Uncategorizedکالمز

شینا کا وقار اور ادب کا تاج ظفروقار تاج

کالم ۔ قطرہ قطرہ

تحریر۔ اسرارالدین اسرار

گلگت بلتستان میں شاعری، ادب، موسیقی ، ثقافت اور مقامی زبانوں کا ذکر ہو اور تاج خاندان کا ذکر نہ ہوتو کہانی ادھوری ہی نہیں بلکہ بدذائقہ ہوجاتی ہے۔ تاج خاندان سے ہماری محبت کا رشتہ دادا کے زمانے سے رہا ہے۔ سرکاری مصروفیات کے باوجود عبدلخالق تاج نے ادب، شینا شاعری اور موسیقی کے لئے اپنی جوانی وقف کر رکھی تھی اور یہ سلسلہ ریٹائرمنٹ کے بعد اب تک جاری ہے۔ اس سے قبل تعلیم یافتہ لوگ موسیقی کی محفلوں میں بیٹھنا معیوب سمجھتے تھے۔ عبدلخالق تاج نے موسیقی کی دنیا میں جب قدم رکھا تو پڑھے لکھے لوگوں نے ایسی محافل میں بیٹھنا اپنا لئے اعزاز سمجھنا شروع کیا۔ دن کے اوقات سخت دفتری کام سے فراغت کے بعد کھبی تحصیل آفس کے لان میں تو کھبی شہر کے کسی ہال میں اور کھبی کسی سبززار میں محافل کا انعقاد ہوتا تھا ۔ ظفر وقار تاج بچپن سے باپ کے ساتھ ہر ادبی اور موسیقی کی محفل میں نظر آتے تھے۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ شاعری، موسیقی اور گانے گانا آوارہ ، ناکام اور فارغ لوگوں کا کام ہے ۔ لیکن تاج خاندان نے سارے مفروضے خاک میں ملا دئیے۔ ظفر تاج ایک ہونہار طالب ہونے کے ساتھ ادبی محافل میں کم عمر شاعر کے طور پر بھی ابھرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے تعلیم اور ادب دونوں میں ترقی کے بام عروج تک پہنچ گئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد مقابلہ کا امتحان پاس کیا اور جب اسسٹنٹ کمشنر لگے تو لوگوں نے حیرانی کا اظہار کیا کیونکہ موسیقی اور شاعری کی ہر محفل میں نظر آنے والے ایسے نوجوان کا مسقبل لوگوں کے نزدیک تاریک ہونا چائیے تھا لیکن یہاں تو اس کے برعکس تاج خاندان کا چشم و چراخ نے ہر طرف کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ ظفر جوں جوں انظامی عہدوں پر ترقی پاتے گئے اسی لگن اور دل لگی سے ادب، شاعری اور موسیقی سے جڑے رہے۔ اب ظفر کی پہچان ان کا سرکاری عہدہ نہیں بلکہ ان کی ادب سے وابستگی ہے۔ ظفر کے چاہنے والے ان کے عہدے کی وجہ سے ان کی عزت نہیں کرتے بلکہ ان کی شاعری اور ادبی خدمات کی وجہ سے ان سے محبت کرتے ہیں۔ اگر عہدہ کی وجہ سے یہ شہرت اور عزت ملتی تو تمام سرکاری افیسران کو ملتی۔ ظفر نے کم عمری میں ہی اردو اور شینا میں اتنی زیادہ اور معیاری شاعری کی کہ لوگ انگشت بدندان ہوکر رہ گئے۔ تہلکہ تو اس وقت مچا جب علاقہ کے نامور گلوکار جابر خان ، سلمان پارس اور شیر خان نگری نے اپنی سریلی اور مدھر آواز میں ظفر کی باوقار شاعری گانا شروع کردیا۔ ہر گانا دوسرے گانے سے زیادہ شہرت حاصل کرتا رہا۔ ” شینا مئے باش مہ گیلیتو ہنوس” جیسے گانوں نے نوجوان نسل کو ظفر کا گرویدہ بنا دیا۔ ہر گھر، گاڈی، گلی ، دکان ، محلہ ، شہر، شادی ہال اور تقاریب میں ظفر ہی ظفر چھایا ہوا تھا۔ سننے والوں نے ظفر پر محبتیں ایسی نچھار کیں کہ اہل ادب عش عش کر اٹھے۔ ‘اجو اوالِئے اسووار گا گیلتئے چکر ایک تھے” جیسے گانوں نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا۔ شینا میں انقلاب برپا ہوا۔ گم شدہ الفاظ دوبارہ زندہ ہونے لگے، بچہ، بڑھا ، جوان اور خواتین شادیوں کی محافل میں ظفر کا کلام سن کر جھومنے لگے۔ نئ نسل نے نے پشتو، اردو ، انگریزی اور انڈین گانے سننا چھوڑ دیا۔ شتیال سے شمشال تک اور لداخ سے چترال تک شینا بولنے اور سمجھنے والے تو کیا جن کو شینا سمجھ نہیں آتی تھی وہ بھی ظفر کا کلام سن کر اور گنگنا کر محظوظ ہونے لگے۔ ظفر نے اپنے گانوں کی بیشتر دھنیں بھی خود ترتیب دی اسی طرح انہوں نے زبان و ادب کے ساتھ موسیقی کو فروغ دینے کا کارنامہ بھی سر انجام دیا۔ ان کی دھن ستمگار افغانستان تک کاپی کی گئ۔ انہوں نے کئ پرانی اور گم شدہ دھنوں کو بھی زندہ کیا اور نئ دھنیں بھی متعارف کراکر شینا موسیقی کی وسعت کا باعث بنے۔ شیناشاعری میں انہوں نے ان الفاظ کو زندہ کیا جو لوگ بھول چکے تھے۔ ظفر نے مشین کی طرح ایک سے بڑھ کر ایک اچھا اور معیاری کلام لکھا اور کم وقت میں بہت زیادہ لکھا۔ شینا میں لوگ صرف موسیقی سنتے تھے مگر ظفر کے دور میں لوگوں نے موسیقی کے ساتھ شاعری میں دلچسپی لینا شروع کردیا۔ موجودہ نسل ظفر سے ٹوٹ کر محبت کرتی ہے۔ گویا ہم عہد ظفر میں رہتے ہیں۔
ظفر نے اردو میں بھی کمال کی شاعری کی۔ ان کے کہے ہوئے کئی  اردو اشعار بھی بڑے مشہور ہیں۔

شینا میں تو ان کا ایک سے بڑھ کر ایک کلام مشہور ہوا۔ پچھلے دو سالوں میں ان کا گانا ستمگار کی سحر سے لوگ نکلے نہیں تھے کہ اب "تھئے گوئر ایک ملنگ یایون توٹ دعا تھو جو” نے موسیقی کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

ظفر کا ایک کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کے زریعہ شینا زبان کو شہرت عطا ء کی، کیونکہ نان شینا سپیکرز یہ نہیں جانتے تھے کہ شینا زبان میں اتنی مٹھاس اور وسعت ہے۔ ظفر نے نت نئی دھنوں اور نئے الفاظ کے زریعہ شینا کی وسعت کو بھی یقینی بنایا جس کا درک اس سے پہلے کے شعراء کو بہت کم تھا۔ شینا موسیقی اور زبان و شاعری میں ظفر کا نام رہتی دنیا تک باقی رہے گا۔ ان کو شینا کا مزرا غالب کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ ان کو اپنی شہرت کی فکر ہوتی تو وہ اردو میں شاعری کر کے دنیا بھر میں نام کماتے سکتے تھے۔ ان کے اردو کلام کے دو مجموعے پہلے ہی چھپ چکے تھے مگر اس کے بعد انہوں نے زیادہ تر شینا شاعری کی۔ قدرت کا کرنا دیکھئے اسی شینا شاعری نے ان کو وہ شہرت عطاء کی جو بڑی بڑی زبانوں کے نامور شعراء کو حاصل ہے۔ ہم نے پچھلے تین چار سالوں میں جی بی فوکس کے جوانوں کے ساتھ مل ظفر کے تیں یا چار شینا البوں کی تقریب رونمائی کی۔ جس میں شینا ڈئیلاگ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ کراچی ، اسلام آباد اور جی بی میں منعقد ہونے والی ان تقریبات کو ہماری توقعات سے بڑھ پزیرائی ملی۔ جی بی فوکس پروفیشنل نوجوانوں کی ٹیم پر مشتمل ایک ادراہ ہے جس کو مختلف شعبوں کے نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت جی بی کی مقامی زبانوں، ادب ، ثقافت اور موسیقی کی ترویج کے لئے رضاکارانہ خدمت کے طور پر چلاتے ہیں۔ جی بی فوکس کے اس پلیٹ فارم سے ہم نے ظفر وقار تاج کے ادبی کارناموں کو قریب سے دیکھا اور پرکھا۔ ان کی شاعری، موسیقی اور زبان پر کیا گیا کام معیاری اور وسیع ہے۔ مقامی زبانوں کی ترویج کے لئے بنائی گئ اکیڈمی کے سربراہ کے طور پر انہوں نے جو کام کیا ہے وہ ہماری آئندہ نسلوں پر ایک احسان ہے۔ مقامی زبانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا اور پرائمری نصاب کی تیاری کا کام جوئے شیر لانے کے مترادف تھا جس کو انہوں نے احس طریقہ سے نھبایا ہے۔ مستقبل میں جدید تقاضوں کے مطابق تحقیق کے زریعہ اس کام میں یقینا نئی نسل بہتری لائے گی مگر ظفر کو اس کام کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ظفر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کو کم عمری میں ہی زبان، ادب ، شاعری اور موسیقی کے شعبوں میں بے پناہ شہرت ملی۔ دنیا میں بہت کم لوگوں کو یہ اعزازحاصل ہے جن کا کام ان کی زندگی میں ہی تسلیم کیا گیا ہو اور ان کو اعزاز سے نوازا گیا ہو۔ گذشتہ دنوں علاقہ کی واحد مادر علمی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے ظفر وقار تاج کے کام کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں ایک شام ظفر وقار تک کے نام کا انعقاد کیا۔ جس میں یونیورسٹی کے وی سی، فیکیلٹی، ایڈمنسٹریشن ، طلباء و طالبات ، علاقہ کے نامور شعراء، اہل ادب اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ظفر کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ واقعی ظفر اس خراج تحسین کے حقیقی حقدار ہیں۔ کیونکہ ظفر شینا کا وقار ، ادب کا تاج اور موسیقی کا بے تاج بادشاہ ہے۔

ہمارے اس لیونگ لیجینڈ کے عظیم کام کے اعتراف میں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے تقریب کے انعقاد پر ہم وی سی قراقرم انٹرنیشن یونیورسٹی اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کو داد دیتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ مستقبل میں ایسی عظیم ہستیوں کی عزت افزائی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

نوٹ۔ راقم نے بھی "ایک شام ظفرکے نام” میں شرکت کی اور جی بی فوکس کی نمائندگی کرتے ہوئے گفتگو کی لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے تفصیلی بات چیت نہیں کی جاسکی تھی جس وجہ سے آج کے اس کالم کا سہارا لیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: