شندورمیلہ۔۔ایک بار پھر مہمان؟؟؟؟

شندورمیلہ۔۔ایک بار پھر مہمان؟؟؟؟

60 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خیبر پختون خوا اورگلگت بلتستان صوبائی حکومت کے زمہ داران کے درمیان شندور میلے کے حوالے سے کامیاب مزاکرات ہونے کی نوید سنائی گئی ہے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ ایونٹ فوج کی نگرانی میں منعقد کرایا جائیگا دوسری طرف اخباری اطلاعات کے مطابق محکمہ سیاحت کے پی کے کے ایک زمہ دار آفسر کا کہنا ہے کہ اس سال پھر میزبانی کے پی کے کی حکومت کے حصہ میں آگئی ہے جس کے مطابق یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ پچھلے سال بھی شندور ایونٹ کے تمام اخراجات کے پی کے نے کئے ہیں جی حکومت نے اس حوالے سے کوئی خرچہ نہیں کیا یہ بات کہاتک درست ہے اس کا جواب تو جی بی حکومت کے حکمران ہی دے سکتے ہیں بقول گلگت بلتستان کے صوبائی وزیر سیاحت کے مطابق اس سال میزبانی دونوں صوبوں کی طرف سے کرنے کی نوید سنائی تھی مگر اب یہ خبریں آرہی ہے کہ اس سال بھی کے پی کے کی حکومت شندور میلے کے تمام انتظامات اور اس ایونٹ کی اخراجات برداشت کرئیگی اگر ایسا ہے تو کیا ایک بار پھر ہم اپنے علاقے میں بطور مہمان شریک ہونگے ان مزاکرات کے حوالے سے ابھی تک گلگت بلتستان حکومت کی طرف سے کوئی خبر شائع نہیں ہوئی اور نہ ہی کے پی کے کی طرف سے جاری بیان کی کوئی وضاحت کی گئی ہے جہاں تک شندور ایونٹ کاتعلق ہے یہ ایک انٹرنیشنل ایونٹ کی شکل اختیار کر گیا ہے اور سالانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس اہم میلے میں شرکت کے لئے گلگت بلتستان اور چترال کے راستے شندور پہنچ جاتی ہے اور تین روز تک اس اہم ایونٹ میں شرکت کرکے اس پر فضا مقام اور جنت نظیر وادی کی اچھی یادیں لیکر اپنے اپنے علاقوں کی طرف روان ہوتے ہیں شندور ٹورنامنٹ کی وجہ سے نہ صرف گلگت اور چترال بلکہ دونوں صوبوں کو ان سیاحوں کی آمد سے کروڑوں روپے کا فائدہ ہوتا ہے شندور کی خوبصورتی کو دیکھ کر غیرملکی سیاح تین روز نہیں بلکہ کئی دنوں تک اس پر فضا مقام پر خیمہ زن ہوتے ہیں اور جب یہاں سے چلے جاتی ہیں تو بڑی یادیں لیکر جاتے ہیں خصوصا ان دونوں علاقوں کے عوام کی مہمان نوازی سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں

قارئین کرام:۔

1986سے قبل شندور میں کسی قسم کی کوئی تعمیرات نہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ جنت کاایک ٹکڑا لگتا تھا 1987میں جنرل ضیاالحق نے سہ روزہ شندور میں شرکت کے لئے شندور آنا تھا جس پر چترال سکاوٹس نے شندور میں دو کمروں پر مشتمل ایک ریسٹ ہاوس تعمیر کیا اس کے بعد سالانہ کچھ نہ کچھ شندور میں تعمیر ہوتا گیا جس سے شندور کی حسن میں بڑی حد تک کمی آئی ہے اگر تعمیرات کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس خوبصورت علاقے کی خوبصورتی ختم ہوجائیگی حالانکہ سابق صدر پرویز مشرف نے دنیا کے اس خوبصورت مقام شندور میں کسی بھی قسم کی تعمیرات پر پابندی عائد کر دی تھی اس کے باوجود بھی طاقت کے بل بوتے پر تعمیرات سمجھ سے باہر ہے جبکہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ کے پی کے کی حکومت نے شندور کو بھی سی پیک میں شامل کر دیا گیا ہے جہاں ایک عالیشان ہوٹل کی تعمیر کے علاوہ دیگر تعمیرات کے حوالے سے بھی باتیں ہورہی ہے بلکہ یہاں تک بتایا گیا ہے کہ یہاں پر کرکٹ اور ہاکی کے گراونڈ بھی تعمیر ہونگے جس پر پونے دوارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی گراونڈ کی تعمیر تک کی بات تو سمجھ آتی ہے مگر ہوٹل اور دیگر تعمیرات اگر شندور میں کئے گئے تو اس سے اس جنت نظیر خطے کی قدرتی حسن ختم ہوجائیگی اس حوالے سے ہمارے حکمرانوں کو سوچنا ہوگاچونکہ جب اس قدرتی حسن سے مالامال علاقے میں اگر تعمیرات کا سلسلہ جاری رہا تو اس خوبصورت علاقے کی قدرتی حسن میں کمی ائیگی۔ شندور کو سی پیک میں شامل کرنے کے حوالے سے کے پی کے گورنمنٹ نے جی بی حکومت کو اعتماد میں لیا ہے یا نہیں اس کا جواب تو گلگت بلتستان کے حکمران ہی بہتر طریقے سے دے سکتے ہیں چونکہ پانچ سے چھ کلومیٹر قدرتی حسن سے مالامال اس خطے کو دیکھنے سالا نہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں اگر اب اس علاقے میں اتنی ساری تعمیرات ہونگی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان غذر اور گلگت کو ہوگا شندور جھیل کا پانی الودہ ہوگا اور یہ پانی جوکہ دریائے غذر میں داخل ہوتا ہے ہم صاف وشفاف پانی کی بجائے الودہ پانی پینے پر مجبور ہونگے اس حوالے سے بھی گلگت بلتستان کی حکومت کو آواز بلندکرنی ہوگی اگر یہاں پر ہوٹلوں کی تعمیر اور تعمیرات کا سلسلہ بند نہ ہوا تو اسکا سب سے زیادہ نقصان گلگت بلتستان کو ہوگاچونکہ شندور جھیل سے ایک قطرہ پانی بھی چترال کی طرف نہیں جاتی جھیل کا پانی غذر کی طرف آرہا ہے دوسری طرف کے پی کے حکومت نے اپنی مرضی سے شندور میں تعمیرات کے حوالے اس اہم منصوبے کو سی پیک میں رکھا ہے اور اس حوالے سے بھی یہ معلوم ہوا ہے کہ اس منصوبے کی حوالے سے بھی کے پی کے حکومت نے جی بی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی اور اپنی مرضی سے پونے دو ارب روپے شندور میں تعمیرات کی مد میں سی پیک میں شامل کرا دیا ہے اور ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے فائدہ کے پی کے کو ہوگا اور جی بی کے صاف وشفاف پانی الودہ ہونگے اور تمام الودہ پانی دریائے غذر میں شامل ہوگا اس حوالے سے گلگت بلتستان کی حکومت کو ابھی سے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کرنا ہوگا ورنہ اس حوالے سے بھی ہم نے غلطی کی تو ہمارے آنے والی نسلیں کمی ہمیں معاف نہیں کرئیگی

قارئین کرام شندور میلے کی تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے اور گلگت سے شندور میلے میں شرکت کے لئے پولو کے کھلاڑی اپنے گھوڑوں سمیت پھنڈرپہنچ گئے ہیں 29 جولائی سے 31 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ہے اور ابھی سے ہی شائقین پولو نے غذر کے بالائی علاقوں میں ڈیرے ڈال دئیے ہیں اور اس وقت ہزاروں کی تعداد میں سیاح غذر کے بالائی علاقوں میں خیمہ زن ہیں سطح سمندرے12700فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا بلند ترین پولو گراون شندور میں ہر سال ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور چترال کے ہزاروں شائقین پولوکی ایک بڑی تعداد دنیا کے اس بلند ترین پولو گراونڈ میں کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کے کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں چونکہ اب تو تاریخ کا بھی اعلان ہوا ہے ہمارے صوبائی وزیر سیاحت فدا خان فدا کاکہنا ہے کہ اس سال شندور میلے کی میزبانی گلگت بلتستان اور کے پی کے کی حکومتیں مشترکہ طور پرکرئے گی اور برابر کی بنیاد پر شندور میلے کا انعقاد کیا جائے گا اب یہ دیکھنا ہوگا کہ واقعی میں ایسا ہوگا چونکہ کے پی کے کے محکمہ سیاحت کے ایک آفسر کے اخباری بیان کے مطابق شندور میلے کے تمام اخراجات کے پی کے حکومت کر رہی ہے اور جی بی حکومت نے اب تک ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا اور اس سال بھی تمام اخراجات کے پی کے کی حکومت ہی کر رہی ہے گلگت بلتستان کی پولو ٹیموں اور مہمانوں کو عزت دی جائیگی لیکن تمام اخراجات کے پی کے حکومت برداشت کرتی ہے گلگت بلتستان کی پولو ٹیموں کو شامل کرنے کا مقصداس فیسٹول کو کامیاب بنانا ہے چونکہ کے پی کے حکومت کے اس بیان میں کتنی حقیقت ہے یہ تو ہمارے وزیر سیاحت فداخان فدا ہی بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں چونکہ موصوف خود کے پی کے جاکر اس حوالے سے وہاں کے حکام سے باقاعدہ میٹنگ کرکے ائے ہیں ان کو بہتر پتہ ہوگا کہ کیا اس سال ہم یعنی جی بی کے عوام بحثیت مہمان شندور جاتے ہیں یا میزبان کی حثییت سے شرکت کرتے ہیں وزیر موصوف کے اس حوالے سے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author