نفرت آمیز اور من گھڑت مضمون چھاپنے پر امت اخبار کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے کاروائی کی جائے، انجینئر اسماعیل

نفرت آمیز اور من گھڑت مضمون چھاپنے پر امت اخبار کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے کاروائی کی جائے، انجینئر اسماعیل

180 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گھانچھے (پ ر) پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے سینئر سیکریٹری جنرل، اور سابق صوبائی وزیر انجیئر اسماعیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 24جولائی 2017 کو کراچی سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ امت  نے سید شاہ محمد نوربخش کے پیروکاروں کے عقائد کے خلاف مضمون لکھ کر پاکستان کی سالمیت پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی ہے۔ مذہب نوربخش کے پیروکار اللہ رسول اسکی آخری کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ آہلبیت و آئمہ اطہار سے محبت انکے ایمان کا حصہ ہے۔ تمام اسلامی اصولوں پر کاربند ہیں۔

روزنامہ امت کے اس مضمون سے مسلک نوربخش کے پیروکاروں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچا ہے۔

میں امت اخبار کی امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اس مضمون سے گانچھے کے عوام میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ میں بحثیت صوبائی جنرل سکریٹری پیپلز پارٹی گلگت بلتستان سندھ کی صوبائی حکومت سے رابطے میں ہوں۔ اور انکی نوٹس میں یہ بات لا چکا ہوں۔ اور ان سے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرچکا ہوں۔

میں وفاقی حکومت سے گانچھے کی عوام کیطرف سے مطالبہ کرتا ہوں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت مذکورہ اخبار اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی تو عوام گانچھے اس کا شدید رد عمل دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ مسلک نور بخش کے پیروکار پاکستان کی سرحدوں کے محافظ ہیں۔ اور ہمارے مسلک کے خلاف من گھڑت اور بے بنیاد پروپیگنڈے کر کے ہمیں سرحدوں کی حفاظت سے غافل کرنے کی سازش ہوئی ہے۔ حکومت ان خفیہ ہاتھوں اور انکے پشتبانوں کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لا کر مسلک نوربخش کے پیروکاروں کے جذبات اور وطن کو دی جانے والی قربانیوں کا خیال رکھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔