی گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی قابلِ زکر آگ بجھانے کا کام نہیں ہوسکا ہے۔ مکانات اور دکانات خاکستر ہونےکے بعد فوٹو سیشن کے لئے انتظامی اہلکار ضرور تشریف لاتے ہیں۔

 حکومت گلگت بلتستان فائر بریگیڈ کے نام پر 25ملازمین کو استور میں تنخوا ہ دے رہی ہے لیکن یہ ملازمین بھی بے حسی کا شکار ہیں۔ جہاں بھی ایسے حادثات رونما ہوتے ہیں وہاں فائر برگیڈ کا عملہ تین گھنٹے بعد روایتی چکرلگانے کے بعد چلے جاتے ہیں۔

عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس صورتحال کا نوٹس لے اور ضلع میں فائربریگیڈ کی گاڑیاں مہیا کرے تاکہ عوام کی جان اور مال کی حفاظت ممکن ہو سکے۔

 گوریکوٹ دریال میں رہاشی مکان میں آگ لگنے کے دو گھنٹے بعد اسسٹنٹ کمشنر شونٹر شیر افضل نے متاثرہ مکان کا دورہ کیا جہاں پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی ہم نے لیوی فورس، پولیس فورس ، اور مونسپل کمیٹی کے عملے کو یہاں بیجا تھا محلے کو لوگوں کے ساتھ ملکر آگ بجھانے میں کامیا ب ہوئے ہیں تاہم مکان مکمل جلا چکا ہے مگر اللہ کے کرام سے انسانی جانوں کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے جانی کوئی نقصان نہیں ہوا ہے ۔ استور میں فائر برگیڈ کی فائر فایٹنگ مشین نہیں ہونے کے باعث ایسے واقعات میں آگ بجھانے شدید مشکات پیش آتی ہیں استور میں پہلے فائر برگیڈ کی گاڑی موجود تھی بعد میں یہاں سے واپس لی گئی ہے استور میں نئے مالی سال کے شروع میں فائر برگیڈ کا گاڑی لائی جائے گی جس کے بعد ایسے واقعات کے بعد آگ بجھانے میں فوری مدد ملے گی دوسر جانب متاثرہ مکان کے مالک آصف شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ آگ صبح نو بجے لگی ہے اور ہمارے اپنے محلے کے لڑکے شمس، احمد شاہ،محمد علی شاہ،رضون،امتیاز،اور جانان نے اپنی جان پر کھیل کر گھر کے افراد کو بچایا ہے اور آگ کو دو گھنٹے کے بعد بجھانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ اس دو گھنٹے کے اندر انتظامیہ کی جانب سے نہ کو پولیس آئی ہے اور نا تو لیوی فورس، اور نا فائر برگیڈ کا کو عملہ آیا ہے انتظامیہ میڈیا کے سامنے جھوٹ بولتی ہے میڈیا کی ٹیم کو دیکھا کرفوٹو سیشن کے لیے یہاں آئی ہے استور انتظامیہ یہاں کی غریب عوام کو انسان نہیں سمجھتی ہے اسی لیے ایسے واقعات کے رونما ہونے پر نا ڈپٹی کمشنر آتا ہے اور نا دیگر انتظامیہ جب بھی کئیں کوئی واقع ہوتا ہے اس کوبعد انتظامیہ صرف فوٹو سیشن کے لیے تشریف لاتی ہے حکومت گلگت بلتستان سے اپیل ہے کہ استور میں فوری طور پر فائر برگیڈ کے عملے کے ساتھ فائر فائٹنگ گاڑی، ریسکو 1122کے عملے کو تعینات کریں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔