خواب کیا ہوتے ہے؟

خواب کیا ہوتے ہے؟

55 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

انسان ماضی اور مستقبل کو جس زہنی تصور سے پنپتا ہے، وہ خواب کہلاتے ہیں۔ خواب زہنی فعل ہے، انسان خواب سوتے ہوئے بھی دیکھتا ہے، اور جاگتے ہوئے بھی۔ سوتے ہوئے جو خواب دیکھتا ہے، وہ سپنے کہلاتے ہیں، اور جاگتے جو دیکھتا ہے وہ خیال کہلاتے ہیں۔  اور یہ دونوں فعل یا تو ماضی کے اچھے ، برے، یا پھر حال اور مستقبل کےاچھے، برے کی تصویر پیش کرتے ہیں، انسا ن عموما خوابوں میں جیتا ہے، اور اس وجہ سے حال کی رعنائیوں سے بے خبر رہتا ہے۔

خواب اور بیداری کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ خواب اور بیداری دراصل زندگی کے دو رُخ ہیں۔  اور زندگی کی تمام حرکات و سکنات بھی دو رخوں پر قائم ہیں۔ زندگی کے وہ دو رخ جن پر ماضی حال اور مستقبل رواں دواں ہیں۔ بنیادی طور پر خواب اور بیداری ہیں جب کہ سمجھا یہ جاتا ہے کہ خواب کوئی خاص زندگی نہیں ہے البتہ بیداری زندگی ہے۔ علومِ ظاہری کے دانش ور جب خواب کا تذکرہ کرتے ہیں تو خواب کو ایک خیالی زندگی کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ صرف حواس کی درجہ بندی کا فرق ہے۔ ایک حواس میں ذی روح اپنے اوپر پابندی محسوس کرتا ہے اور دوسرے حواس میں خود کو پابندی سے آزاد دیکھتا ہے۔ ان میں ایک ہی فرق صرف پابندی اور آزادی کا ہے۔

 انسان زندگی میں خواہشوں اور تمناوں کےحاصل کی امید کرتاہے، اگرچہ بعض مکاتب فکر خوا ہش کو بری چیز قرار دیتے ہے ، اور ترک خوا ہشات کی ٹان لیتے ہے، حالانکہ پھر وہ یہ بھول جاتے ہے کہ خواہشوں کو ترک کرنے کا عمل بھی ایک خواہش ہے۔ یہ انسان میں فطری ہے، چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جب تک انسا ن ہے، تب تک خواہشات بھی ہے، اور جب تک خواہشات ہے، تب تک خواب بھی ہوتے ہیں۔  خواب انسانی خواہشات کی تصویر کو حقیقت کا روپ دینے  کا زریعہ ہوتے ہیں۔

خواب کیا ہوتے ہے؟ مثال کے طور پر ایک ادمی سپنے میں دیکھتا ہے کہ وہ بادشاہ بن گیا ہے اور کافی خوش ہے، جب انکھ کھولتا ہے تو چارپائی پہ، ایک طالب علم کی خواہش ہے کہ وہ مستقبل میں ادیب بنیں ،  اور وہ اپنی محنت اپنا وقت اپنے خواب کو حاصل کرنے کیلئے  استعمال کرتا ہے، ایک  بوڑھاا اپنی جوانی کی باتیں یاد کرکے خوشی حاصل کرتا ہے۔ بھوک لگتا ہے تو کھانے کی خواہش خواب ہے، یہ سب خواب ہوتے ہے۔  غرض انسا ن خوابوں کی تکمیل کیلئے جیتا ہے۔

 .نسیر احمد نسیر  خوابوں کے بارے میں کیا خوب نظم  لکھا ہے”خواب دیکھتے ہو ئےکچھ بھی کیا جا سکتاہے

مثلاًگدھےکی سواری،شیر کے ساتھ دوستی،پالتو میمل کے تھنوں سے براہِ راست دودھ پینا،چیونٹیوں کے بل میں گھس کر،ان کی جمع کی ہوئی خوراک چوری کر لانا،درخت کی چوٹی پر بیٹھ کر قیلولہ کرنا،مَرے بغیر اپنی قبر میں جا کر لیٹ جانا،نماز پڑھتے پڑھتے سو جانا،ساتھ لٹائے ہوئے کھلونوں کو،بچوں کی طرح ٹانگ مار کر،

بیڈ سے نیچے گرا دینا،صدر مملکت کے پیٹ میں گد گدی کرنا،اور وزیر اعظم کے ساتھ گپیں لگاتے ہوئے،ہاتھ پر ہاتھ مارکر قہقہے لگانا،اور وہ سب کچھ جو بیداری کی حالت میں عام طور پر نہیں کیا جا سکتا

اگر ہم خواب کو ایک جملے میں سمونے کی کوششش کریں ، وہ یہ ہے کہ خواب زندگی کی حقیقت ہے، اور انسان خوابوں سے ہی زندہ ہے، انسان کو ہمیشہ خواب دیکھنا چا یئے کیونکہ یہ منزل کی جانب راستہ ہموار کرتا ہے، بلکہ انسان کو

 منزل دلاتا ہے، خو اب ایک اعظیم سہارا ہے ، خو اب خوشیوں کا باعث ہوتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments