موجودہ حکومت بھی خواتین کےمسائل حل کروانے اور انہیں حق دلوانے میں ناکام رہی ہے

موجودہ حکومت بھی خواتین کےمسائل حل کروانے اور انہیں حق دلوانے میں ناکام رہی ہے

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(تجزیاتی رپورٹ: کرن قاسم )آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے خطیر فنڈز مختص نہ کئے گئے اور عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو گلگت بلتستان کی خواتین میں احساس محرومی مزید بڑھے گی۔اسمبلی میں موجود خواتین وزراء بھی سابقہ ادوار میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہ کر سکیں۔حکومتی عدم توجہی کی بناء پر خواتین کو فیملی کورٹس،دارالامان،خواتین کے لئے الگ یونیورسٹی،ملازمتوں میں دس فیصد کوٹہ پر عملدرآمد،خواتین کے الگ ٹرانسپورٹ کا انتظام اور دیگر فلاحی کام نہیں ہو سکے ہیں۔نہ ہی خواتین کے تحفظ کے حوالے سے مؤثر قانون سازی کی گئی ہے۔

گلگت بلتستان کی خواتین انتہائی با صلاحیت ہنر مند اور جفا کش ہیں۔انکے لئے باعزت روزگار کے مواقع بھی فراہم نہیں کئے جا سکے ہیں۔جس کی وجہ سے خواتین احساس کمتری و محرومی کا شکار ہیں۔خواتین خود کو معاشرے میں تنہاء اور حقیر جاننے پر مجبور ہیں۔اسمبلی میں موجود خواتین اراکین و ممبران اسمبلی کو سابقہ روایات کے خاتمے اور خواتین کے حقوق کی فراہمی اور انکے تحفظ اور سہولیات کی خاطر مضبوط آواز اٹھانی ہوگی۔تاکہ خواتین میں پائی جانے والی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔ فوری طور پرخواتین کے لئے فیملی کورٹس کا قیام عمل میں لانا ہوگا کورٹس کے قیام میں تاخیر سے خواتین فوری اور سستے انصاف سے محروم ہیں۔

پورے گلگت بلتستان میں دارالامان نہ ہونے سے خواتین کی تحفظ نہیں ہو سکتی اور وہ ظالم سماج کے ہاتھوں اپنی جانوں سے ہی ہاتھ دھوبیٹھتی ہیں۔جو خواتین انصاف کے حصول اور جان کی امان پانے کی خاطر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں تو انہیں مجبوراً جیل منتقل کر دیا جاتا ہے۔جہاں وہ اپنے آپ کو دیگر غیر محرم قیدیوں کے ساتھ غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔بعد ازاں ملک کے دیگر شہروں میں قائم دارالامان منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ملازمتوں میں بھی دس فیصد کوٹہ خواتین کے لئے مختص نہ ہونے سے خواتین ڈگریاں لئے ملازمت کے حصول کے لئے بھٹک رہی ہیں۔جس کی وجہ سے کئی خواتین ڈپریشن کا بھی شکار ہو چکی ہیں۔

خواتین کے لئے الگ یونیورسٹی نہ ہونے کے پیش نظر کئی خواتین اعلیٰ تعلیم سے بھی محروم ہیں۔موجودہ حکومت کو خواتین کے مسائل کے حل میں دلچسپی لے کر خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے اس بجٹ میں خطیر رقم مختص کر کے انہیں بھی معاشرے کا باوقار شہری کا درجہ دیا جائے۔تاکہ صنف نازک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا موقع مل سکے،اور احساس محرومی کا خاتمہ ہو سکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔