یومِ آزادی ۔۔۔اور ہمارے رویے

یومِ آزادی ۔۔۔اور ہمارے رویے

34 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ایک شخص نے خواب میں دیکھا ۔حضرتِ قائداعظم ،قومی پرچم کے سامنے نہایت مغموم بیٹھے ہیں۔ان کی آنکھوں میں گہری اداسی کے سائے ہیں۔اس شخص نے پوچھا۔’’آپ اتنے اداس کیوں ہیں؟ہم نے تو پڑھا اور سنا ہے آپ بڑے ہی چٹانی حوصلوں کے مالک تھے۔انگریزوں کی طاقت اور ہندؤوں کی منافقت آپ کو جھکا نہیں سکی تھی۔آپ نے ان سے ٹکر لی اور ا ب تو ہمیں ایک آزاد ملک بھی نصیب ہوا ہے۔ پھر آپ کیوں مغموم ہیں؟‘‘

حضرت قائداعظم نے ایک گہری سانس لی۔اور قومی پرچم پہ نظریں جما کر بولے۔’’یہ قومی پرچم دیکھ رہے ہو۔اس میں سبز رنگ کا بڑا ٹکڑا ہے اور سفید رنگ کا چھوٹا۔میں چاہتا ہوں ان رنگوں کی جگہ تبدیل کی جائے۔یعنی سفید رنگ کو بڑا اور سبز رنگ کو چھوٹا کر دیا جائے۔‘‘

اس شخص نے حیرت سے پوچھا۔’’حضرت اس وطنِ عزیز میں پچانوے فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں ۔اور سبز رنگ ان کی نشاندہی کرتا ہے۔اسے کیسے بدل دیں؟‘‘

آپ نے گہرے دکھ سے فرمایا۔’’میں جانتا ہوں سبز رنگ مسلمانوں کی اکثریت کو ظاہر کرتا ہے۔مگر یہ تب کی بات ہے کہ میں نے جو پاکستان آپ کے لیے چھوڑا تھا۔اس وقت ایک مسلم قوم بن کر یہ ملک حاصل کر لیا تھا۔لیکن آج یہ سب کیا ہے کہ ہر فرقہ دوسرے کو باطل سمجھتا ہے۔اور اک ذرا ڈھیل مل جائے تو کافر کہتا بھی ہے۔ایک دوسرے کی عبادت گاہوں، عبادات اور نظریات کو سراسر خارج از اسلام سمجھتا ہے۔ جب ہر کوئی ایساہے تو مسلمان کدھر ہیں؟اور اگر اصل میں دوچار مسلمان یہاں وہاں موجود ہیں بھی تو فلاں فلاں فلاں۔۔۔اور بس فل سٹاپ!!! ایسے میں سبز رنگ کے اس بڑے ٹکڑے کی منافقت کیوں ہے؟اور منافق شخص اللہ کا ،اس کے رسولَ ََٓصلی اللہ علیہ وسلم کا اور تمہارے اس قائداعظم کا نہایت دشمن ہے۔اس لیے یا اصل مسلمان بن جاؤ یا اپنے قومی پرچم کو بدل دو۔۔۔‘‘(ماخوذ)

قارئینِ کرام۔۔۔!!!اسے محض ایک خواب کا فسانہ نا سمجھیں۔۷۰ سالوں سے یہ ملک ،جس طرح ان رویوں کی آگ میں جل رہا ہے یہ اس کا ایک حقیقت پسندانہ اظہار ہے۔

کسی مفکر نے بڑے پتے کی بات کہی ہے۔’’آزاد ہونا مشکل ہے،آزادی برقرا ررکھنا مشکل تر۔‘‘

اس قول کے تناظر میں بات کریں تو یہ قوم ایک مشکل مرحلے سے گزر کر ۷۰ سال کی ہوگئی ہے۔اور آزادی کے ان ستّر سالوں نے یہ سبق پڑھایا ہے کہ آزادی برقرار رکھنا واقعی ایک مشکل تر عمل ہے ۔آزادی صرف یہ نہیں کہ اپنی خود مختار حکومت مل جائے۔زمین کا ایک ٹکڑا مل جائے۔اصل آزادی سوچ اور عمل کی ہے۔یعنی بدلتے حالات میں آگے بڑھنے والی قوموں کی طرح اپنے رویوں اور سوچ کے زاویوں کو بدلنا اصل میں آزادی کا فلسفہ ہے۔

پاکستان ہمیں نصیب ہوا ۔اس کے پیچھے سرسید احمد خان کی علمی،سیاسی اور سماجی کوششوں سے لے کر قائد اعظم کی انقلاب پرور قیادت تک ،کئی دہائیوں کا ایک مسلسل او ر پُر عزم سفر تھا ۔قائد اعظم کے شانہ بہ شانہ مسلم لیگ کے حوصلہ مند اور مخلص رہنماؤں اور کروڑوں مسلمانوں کا قابلِ فخر جذبہء آزادی تھا ۔یہ منزل آسان نہیں تھی۔ان کا سفر قدم قدم پر کانٹوں ،پتھروں اور آگ کے دریاؤں سے بھرا تھا۔انگریزوں کی طاقت اور ہندؤوں کی منافقت کی شکل میں دو زبردست رکا وٹیں تھیں ۔مگر قائد اعظم کی ثابت قدمی ،ان کے وژن اور کروڑوں مسلمانوں کا ایک آواز ہو کر اپنے قائدین پر اعتماد نے حصولِ پاکستان کی منزل آسان بنا دی ۔

ابتدا میں جو میں نے عرض کیا کہ آزادی کا مطلب محض کسی خودمختار حکومت کا حصول ہی نہیں ۔بلکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو بدلنا ہی اصل آزادی کا فلسفہ ہے ۔ان ۷۰ سالوں میں دنیا بہت تیزی سے بدل گئی ہے ۔قوموں نے ترقی اور خوش حالی کے نئے افق ڈھونڈ لیے ہیں ۔یہ سائنس کا ،ٹیکنالوجی کا اور ہمہ جہت تعلیم کا دور ہے ۔یہ شمس و قمر پر قمندیں ڈالنے کا دور ہے ۔آج کے اس دن کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم بھی دنیا کے ساتھ ساتھ چلیں ۔ہم بھی اپنے آنے والے دور کو خوش گوار موسموں سے بھر دیں ۔ہم بھی دنیا کی طرح شمس و قمر کی تسخیر کا ڈھنگ سیکھ لیں ۔اور اس کے لیے ۔۔۔۔۔

کوئی نہیں سفر کی شرط ،جو بھی چلے چلے مگر

درد سے تیز اٹھ سکے ،جاں سے تیز جا سکے

وقت بدلتا ہے تو زمانے کا مزاج بھی بدل جاتا ہے۔زندہ قومیں اسی بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنا اندازِ نظر بھی بدل دیتی ہیں۔۷۰ سال پہلے کی دنیا کچھ اور تھی اور اب دنیا کا رنگ ڈھنگ کچھ اور ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایسا انقلاب بپا کر دیا ہے کہ ہر چیز وقت سے پہلے ہڑ بڑا کر جوان ہوئی ہے۔اور ہم ۷۰ سال بعد بھی ابھی بچّے ہی ہیں۔یعنی ایسے نادان ہیں کہ درست طور پر مضبوط قدموں سے چلنے کا طریقہ ہی نہیں جانتے۔

عظیم فلسفی روسو نے کہا تھا۔’’انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر جہاں بھی دیکھو وہ پابہ زنجیر ہے۔‘‘ اس قول کے تناظر میں غور کریں تو ہم آزاد ہو کر بھی آزادی کی روح اور اس کے ثمرات سے محروم رہے ہیں۔جغرافیائی تصورِ حیات کے مطابق تو ہم آزاد قوم کہلائے۔مگر فکری ،سماجی اور مسلکی حدبندیوں میں جکڑے رہے ہیں۔فرقوں،جماعتوں اور طبقوں میں بٹ کر اسلام کے آفاقی تصور اور قائد اعظم کے پاکستان کے حقیقی تصورِ شہریت کو سرِ عام رُسوا کراتے رہے ہیں۔امام الانبیاء کی بات ٹھکرا کر امام المساجد کی باتوں کو اہمیت دیتے رہے ہیں۔یوں ایک طرح سے جگنو پکڑنے کے خبط میں روشن سورج کے وجود سے ہی انکار کرتے رہے ہیں۔

دنیا سمٹ کر ایک تھالی جتنی بن گئی ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی نے جغرافیائی اور نظریاتی دیواریں گرا کر انسان کو انسان کے قریب کر دیا ہے۔سوچوں میں وسعت آتی گئی ہے۔سماجی ترقی اور تہذیبی شعور میں اضافہ ہوتا گیا ہے۔تبدیلی …ایک تیز تر تبدیلی قوموں کے لیے ترقی اور خوش حالی کی ضامن بن گئی ہے۔۔۔

مگر قائداعظم کے اس پاکستان میں۔۔۔آج ۷۰ سال بعد یہ قوم آگے بڑھنے کے زعم میں پیچھے ہٹتی رہی ہے۔بہ ظاہر دنیا کی دیکھا دیکھی ان میں بھی تبدیلی آتی گئی۔سماجی شعور بڑھا ۔معاشی ترقی ہوئی۔علم میں اضافہ ہوا ۔تعلیمی ادارے خود رَو پودوں کی طرح گلی محلوں میں اگتے رہے۔ڈگریاں تھوک کے حساب سے بٹتی رہیں اور آگے بڑھنے کا جذبہ بھی پیدا ہوا مگر…

منیر اس ملک پہ آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

تعلیمی اداروں سے نئی سوچ ،نیا انداز اور نیا وژن ملتا ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں سے یہ صفات ملتی رہی ہوں یہ الگ بات ہے۔مگر اس سب کے ساتھ عصبیت،فرقہ واریت اور خاکبازی کی ڈگریاں بھی بے حساب ملتی رہی ہیں۔ہمارے تعلیمی اداروں سے مستقبل کے معمار کم ۔۔۔سوچ اور جذبے کے بیمار زیادہ بر آمد ہوتے رہے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں یہ نقائص ،کچھ اندر سے اور بہت زیادہ باہر سے پروان چڑھتے رہے ہیں۔تعلیمی اداروں کے اندر استاد محض تنخواہ حلال کرنے کی نیت سے پڑھاتا رہا ہے۔ایسے میں استاد اور شاگرد دونوں کولہو کے بیل کی طرح نصابی کتب کے کھونٹے سے بندھے بس ایک ہی دائرے میں گردش کرتے رہے ہیں۔ایک وسیع تر اور انقلاب پرور دنیا کے تقاضوں سے نابلد رہے ہیں۔

ہمارے مذہبی ،سیاسی اور فکری ایوان کوڑھ کی کاشت کرتے رہے ہیں۔اور یہی کوڑھی فکر ہمارے تعلیمی اداروں کی پیداوار کو بھی متعفن بناتی رہی ہیں۔اور نتیجہ یہ کہ آگے بڑھتے بڑھتے ہمارے طلبہ اس زہریلی سوچ کے کانٹوں سے لہولہان ہو کر بہ حیثیت مسلمان اور انسان دم توڑتے رہے ہیں۔بس ایک پارٹی باز نوجوان کے طور پر اپنے ہی عقیدے اور نظریے کی بند گلی میں بھٹکتے رہے ہیں۔

اس کے ساتھ علمی اور ادبی حلقے بھی نہ چاہتے ہوئے اس کوڑھ زدہ سوچ کے کیڑوں سے گلتے سڑتے رہے ہیں۔دفاتر فرض شناسی ،ایمانداری اور قومی ہمدردی سے زیادہ بدعنوانی،بے ایمانی ،فرض ناشناسی اور خود غرضی کے جوہڑ میں لت پت رہے ہیں۔

ان ستّر سالوں میں باقی دنیا سے پنا موازنہ کریں تو فخر کا احساس کم ،پچھتاوا زیادہ ہوتا ہے۔کسی قوم کو سنبھلنے کے لیے،کسی ملک کو بدلنے کے لیے ۷۰ سال ایک طویل مدت ہوتی ہے۔صرف ایک ملک کی مثال اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہے۔

۶ اگست ۱۹۴۵ء کو امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرادیا ۔اس بم کا نام’’ لٹل بوائے‘‘ تھا ۔مگر اس لٹل بوائے نے بِگ بِگ آفت ڈھادی تھی۔۳۰ سیکنڈ میں ایک لاکھ ۴۰ ہزار لوگ جل کر راکھ ہوئے ۔ہزاروں سے آگے زخموں سے ٹوٹ پھوٹ گئے ۔تین دن بعد ہی یعنی ۹ اگست ۱۹۴۵ء کو دوسرا بم جسے ’’ فیٹ مین ‘‘کا نام دیا گیا تھا ،ناگاساکی پر قیامت بن کر گرا ۔ایک منٹ سے بھی کم عرصے میں ۷۴ ہزا ر جاپانیوں کی موت واقع ہوئی اور ان سے زیادہ زخمی ہوئے ۔

یہ دونوں شہر جاپان کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح تھے۔ان شہروں کی تباہی سے جاپانیوں کی کمر ٹوٹ گئی ۔امریکہ کے جنرل میک آرتھر نے حکومت کا نظام سنبھال لیا ۔بہ ظاہر جاپان تباہ ہوگیا تھا اور جاپانی قوم بدترین شکست سے دوچار ہوئی تھی۔مگر اس شکست خوردہ قوم نے خود کو سنبھال لیا ۔جلد ہی انہوں نے اپنی ذلت آمیز شکست کا بدلہ بھی لے لیا ۔مگر کیسے ؟؟؟

جاپان نے اپنا بدلہ جنگی جنون سے نہیں لیا ۔دشمن کو بندوق کے زور پر شکست نہیں دی ۔بلکہ حالات اور مستقبل کے امکانات کو سمجھ کر ،تعلیم کے بل بوتے پر خود کو طاقت ور بنا دیا ۔علم و ہنر ،سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ایک شعوری جذبے کے ساتھ اترے ۔اپنی ذلت آمیز شکست کے غم و غصے کو ایک تعمیری جوش کے ساتھ بروئے کار لایا ۔اور آج جاپان کی معیشت ،اس کی سائنس و ٹیکنالوجی میں طاقت کی بہ دولت ،وہی امریکہ بہادر جاپان سے خائف ہے ۔اس سے بہترتعلقات کو اپنی پالیسیوں میں اولیت دیتا ہے۔

اسی تناظر میں ہم اپنی بات کریں ۔۱۹۴۷ ء کے بعد ہماری حالت اتنی خراب نہیں تھی جتنی جاپان کی جوہری تباہ کاریوں کے باعث ہوئی تھی۔وہ قوم ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی تھی اور ہم تقسیم کے دوران ٹوٹ پھوٹ کر بھی ایک آزاد ملک کی شکل میں جُڑ گئے تھے۔مگر جاپانیوں نے اپنے زخم زخم وجود کو سنبھال کے پھر سے باوقار طریقے سے زندگی گزارنے کا راستہ اختیار کر لیا ۔جبکہ ہم نے اپنے زخم زخم وجود کو بھلا دیا ۔آزادی کی بے قدری کی ،ہزاروں لاکھوں قربانیوں کو ضائع کر دیا ۔ہمارے نصیب میں صبحِ آزادی تو لکھی گئی تھی،مگر اس صبح کے بعد طلوع ہونے والی صبحوں سے رات کا اندھیرا تو دور ہوا لیکن ہمارے نصیب کے اندھیرے اسی طرح چھائے رہے ۔نظام بدل بدل کر ،چہروں پہ نقاب چڑھا چڑھا کر اہلِ اقتدار نے وہ اودھم مچا دی کہ آج تک قوم منتشر ہے اور معیشت ابتر۔۔۔

ہر شعبہٗ حیات ابتری کا شکا ر رہا ہے۔سیاست ،مذہب ،معیشت ،صحت اور تعلیم ،ہر جگہ ادبار ،انارکی ،اور بے چینی کی دُھول اڑ رہی ہے۔پورا ملک سیاسی بازیگروں کا اسٹیج بنا ہوا ہے ۔سیاست کے ایسے ایسے کرتب دکھائے جارہے ہیں کہ الامان و الحفی٭۔۔۔!

سر بلند ،سر نِگوں ہورہے ہیں ۔کہیں ایسے لوگ جن کا قد کاٹھ ماچس کی تیلیوں کے برابر ہے وہ اپنے سے بڑی بڑی کرسیوں پہ براجمان ہیں ۔کہیں تاج اچھالے جارہے ہیں ،کہیں تخت گرائے جا رہے ہیں ۔کہیں حلق پھاڑ ،مائک توڑ قسم کی تقریروں سے مخالفوں کی عزتوں کے جنازے نکالے جارہے ہیں ۔بڑی سے بڑی کرسی والا بھی اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہے۔چھوٹی سے چھوٹی کرسی والا بھی اپنے ہونے کا احساس دلانے کے لیے آمادہ ٗ جنگ ہے۔

قارئین کرام ! جب حالت جنگ کی ہو ،انا رکی اور بے چینی کی ہو ۔تو پھر حکومت ،قوم و ملک کی خوش حالی کے لیے کیا خاک کام کرے گی ؟

بس یہی افراتفری آج پورے وطنِ عزیز میں ہے۔سیاست کی غلام گردشوں میں بڑی رونق لگی ہے جبکہ عوام ،چکّی کے پاٹوں کے بیچ پسنے والے اناج کی طرح ہوگئے ہیں ۔اندرونی اور بیرونی سازشوں نے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر کے رکھ دی ہیں ۔المیہ یہ ہے سیاسی رہنما اور نظام چلانے والے، عوام کی بدحالی سے بے نیاز ہو کر ریاست اور سیاست کا اکھاڑا گرم کیے ہوئے ہیں ۔ایسے میں آزادی کا ستّر سالہ جشن پھیکا پھیکا لگ رہا ہے۔خاکم بہ دہن ! یہ ۷۰ واں یوم آزادی کسی بھی لحاظ سے مستقبل کی خوش حالی اور ترقی کی امید نہیں جگاتا۔مایوسی کفر ہے ۔مگر جو حالات ہیں اس کے مطابق کفر کے اندھیرے ہی چار سُو پھیلے دکھائی دیتے ہیں۔

آج کا زمانہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے۔نئی سوچ ،نئے وژن اور ایک نئے طرزِ احساس کاہے۔خاک بازی کا نہیں ،تسخیرِ کائنات کا ہے۔ٹکڑوں میں بٹنے کا نہیں،ٹکڑے ٹکڑے سمیٹ کر زمانے کو للکارنے کا ہے۔ترقی یافتہ اور زمانے میں انقلاب بپا کرتی قوموں کی شان اور انقلابی روش اختیار کرنے کا دور ہے۔مغرب ہمارے ملکوں پہ،ہمارے ذہن ودل پہ اسی علم و دانش کے سبب چھایا ہوا ہے۔ہم محض ماضی کے کارناموں کا مزار بنا کے ،اس کی عظمتِ رفتہ کا ڈھنڈورا ہی پیٹتے رہے ہیں۔عملاََ ڈھول کا پول ہیں۔اگر ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا ہے۔سر اٹھا کے وقار کے ساتھ جینا ہے تو علم کو،برداشت کو ،محنت کو ،مثبت رویوں کو اور رواداری کو لازمی طور پر ترجیحات میں شامل کرناہوگا۔یہی قائداعظم کی روح کا ہم سے تقاضا ہے۔یہی یومِ آزادی کا فلسفہ ہے۔اور یہی آگے بڑھنے کا اصل راستہ ہے۔

تبھی ممکن ہے کہ سیاسی ،مذہبی اور معاشی بدچلنی کے جو یہ اندھیرے چھائے ہوئے ہیں،یہ چھٹ جائیں گے ۔امن ،چین اور خوش حالی کے پرندے پھر سے اس دھرتی پہ اُتر آئیں گے ۔

بہت سُنے ہیں فسانے تخیُّل کے بُنے ہوئے

آؤ اب اپنے گریباں میں بھی جھانکیں مل کر

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments