GB میں انتخابی انقلاب اور وزیر اعلی کے اقدامات (قسط اول)

GB میں انتخابی انقلاب اور وزیر اعلی کے اقدامات (قسط اول)

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گزشتہ دنوں انکی طرف سے صحافیوں کے اعزاز میں دی گئی افطار پارٹی میں درجنوں مسائل پر مدلل انداز میں اظہار خیال کیا اس موقع پر انہوں نے نہایت برجستگی سے کہاکہ مسلم لیگ ن کو شہیدوں اور غازیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کارکردگی کی وجہ سے ووٹ ملتے ہیں پی پی پی کی لوٹ مار ،میرٹ کے قتل عام سمیت چوریوں اور سینہ زوریوں کی وجہ سے ملتے ہیں ،ترقی کے پہیہ کو تیز رکھناہماری جماعت کی پہچان ہے اسی لےئے لوگ ہمیں پسند کرتے اور ووٹ دیتے ہیں دوسری جماعت سے تنگ آکر انکی لوٹ مار اور بیڈ گورننس کی وجہ سے ہمیں ووٹ ملتاہے گلگت بلتستان کے عوام نے اس لئے حق حکمرانی مسلم لیگ ن کو دیدیا ہے اب فیصلے عوام کی منتخب حکومت کرتی ہے یہ حق کسی مافیا کو نہیں دیا جاسکتاہے وزیر اعلیٰ نے گلگت سکردوروڈ سے متعلق بتایا کہ مخالفین نہیں چاہتے ہیں کہ یہ روڈ بنے وہ آئندہ الیکشن میں اس روڈ کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر یہ اہم سڑک ضرور بناکر دکھائیں گے انہوں نے کہاکہ بعض مذہبی افراد کو بھی ہمارے خلاف میدان میں اتارا گیاہے وزیر اعلیٰ نے چھمک پل کے بارے میں بتایا کہ یہ اہم اور بڑا پل دسمبر 2019 کو مکمل ہوناہے مگر ٹھیکیدار کہتے ہیں کہ رواں سال دسمبر میں تیار کرکے دینگے اخباروں میںیہ پل 6ماہ تک اشوبنتا رہا چھمک پل مکمل ہوتے ہی ایک نیاء شہر آباد ہوجائے گا 17ہزار کنال اراضی آباد ہوگی یہ کریڈٹ بھی مسلم لیگ ن کو ہی جائے گا جس کے بعد لوگ ہمارے مخالفین سے پوچھیں گے کہ آپ کی کیاکارکردگی ہے پل بننے کے بعد شگر کیلئے 18کلومیٹر سفر کم ہوگا انہوں نے کہاکہ ہم چور ہوتے تو نیب کو گلگت بلتستان نہ لاتے ،FIAکو امپاور نہ کرتے اور صوبوں میں اینٹی کرپشن سیل کا قیام عمل میں نہ لاتے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہم انٹی کرپشن کے چیف کو براہ راست تعینات نہیں کریں گے بلکہ سپیکر قانون ساز اسمبلی کی سربراہی کمیٹی بنائے جائے گی جس میں اپوزیشن اراکین بھی شامل ہوں گے کمیٹی کے ممبران مل کر DG اینٹی کرپشن کیلئے تین نام تجویز کریں گے جن میں سے ایک کو ہم تعینات کریں گے اورDG اینٹی کرپشن سیل اخباری بیانات پر بھی ایکشن لے گا اگر الزام جھوٹا ثابت ہوا تو جھوٹا الزام لگانے والے کوسزا ملے گی۔

وزیر اعلیٰ سے اس موقع پر میں نے انکی حکومت کا ایک اہم منصوبہ سیف سٹی کے مستقبل سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ سیف سٹی منصوبے کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے میں خد مات سر انجام دینے والے ملازمین کو جلد مستقل کیا جائے گا اور اس منصوے کو دیگر اضلاع تک بھی لیجایا جائے گا انہوں نے کہاکہ چوری اور راہزنی کے 70فیصد کیسز CCTV کیمروں کی وجہ سے پکڑے گئے ہیں اس سروینلس کی وجہ سے جرائم میں کمی آئی ہے فوٹیج عدالتوں میں پیش کی گئیں جس کی وجہ سے ملزمان کو سزائیں ملی ہیں انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کو مزید بہتر بنائیں گے ۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بناے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ شاہراہ قراقرم کو بھی مسافروں کیلئے محفوظ بنانے کیلئے ایک منصوبے کے تحت جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے ۔وزیر اعلیٰ نے اپنی گفتگو کے دوران یہ انکشاف بھی کیا کہ سال 2019تک KKHکا سفر صرف 8گھنٹے کا ہوجائیگا کیوں کہ اسلام آباد سے مانسہرہ تک چار گھنٹے لگتے ہیں برہان سے حویلیاں تک موٹر وے مکمل ہوچکا ہے جس کا اگست میں افتتاح ہوگا حویلیاں تا تھاکوٹ موٹر وے بن رہاہے اس وقت تین شفٹوں میں کام جاری ہے اس میں 22 ٹنلز بن رہے ہیں مانسہرہ ایبٹ آباد کو بائی پاس کیا جارہاہے ،داسوتا چلاس کام شروع ہوگا ،رائیکوٹ سے راولپنڈی تک 76ارب روپے خرچ کئے جار ہے ہیں یوں 16گھنٹوں کا سفرصرف 8 گھنٹوں کا رہ جائیگا کم وقت میں سستا اور محفوظ سفر کیوجہ سے شاید لوگ جہاز سے زیادہ بائے روڈ سفرکرنا پسند کریں گے وزیر اعلیٰ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہاکہ گلگت آئیر پورٹ کی توسیع کی باتیں الف لیلیٰ کی کہانی ہے آئیر پورٹ کو توسیع دینے کی صورت میں آدھا شہر ختم ہوجائے گا جس پر کھربوں روپے خرچ ہوسکتے ہیں لہذا اسی آئرپورٹ کو بہتر بناکرجہازوں کی سروس کو بہتر بنایا جاسکتاہے وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ گلگت اور سکردوں کیلئے فلائٹس کے اضافہ کے متعلق پرپوزل PIAکے نئے چےئرمین مہتاب عباسی کو دیدیا گیاہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آئینی اصلاحات سے متعلق سفارشات وزیر اعظم تک پہنچادی گئی ہیں وزیر اعظم نے کہاتھا کہ صوبوں میں چیف منسٹرز کو جتنے اختیارات حاصل ہیں وہ گلگت بلتستان کے چیف منسٹر کو بھی دیدئے جائیں پی ایس ڈی پی میں گلگت بلتستان کیلئے زیادہ سیکمیں رکھنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ سی پیک کا کوئی متبادل ہے انہوں نے کہاکہ KIU 100 میگاواٹ اور پھنڈر 80 میگاواٹ سی پیک کے ہی منصوبے ہیں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز طرز کے ماڈل بنتے ہیں ہم 9روپے میں فی یونٹ لوگوں کو بجلی کیسے فروخت کریں گے جبکہ ہم اڑھائی روپے میں دے رہے ہیں اکنامک زون منظور ہوا ہے ہم سے چار سوالوں کا جواب مانگا گیاہے یہ 22ارب کا منصوبہ ہے ہم نے لینا دینا نہیں ہے

بجٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ماضی میں بجٹ لیپس ہونے سمیت اہم منصوبے مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے صوبائی حکومت چار کروڈ سے زائد مالیت کے منصوبے منظور نہیں کر سکتی تھی میں نے وزیر اعظم سے کہاکہ ہمیں 70کروڈ تک کے منصوبوں کی منظوری کا اختیار دیاجائے جب کہ AJK کو آج بھی چالیس اور فاٹا کو بیس کروڑ کا اختیار حاصل ہے مسلم لیگ ن نے ترقیاتی بجٹ چار کی بجائے دو قسطوں میں کردیا اور یہاں صوبے کا اپنا اکاؤنٹ بھی بنایا اس سے قبل لون لینے کی سہولت نہ ہونے سمیت جی بی کی آمدن وفاق کے اکاؤنٹ میں جاتی تھی اور ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی ہم نے بجٹ میں خاطر خواہ اضا بھی کروادیا آج ہم نے ترقیاتی بجٹ کو تقریبا0 10 فیصد خرچ کیاہے ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں جبکہ بعض کئی منصوبے مقررہ وقت سے قبل ہی مکمل ہو رہے ہیں ہم نے فنانشل ڈیسپلن کو بھی نہیں توڑا دو سال میں 50میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے اور 170میگاواٹ سالانہ ترقیاتی منصوبے سے پیدا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں سی پیک سے زیادہ PSDP سے پیسہ مانگا ہے PSDPکے تحت جی بی کو 98ارب کے منصوبے ملے ہیں جبکہ ماضی میں صرف اڑھائی ارب کے منصوبے ہوتے تھے ۔اسی نشست میں وزیر اعلیٰ نے ایک اور انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت گلگت میں بجلی8 میگاواٹ سرپلس ہے اور ریجنل گریڈ سٹیشن نہ ہوننے کی وجہ سے اضافی بجلی چلاس ،ہنزہ اور سکردو کو نہیں دے سکتے ہیں حافظ حفیظ الرحمٰن کا کہنا تھاکہ زرداری صاحب نے گورننس آرڈر ضرور دیا ہے مگر مالی طور پر کچھ نہیں کیاپیپلز پارٹی کے دور میں 5سالوں میں ترقیاتی بجٹ میں صرف ایک ارب کا اضافی کیا گیا انہوں نے بتایا کہ اس سال ریجنل گریڈ سٹیشن کیلئے ٹینڈر کرانے میں کامیاب ہوئے تو 5ارب روپے ملیں گے یہ منصوبہ 25ارب کا ہے اس منصوبے سے تمام اضلاع سمیت ملک کو بھی ملانے میں مدد ملے گی گریڈ سٹیشن نہ ہونے سے کوئی بھی سرمایہ کار 100میگاواٹ بجلی بھی پیداکرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔

بجٹ بنانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہاکہ یہ تاثر غلط ہے کہ بیوروکریسی ایک چیز تیار کرتی ہے اور ہم پڑھتے ہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہوتاہے عوام کے منتخب نمائندوں کو اس قدر بھی کمزور نہ سمجھاجائے ۔کابینہ بجٹ میں بھر پور کردار ادا کرتی ہے البتہ بیورو کریسی کو میک اپ ضرورکرنی پڑتی ہے پالیسی اور فیصلے ہمارے ہوتے ہیں اور عملدرآمد یہ لوگ کراتے ہیں پی پی پی کا بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا انکو جیب خرچ چاہئے ہوتا تھا انہوں نے صوبہ سندھ کی حالت زار کا زکر کرتے ہوئے کہاکہ اس صوبے کا برا حال ہوچکاہے ۔ LPG منصوبے کی سست رفتار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کمپنی کو زمین لیز پر دیدی گئی ہے اور کمپنی اوگرا سے لائسنس بھی لے چکی ہے اور دو ارب روپے کا لون بھی لے لیا ہے اور ٹینڈر بھی اشو کرالیا ہے امید ہے اس پر ماہ رمضان کے بعد کام شروع ہوگا ہم نے ان سے کہاہے کہ ایک سال سے زائد وقت نہ لیا جائے کمپنی کا وعدہ ہے کہ کم سے کم وقت پر کام شروع ہوجائیگا۔ گلگت شہر میں سیوریج سکیم پر بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ساڑھے چھ ارب کی سکیم ہے ٹریٹمنٹ پلانٹ کیلئے 75کروڑ کی ایڈ منسٹریٹیواپرول دی جاچکی ہے ٹینڈر نوٹس جلد جاری ہوگا اس منصوبے کے زون 2کو شاٹ کیاگیا ہے جس میں امپھری کے بالائی علاقوں کو نکال دیاگیاہے ،مجینی محلہ ،خومر ،یرکوٹ سے لیکر کشروٹ ڈومیال اور نگرل کو زون 2 میں شامل کیا گیاہے اس منصوبے کو جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے سڑکوں کی تعمیر ومرمت میں اس منصوبے کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے انہوں نے کہاکہ پہلی بار سڑکوں کامینول کام ختم ہونے والاہے اس مقصد کیلئے 27 کرروڑ کی لاگت سے مشین خرید رہے ہیں یہ جدید مشین ایک کلو میٹر پر ایک ہفتے میں کام کر سکتی ہے آٹو سسٹم کے تحت فی کلو میٹر 18کروڑ میں بنتاہے جبکہ مینول سسٹم کے تحت 70لاکھ روپے میں فی کلو میٹر روڈبنتاہے گلگت سکردو سمیت تمام اضلاع کی بڑی سکیموں کو جدید مشینوں کے زریعے مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نےNFC میں شمولیت سے متعلق گلگت بلتستان کی مخالفت کرنے پرPPP اور PTI کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ ۔۔۔۔ جاری ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔