چترال کے ساتھ بے انصافی اورظلم و زیادتی کی انتہا ہو چکی،مزید امتحان نہ لیا جائے، اے این پی

چترال کے ساتھ بے انصافی اورظلم و زیادتی کی انتہا ہو چکی،مزید امتحان نہ لیا جائے، اے این پی

27 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(بشیر حسین آزاد)عوامی نیشنل پارٹی کے صدرالحاج عید الحسین، جنرل سکر ٹری میر عباد اللہ اور ایڈیشنل جنرل سیکرٹری حاجی شیر آغا نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کہاکہ گولین گول پاور پراجیکٹ 31سالہ طویل ترین تعمیری مر حلے سے گذرنے کے بعد تکمیل کو پہنچنے والی ہے۔ اس پاور ہاؤس سے جون 2017تک اور پھر دسمبر2017تک چترال کو بجلی دینے کی خبریں سنائی گئیں۔وزیر اعظم پاکستان نے جون2017تک افتتاح کا مژدہ سنایا اور چترال کیلئے مخصوص مقدار میں بجلی مقامی گرِڈ سے فراہمی کا اعلان بھی فرمایا جو بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ بلکہ بیشتر وقت نا یابی کا عذاب اور اذیت سہتے ہوئے چترالیوں کیلئے خوشی و طمانیت کا باعث تھا۔مگر اُن خوشیوں کو اضطراب و اشتعال میں بدلنے کیلئے محکمہ واپڈا اور ذیلی ادارہ پیسکو (Pesco)اپنی روایتی چترال دشمنی ،سرد مہری اور سوتیلا پن کا مظاہر ہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیسکو نے 2020سے پہلے چترال کوگولین گول پراجیکٹ سے بجلی دینے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔اور یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ نیشنل گرڈ سے بلا تعطل چترال کو بجلی کی سپلائی ہو رہی ہے۔حالانکہ 24گھنٹوں میں سے چھ گھنٹے بھی نیشنل گرد سے بجلی نہیں آ رہی ۔چھ گھنٹے بھی بجلی کی صرف آنکھ مچولی رہتی ہے اور وولٹیج نہ ہونے کے برابر ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پیسکو کی طرف سے موجودہ ناقص ترسیلی لائن /نیٹ ورک اور جزوی بجلی کی پیداوار کو مقامی طور پر کھپانے کا مسئلہ وہ خدشات ہیں جو غیر مصدقہ طور پر پھیل رہی ہیں۔خدا نخواستہ ان باتوں میں حقیقت نہ ہو۔اور وقت آنے پر وہ تاخیر ی جواز نہ بنائے جائیں۔اورقومی اسمبلی کے محترم ممبرصاحب نے جو ترویدی وضاحت کیا ہے ۔وہ تسلی بخش نہیں ۔یہ بات یقینی ہونی چاہیے کہ وزیر اعظم ہاؤس سے جو ڈائریکٹیو جاری ہوا ہے اس کے من و عن عمل در آمد پر واپڈا/پیسکو متفق اور مجوزہ سہولت کی محکمانہ طورپر تحریری منطوری ہو چکی ہے اور ترسیلی لائنوں و جزوی پیداوار کی مقامی کھپت کا کوئی مسئلہ نہیں ؟واپڈا /پیسکو کی طرف سے چترال کے ساتھ بے انصافی ،ظلم ذیادتی اور سرد مہری کی انتہا بہت ہو چکی ہے۔اب چترالیوں کے صبر وشرافت کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔

دسمبر 2017تک اب بھی کافی وقت ہے ۔اگر تاخیری حربوں کو استعمال کرتے ہوئے بجلی کی فراہمی کو مزید طول دیا گیا تو اس کا اتنہائی شدید عوامی رد عمل یقینی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔