غذر، شروٹ، شکیوٹ اور بارگو کے عوام کے ٹرانسپورٹ مسائل بڑھ رہے ہیں، ڈپٹی سپیکر خاموش تماشائی

غذر (بیورورپورٹ) جانے کس ظلم کی سزا پائی ہے یاد نہیں، غذر ،شروٹ، شکیوٹ اور بارگو کے عوام کو آمدورفت کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے حلقے کے عوامی نمائندوں کی خاموشی سے مسافرسخت اذیت سے دو چار، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ گلگت غذر روڈ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار عوام کو اس روڈ پر سفر کرنا عزاب بن گیا روڈ کی تعمیر کے لئے رکھی گئی رقم کا بھی تاحال کوئی پتہ نہ چل سکاعوامی نمائندوں کی مکمل طور پر خاموشی سے عوام پریشان شکیوٹ سے گلگت تک کی سڑک آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہے۔

ڈپٹی سپکر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان جعفرا ﷲ خان کا انتخابی حلقہ شروٹ تا بسین تک روڈ خستہ حالی کا شکار ہے جس پر سفر کرنا ایک عزاب سے کم نہیں غذر کے حدود والی سڑک کو تو کافی حد تک بہتر بنایا گیا ہے جبکہ گلگت کے حدود والی سڑک جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے دوسری طرف گلگت روڈ ہرپون کے مقام پر 2010میں آنے والے سیلاب سے تباہ حال سڑک سے تاحال ملبہ کو محکمہ تعمیرات عامہ نے نہیں ہٹایا دو سو میٹر تباہ حال سٹرک کو محکمہ تعمیرات عامہ گلگت نے صرف ایک گاڑی کو گزرنے کے لئے کھول دیا تھا جو اٹھ سال گزرنے کے باجود بھی اس سڑک کو کشادہ نہیں کیا گیا اب تک اس روڈ کو اس طرح ہی رکھا ہے جس باعث اس روڈ کو کشادہ نہ کرنے کے باعث دونوں طرف سے آنے والی گاڑیوں کے اپس کے جھگڑے روز کے معمول بن گئے ہیں روڈ پر اگر غذر اور گلگت سے کوئی گاڑی آئی تو ان کو سائڈ کرنے میں سخت دشواریوں کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس طرح دونوں اطرف سے آنے والی گاڑیاں پھنس جاتی ہے ہر ر وز غذر اور گلگت سے آنے والی دو گاڑیوں کے مسافروں کا سائڈ کے مسلے پر اپس میں جھگڑا ہوا اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے اب اس روڈ پرطرح کے جھگڑے اب روز کے معمول بن گئے اٹھ سا ل گزرنے کے باوجود بھی دو سو میٹر ملبہ کو نہ ہٹانا محکمہ تعمیرات عامہ کی نااہلی ہے مگر محکمہ تعمیرات عامہ گلگت کے حکام مکمل طور پر خاموش ہے اور شاید وہ کسی حادثے کے انتظار میں ہیں اس کے بعد ان کو روڈ ٹھیک کرنے کا ہوش آجائے گلگت سے غذر کے حدود تک روڈ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے مگر محکمہ تعمیرات گلگت کے روڈ قلی بھی زیر زمین چلے گئے ہیں دوسری طرف وزیر اعلی گلگت بلتستان نے گلگت سے گاہکوچ تک کے کے ایچ طرز کی سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا تھا مگر ان کا یہ اعلان بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments