ضلعی ناظم کے مشورے سے ہم پر دہشتگردی کے دفعات لگائے گئے، جوڈیشل انکوائری کے مطالبے کو مسترد کرتے ہیں، شبیر احمد اور دیگر کا اعلان

چترال (شہریاربیگ) اسیران ناموس رسالت نے ڈسٹرکٹ جیل چترال سے اپنی رہائی کے بعدچترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع ناظم کی طرف سے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے مطالبے کومسترد کردیا۔رہاہونے والے اسیران ناموس رسالت شبیراحمد،اکرم اللہ ،انتخاب احمد،عبدالسلام،سہیل،ندیم خان ،فہم الدین اورظاہرالدین نے کہاہے کہ ڈسٹرکٹ ناظم حاجی مغفرت شاہ اس واقعے کاسیاسی فائدہ حاصل کرناچاہتاہے حالانکہ ہمارے خلاف 7ATAاوردفعہ 324اُ ن کے مشورے کے بعدلگایاگیاتھا۔

انہوں نے اسیران کی رہائی کے لئے کوئی کردارادانہیں کیاہمارے رہائی میں تاخیرصرف ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ کے بیانات کی وجہ سے ہوئے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کسی کوقتل یازخمی نہیں کیاتھاضرف ملعون کے خلاف احتجاج کیاتھاجوکہ ہماراحق تھا۔انہوں نے کہاکہ ہم جوڈیشل انکوائری کامطالبہ نہیں کرتے ہیں ہمارے ساتھ ماورائے قانون زیادتی نہیں ہوئی ہے ۔

انہوں نے پولیس کی طرف سے مبینہ تشدوکومعاف کرتے ہوئے ڈی پی او چترال سیداکبرعلی شاہ کوخراج تحسین پیش کی اوراُنہیں چترال سے تبدیل نہ کرنے کامطالبہ کردیا۔اسیران نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویزخٹک ،آئی جی پی خیبرپختونخواصلاح الدین مسعود،ڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان فداحسن ، مو لانافضل الرحمن ،مولاناعطاء الرحمن،ڈپٹی کمشنر چترال ،مولاناعبدالرحمن،قاری جمال عبدالناصراورقاری نسیم کا شکریہ اداکیاکہ ان کی کوششوں سے ہمارے خلاف لگائے سنگین قسم کے دفعات ختم کئے گئے جس کے بعد ہمیں رہائی ملی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments