چلتے ہو توچترال کو چلئے

چلتے ہو توچترال کو چلئے

73 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر: کریم رانجھا

سا ل رفتہ کا نومبر کا مہینہ تھا،چند دوستوں نے چترال وزٹ کا پروگرام بنایا،راقم کی گھریلو مصروفیات کچھ زیادہ ہی تھیں تو کبھی سردی کا بہانہ اور کبھی شندور ٹاپ کے بند ہونے کا خوف دلایا،لیکن یار لوگ کچھ ایسے ڈھیٹ نکلے کہ مجھے لے کر چلتے ہی بنے،اس سے قبل دو بار چترال کی سرزمین سے ہو آیا تھا اور یہاں کے باسیوں سے شناسائی ہوچکی تھی ،اب کے بار یہ شناسائی محبت میں بدل گئی ۔سر شام اشکومن سے نکلے تو اگلی صبح مستوج جاکر دم لیا۔مجھ جیسے ہر راہرو کی میزبانی نذیر کی ذمہ داریوں میں شمار ہوتی ہے سو ناشتہ بھی نذیر ہاوس مستوج میں ہماری منتظر تھی،پیٹ پوجا کے بعد بونی کی راہ لی۔۔۔۔۔جی ہا ں ۔۔۔۔سرزمین بونی۔۔۔۔جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گئے وقتوں میں ایک بزرگ آیا ۔۔۔ بھوک نے ستایا ۔۔۔بونی میں چند ہی گھر تھے ۔۔۔کھانے کو کچھ نہ ملا۔۔تو اس بزرگ نے کہا کہ’’بو نیست‘‘ کہتے ہیں تب سے بونی کہلاتا ہے (والللہ وعالم بالصواب)۔خیر ہمیں سب کچھ ملا۔۔وقت وقت کی بات ہوتی ہے شاید ۔۔ہماری قسمت کی یاوری تھی کہ بونی کی اہم شخصیت صاحب ولی اسرا کے پاس دو دن گزارنے کا شرف حاصل ہوا ،گلگت بلتستان کا ہر دوسرا شخص جب بونی جاتا ہے تو ضرور یہاں کا مہمان بنتا ہے۔اپنے پچھلے دورے کے دوران صاحب ولی اسراء کی وساطت سے کھوار قلم قبیلہ کے صدر اور کھوار زبان کے مشہور شاعر،مصنف جناب ذاکر محمد زخمی سے ملاقات ہوئی تو کھوارادب اور ثقافت کے حوالے سے مختصر سی گفتگو ہوئی۔کھوار موسیقی میں جدید آلات کے استعمال کے بارے میں جناب زخمی ؔ کاکہنا تھا کہ کھوار موسیقی میں جدید آلات موسیقی کا استعمال ثقافت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔کھوار موسیقی کے ستار،ڈھول،دمامہ(طبلہ) ،بانسری اور دف کو نئی نسل دقیانوسی سمجھنے لگی ہے اور ان کی جگہ کی بورڈ اور بے ہنگم موسیقی نے لے لی ہے جس سے کھوار ادب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔کھوار موسیقی میں جیری کین کے استعمال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کھوار موسیقی کا جیری کین سے کہیں دور کا بھی واسطہ نہیں۔1948کے آس پاس چترال کے فوجی جوان دوران ڈیوٹی اپنا من بہلانے کے لئے اس کو بجانے کے آلے کے طور پر استعمال کرتے تھے،انہی فوجیوں کے ساتھ جیری کین چترال میں متعارف ہوا تب سے اب تک جان نہیں چھوڑ رہی۔انجمن ترقی کھوار اور کھوار قلم قبیلہ جیسے ادبی تنظیمیں اپنی ثقافت کو بچانے اور پروموٹ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔واقعی،چترال کھوار ادب کے حوالے سے ’’لکھنو‘‘ کا درجہ رکھتا ہے۔اس ادب کی چاشنی ان کی اصل موسیقی میں پوشیدہ ہے ’’بادشاہ سٹوڈیو ‘‘والی نہیں۔

چترال کے اپنے پہلے سفر کے دوران چترال کے عظیم شعراء کے ساتھ ایک شام منانے کا بھی موقع ملا جس کا اہتمام لوکل سپورٹ آرگنائزیشن چٹورکھنڈ کے روح رواں علی گوہر نے کیا تھا اور احباب سخن کھوار کے سردار خان بیغش ؔ بھی ہمسفر تھے ۔ترچمیر ہوٹل کے ہال میں چترال کے عظیم شعراء کے ساتھ نشست میری زندگی کا یادگار لمحہ تھا۔گل نواز خاکی ( ؔ مرحوم لکھنا چاہوں تو بھی نہیں لکھ سکتا کہ وہ اپنے فن کے ذریعے آج بھی زندہ ہیں اور جب تک کھوار ادب زندہ ہے تب تک وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے)جناب تاج محمد فگارؔ ،صادق الللہ صادقؔ ،مولا نگاہ نگاہؔ ،محمد یوسف شہزاد(اس وقت ڈائریکٹر پی آئی ڈی ) ،معزالدین بہرام ؔ اور دیگر شعراء نے اپنے کلام کے زریعے حشر برپا کئے رکھا۔گل نواز خاکی ؔ کی ’’شندورا میلہ چکوران‘‘ اب بھی مجھے یاد ہے۔اور سچ کہوں تو ان سب کی شاعری سنتے سنتے مجھے ان سے غائبانہ محبت سی ہوچکی تھی اور جاگتے آنکھوں ان کو دیکھنا اور کلام سننا کم ازکم میرے لئے نعمت سے کم نہیں تھا ،سو دل کی مراد بر آئی،لیکن ’’اوا افضل نو ،تو افضل ۔۔۔دوستی گراں نو کومن بس‘‘ کے خالق افضل الللہ افضل ؔ سے شرف ملاقات کی آرزو لئے واپس ہو لئے ،لیکن اگلے ہی سال چترال پی ٹی ڈی سی میں ملے تو انہوں نے ’’تو مہ مجنوں کوری لوڑے،یا مہ ازبوں کوری لوڑے،افضلو کیاغ جاشوسن تو شیرین جانو تاسم بجیر‘‘سناکر فریفتہ کردیا۔کھوار ادب سے شغف رکھنے والے احباب ایک بار ضرور چترال کا چکر لگائیں کہ یہا ں میرؔ و

غالبؔ ،فیضؔ وفرازکے ہم پلہ شعراء ملیں گے۔یہ دیس ادب سے محبت رکھنے والوں کا ہے اور جو دیس ادب سے محبت رکھتا ہے وہ انسانوں کا دیس کہلا تا ہے کہ ادب کا براہ راست تعلق انسان سے ہے۔

اہل چترال کا دل بڑا لیکن سڑکیں انتہائی چھوٹی ہیں،کے پی کے کا محروم ضلع ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ،پورے چترال میں بجلی میسر نہیں اس لئے نظام زندگی معطل ہے،سیلاب میں یہاں کے تمام بجلی گھر بہہ گئے ،بنانے کی توفیق کسی کونہ ہوسکی ،سو نظام جمود کاشکار ہے۔اور اہل چترال خود ٹھہرے شاہانہ طبیعت کے مالک لوگ۔۔۔۔چترال کا باسی کچھ کرے نہ کرے مرغابیوں کا شکار ضرور کرے گا۔۔محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے ایک سائن بورڈ لگا دیکھا ۔۔جس پر کیمرے کی تصویر کے ساتھ عبارت کندہ تھا کہShoot by camera اور اسی بورڈ کے نیچے ایک شکاری دریا کنارے اپنے بنائے مچان میں بندوق لئے مرغابیوں کا انتظار کر رہا تھا۔

مرکزی چترال اور گلگت کا المیہ ایک ہے،دونوں شہروں پر غیر مقامیوں کاقبضہ،اب تو کے پی کے والے قرمبر جھیل پر بھی دعوے داری کررہے ہیں۔چترال شہر میں چترالی کم پٹھان زیادہ ہیں اور یہی حال گلگت کا بھی ہے۔

چترال کو اگر حدود اربعہ کے حساب سے دیکھا جائے تو تین ضلعے بن سکتے ہیں لیکن لواری سے گرم چشمہ،ارندو،بمبریت سے لاسپور،لوٹکوہ اتنی بڑی آبادی کو ایک ڈی سی او اور ڈی پی اوکے زیر نگین رکھنا بجائے خود ظلم ہے۔ہم گلگت بلتستان کے لوگ صوبے کا رونا رورہے ہیں لیکن اگر چترال کے ساتھ ہورہی ناانصافی کو دیکھا جائے تو ہم بغیر صوبے کے بہت بھلے ۔چترال کے بیشتر لوگ جنرل (ریٹائرڈ) مشرف کو اپنا محسن مانتے ہیں کہ لواری ٹنل پر کام کا آغاز ان کے دور میں ہوا جس کے ذریعے ان کا رابطہ سال کے بارہ مہینے ملک کے دیگر علاقوں سے رہتا ہے،واقعی یہ لوگ احسان فراموش نہیں،ترقیاتی کام سیاستدان کریں یا وردی والا۔۔عوام کو کام سے مطلب ہوتا ہے ۔۔۔چاہے وردی والا ہی کیوں نہ ہو۔

چترال کی سڑکیں انتہائی تنگ لیکن اہل چترال کے دل وسیع ہیں ،سرکاری سطح پر ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر،لاسپور سے بونی تک کی سڑک

انتہائی خستہ،وہاں سے مرکزی چترال تک کی میٹل روڈ انتہائی تنگ حتٰی کہ چترال شہر میں بھی دو گاڑیاں مشکل سے ہی گزر سکتی ہیں۔بمبوریت جانے والی سڑک کی حالت تو انتہائی دگرگوں ہے،اپر چترال یعنی بونی سے آگے کے علاقے لاسپور،بروک ،ہرچین،مستوج دریا کے دوسرے جانب سرغوز،رمن،گشٹ اور’’ جنت سنوغر‘‘ ترقی کے لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔مجھے یوں لگا کہ ان محرومیوں کے ذمہ دارسیاسی نمائندوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے باسی بھی ہیں،کیونکہ حقوق دئے نہیں جاتے،چھینے جاتے ہیں اور اہل چترال مروت کے مارے چھیننا تو دور کی بات حقوق مانگ بھی نہیں سکتے۔اور یہی بے جا مروت قوموں کو لے ڈوبتی ہے۔

گلگت بلتستان اور چترال کی ثقافت ایک اور خصوصاََ ضلع غذر کے ساتھ مزید تاریخی ولسانی تعلقات ہیں،اس لئے چترال جائیں تو اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا،شندور کے حوالے سے ایگ گزارش کرنا چاہوں گا کہ اس مسئلے کو لاسپور اور پھنڈر تنازعے تک محدود رکھا جائے چونکہ اولین حق ان دونوں کا ہے،گلگت بلتستان اور چترال کے بعض لوگ اس تنازعے میں بلاوجہ کود کررشتوں کو خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں جو کسی طور مناسب نہیں ۔ضلع غذر کے مشہور شاعر ممتاز علی اندازؔ کے ان اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

چھترار دی اسپہ گلگت بلتستان دی اسپہ شیر

اسپہ گلشنو گل ،یا گلستان دی اسپہ شیر

شندورار گنی راولئیو ٹاپ اپت

کوہستانار گنی بی خنجراب اپت

راولئی بابوسر شندورو یا آن دی اسپہ شیر

چھترار دی اسپہ گلگت بلتستان دی اسپہ شیر

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author