مایوس قوم کے لئے ایک اُمید کی کرن

تحریر: اشرف ربانی

مملکت خداداد  پاکستان   مسلمانان برصغیر  کی ان عظیم جدوجہد اور لاتعداد انسانی جانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا۔قائد اعظم کا تصور پاکستان ہو یا علامہ محمد اقبا ل کا خواب  ایک ایسی آزاد مملکت کا قیام تھا جو ہر لحاظ سے خود مختار ہو ، جہاں معاشی مساوات ،عدل و انصاف ،حقوق انسانی کا تحفظ ،قانون کا احترام ،حقیقی جمہوری نظام ہو،سستے اور جلد انصاف کی ضامن ہو ،جہاں کی پولیس عوام کی محافظ ہو ۔ الغرض یہ ملک ایک آزاد ،خود مختار ،مستحکم  اور ایک مکمل اسلامی ،فلاحی ریاست کے لئے بنایا گیا تھا ، لیکن  آزادی کے کئی سالوں بعد  بھی ہم آج کہاں کھڑے ہیں ؟  ہمارا آج کیا  ہے؟  اور ہمارا مستقبل کیسا ہوگا؟

قیام پاکستان کے وقت برصغیر میں مسلمان ایک مکمل قوم کی حیثیت رکھتے تھے اور اس قوم کو ایک آزاد ملک کی ضرورت تھی لیکن 71 سال بعد ہمارے پاس ملک تو موجود ہے پر اس ملک کو ایک متحد قوم کی ضرورت ہے ، اور کچھ قابل اور مخلص  لیڈرز کی بھی ضرورت ہے  جو اس ملک کو قائد کا حقیقی  پاکستان بنا سکے۔ یہ ہماری ملک کی ہمیشہ سے  بد قسمتی ر ہی ہے  کہ ہمیں کچھ اچھے حکمران ملے پر  ہم ان  سے فائدہ نہیں اٹھا سکے جیسا کہ ذولفقار علی بھٹو کا ہی  مثال لے لیں انہوں نے اس سوئے اور بکھرے  ہوئے قوم کو پھر سے  جگانے اور یکجا کرنے  کی سر توڑ کوشش کی لیکن ان کی زندگی نے وفا نہیں کی ۔

عرصہ دراز سے ہمیں  تبدیلی کے نام پے صرف دعوئے اور اعلانات کرنے والے حکمران ہی ملے ہیں اس لئے ہماری یہ قوم مایوس ہو چکی ہے ،لیکن اس مایوس قوم کو ایک بار پھر امید کی نعمت اور یقین کے نور سے  بہرہ مند کرنے والا ایک ہی لیڈر ”عمران خان ” کی شکل میں  نظر آنے لگا ہے  جو  ان کو مایوسی سے نکال سکتے ہیں اور امید اور یقین کا نور ان کے چہروں پر ایک بار پھر پلٹ کے لا سکتا ہے۔یہ مایوس قوم ایک  مکمل تبدیلی کے آرزو  لیے کئی سالوں سے ایک ایسے ہی لیڈر کی تلاش میں ہیں جو ان کو ایک روشن مستقبل کی ضمانت دے  نہ کہ پھر سے ہمیشہ کہ طرح تبدلی کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیں۔اس کرپٹ سسٹم ، نا اہل قیادتوں اور غیر شفاف سیاسی نظام اور غیر موثر حکومتوں  کے نتیجے میں اس قوم  پر ہر طرح کے ظلم ڈھائے جاتے ہیں  ،لوگ اس وقت زندگی کے بنیادی ضرورتوں سے محروم ہو کر خود کو ختم  ” خود کشیوں پر مجبور ہیں۔ لیکن ان  تمام مایوسیوں کے باوجود اب کے بار ان کو ایک امید عمران خان کی صورت میں نظر آنے لگی ہیں جو باقی تمام  لیڈرز کے نسبت  زیادہ قابل اور ملک و قوم کے ساتھ مخلص نظر آتے ہیں ۔

25نومبر 1952کو لاہور میں  سول انجینئر اکرام اللہ خان نیازی کے گھر پیدا ہونے والے عمران خان نیازی جو زمانہ طالبعلمی تک ایک عام سے شرمیلے نوجوان تھے، 1971سے 1992تک کرکٹ کے میدان میں چھکے چوکے لگانے اور وکٹیں گرانے میں مصروف رہے لیکن جب انہوں نے اپریل 1996میں پاکستان تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی تو لوگوں کی اکثریت نے ان کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کی، وہ مختلف شہروں میں جاکر اپنی تحریک کا پیغام پہنچاتے بلکہ اپنے آپ کو ایک سیاست دان کی حیثیت سے متعارف کراتے رہے ان ہی دنوں  ایک صحافی نے اُن سے کہا کہ خان صاحب آپ کے ارادے بہت نیک  معلوم ہوتے  ہیں اور آپ کی باتیں بھی بہت اچھی ہیں لیکن ہمارے ملک کے سیاست دان جو کچھ کررہے ہیں اس کے باعث اب کسی نئے سیاسی کھلاڑی پر لوگ  جلدی اعتماد کرنے کے لیئے تیار نہیں ہیں اور آپ کے پاس تو کارکن بھی نہیں ہیں؟ عمران خان نے صحافی کی  بات بہت تحمل سے سنی اور کہا ”یہ بات درست ہے کہ لوگوں کو اب سیاست دانوں پر بھروسہ نہیں رہا ، نئے سیاست دانوں پر لوگ اتنی آسانی سے اعتماد نہیں کریں گے لیکن مجھے امید ہے کہ لوگ بہت جلد میری سیاست کے مقصد اور تحریک انصاف کے منشور اور مقصد کی تعریف کرنے لگیں گے ،اور بہت جلد میں لوگوں کی توقعات پر پورا اتر جاں گا ، عمران خان  نے تحریک انصاف یعنی عوام کو انصاف دینے کی تحریک شروع کی جس کا بنیادی مقصد ایک ہی تھا   ملک میں کرپشن کا خاتمہ ،جہاں معاشی مساوات ،عدل و انصاف ،حقوق انسانی کا تحفظ ،قانون کا احترام ،حقیقی جمہوری نظام ہو،سستے اور جلد انصاف کی ضامن ہو ،جہاں کی پولیس عوام کی محافظ ہو ۔ الغرض اس ملک کو  ایک آزاد ،خود مختار ،مستحکم  اور ایک مکمل اسلامی ،فلاحی ریاست بنانا۔

1996میں جب تحریک انصاف بنی جس میں زیادہ تر وہ لوگ شامل تھے جو نظریاتی یعنی اس مشن کو آگے لے جانے والے تھے ، اس وقت الیکشن بالکل سر پر تھے ،پیپلز پارٹی کو حکومت سے کرپشن پر ہٹا یا گیا تھا جب کہ  مسلم لیگ بھی اس سے  پہلے کرپشن کی وجہ سے  فارغ ہوچکی تھی لیکن باوجوداس کے ان دونوں پارٹیوں میں ہی مقابلہ ہوا کرتا تھا ۔ اس وقت میاں نواز شریف نے غالباً 20قومی اسمبلی کے سیٹ دینے کی آفر عمران خان کو کی  یاد رہے قومی اسمبلی کی نشستیں آج کے مقابلے میں بہت کم تھی اس حساب سے  بیس سیٹیں بہت زیادہ تھیں لیکن عمران خان نے میاں نواز شریف کی اس آفر کو ٹھکرا دی  اور کہا  میں سیاست میں آپ لوگوں کے خلاف آیا ہوں تاکہ آپ لوگوں کی کرپشن اور نااہلی کو بے نقاب کر سکوں ، یہ بھی نہیں تھاکہ آج کی طرح پی ٹی آئی مقبول جماعت تھی بلکہ بالکل نئی اور الیکشن سے چند ماہ پہلے بنائی گئی تھی ۔

میں انقلاب پسندوں  کی اک قبیل سے ہوں

جو حق پر ڈٹ گیا  اس لشکر قلیل سے ہوں

میں یوں ہی دست وگریباں نہیں  زمانے سے

میں جس جگہ پہ  کھڑا  ہوں  کسی دلیل سے ہوں

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں پی ٹی آئی کوئی نشست حاصل نہ کرسکی اور عمران خان بھی اپنی نشست ہار چکا تھا  اور ایک بھی نشست پہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ اس وقت عمران خان سے کسی صحافی نے سوال کیا  کہ خان صاحب آپ تو ایک بھی نشست پہ کامیابی حاصل  نہیں کر سکی ؟ تو اُن  کا جواب یہ تھا کہ میر ا ووٹرز ابھی چھوٹے ہیں  ان کی عمر ابھی کم ہے  15,16 سال بعد دیکھے پارٹی کیسے چلے گی۔اُس وقت  عمران خان کے اس فیصلے اور ہار کو دیکھ کر  ناقدین  نے عمران خان کا مذاق اُڑایا   اسی طرح سیاسی ناقدین تو آج بھی عمران خان کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی جس میں حقیقت بھی ہے کہ جس طرح کی سیاست پاکستان میں پچھلے 71سالوں سے ہوتی چلی آرہی  ہیں  ،وہ سیاست عمران خان کو شروع ہی سے نہیں آئی ہے اور نہ ہی اب آتی ہے۔ عمران خان اُس وقت الیکشن میں مکمل ناکامی کے بعد گھر جا کر بیٹھ جاتے اور جس طرح پہلے عیش وعشرت سے زندگی گزرتے دوبارہ وہ شروع کرتے یا اپنی بیوی جمائمہ کی بات مان کر لندن چلے جاتے  اور وہاں پر سیاست کرتے اور برطانیہ کا وزیراعظم بن جاتے لیکن عمران خان ان ناکامیوں کومایوسی میں تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی وہ کسی پارٹی  مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے بلکہ  عمران خان  نے کہا ،میں انشاء اﷲ ان کرپٹ مافیا کا مقابلہ کروں گا اور پاکستان کوعلامہ اقبال اور قائد اعظم کا پاکستان بناؤں گا جہاں پر قانون کی حکمرانی ہوگی ، امیر وغریب کے لئے یکساں نظام ہوگا۔
عمران خان   پاکستان کا وہ  واحد سیاسی لیڈر ہے جنہوں نے سیاست پڑھی ہے اور اٹھارہ سال مغرب کا سیاسی نظام بھی  دیکھا ہے ۔ ہماری ملک کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں پر سیاسی پارٹیاں اور جمہوریت برائے نام ہے ۔ عمران خان نے نہ صرف اس نظام کو تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھایا بلکہ ان تمام برائے نام جمہوری اور سیاسی پارٹیوں کے خلاف مسلسل جدوجہد اور آواز بلند کی انہوں نے  اُن بڑے بڑے سیاستدانوں  کے بارے میں ایسے ایسے  حقائق بیان کی اور   اُن کے خلاف اُس وقت آواز بلند کی کہ لوگ اُن  کے خلاف بولنے کو اپنی موت کو دعوت دینا   سمجھتی تھیں، جب کوئی میڈیا پرسن یا سیاست دان ان کا نام اچھے معنوں میں بھی پوچھ کر لیا کرتے تھے  عمران خان نے اُن سیاستدانوں کی سیاست کو ہی  ختم کر دیا ۔جس کی زندہ مثال   پوری قوم  کی سامنے ہے کہ وہ شخص جو 3 دفعہ وزیراعظم بنا  اقتدار کے مزے لوٹے اور کرپشن کر  کے منی لانڈرنگ  کے ذریعے  ملک کا پیسہ باہر لے کے گئے تھے ا اُس شخص کو نہ صرف تا حیات نا اہل کرانے میں کامیاب ہوئے بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سال کے لئے پارٹی صدارت کے لئے بھی نا اہل کر دیا  ۔میں سمجھتا ہوں  کہ اب عوام کو تبدیلی کے لئے پہلے سے بھی زیادہ کھل کر عمران خان کا ساتھ دینا ہوگا کیوں کہ عمران کی طرح ایماندار اور مخلص لیڈر عرصہ بعد ہی پیدا ہوتے ہیں اس لئے اب کی بار ایسے قابل لیڈر کا فائدہ اٹھانا چاہئے اور ہمیں ایسے دلیر اور بہادر لیڈر کے ذریعے اپنے آج اور کل کو بہتر کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔

تحریر : اشرف ربانی

rabbanibalti@gmail.com

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments