دیامر کا چلغوزہ: عالمی منڈی تک رسائی سے محروم

دیامر کا چلغوزہ: عالمی منڈی تک رسائی سے محروم

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

قدرت نے کرہ ارض کو اپنے خاص حکمت و قدرت کاملہ سے بیش بہا انواع اقسام نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے اور یہ تمام نعمتیں اشرف المخلوقات کیلے مسخر کیا ہے ۔انسان قدرت کے ان تمام نعمتوں سے استفادہ حاصل کرتا ہے مگر کچھ نا سمجھ غافل انسان اللہ تعالی کے عطا کردہ ان نعمتوں کی قدردانی میں کوتاہی سے کام لیتے ہیں۔ دیامر کا جلغوزہ بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے مگر کچھ مقامی بدقسمت قسم کے لوگ جلغوزہ جیسے بیش قیمتی ڈرائی فروٹ کے درختوں کو بھی کاٹنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں ۔ ہر سال دیامر کے مختلف نالہ جات میں پانچ سے چھے ہزار تک جلغوزہ کے درخت کاٹے جاتے ہیں اور اس سے معمولی قسم کے اوزار تیار کرتے ہیں یا سوختنی ضروریات پورا کرتے ہیں ۔ایک درخت سے زیادہ سے زیادہ پانچ من لکڑی حاصل کرتے ہیں جس کی کل مالیت علاقے کے حساب سے محض ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک ہوتی ہے یا ایک دیسی حل جو کیسان بناتے ہیں اتنی ہی مالیت کا یہ بھی ہوتا ہے جبکہ ایسی ایک درخت سے سالانہ پندرہ سے بیس کلو جلغوزہ حاصل ہوتا ہے جس کی کم از کم مالیت پندرہ سے بیس ہزار روپے ہوتے ہیں اب پندرہ سو روپے کیلے پندرہ سے بیس ہزار سالانہ دینے والا درخت سے ہمیشہ ہمیشہ کیلے محروم ہو جاتے ہیں کچھ لوگ جلغوزوں کے بڑے بڑے درختوں کو صرف آٹھ دس جلغوزہ کے گچھے جو بلندی پر ہوتے ہیں جس کو توڑنا مشکل ہوتا ہے اس لیے پورا درخت کو ڈیر کر دیتے ہیں ۔کوئی ادارہ ٹولہ یا جماعت ایسا نہیں ہے کہ ان لوگوں کو سمجھائے کہ اس میں نقصان ہے ۔ایک محکمہ جنگلات جس کی اپنی حالت قابل رحم ہے اس ادارے کو جنگلات کے بارے میں علم ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اس ادارے کے دفاتر اور لاؤ لشکر جنگلات سے کوسوں دور شہروں میں ہیں جبکہ جنگلات بالائی علاقوں میں ہیں بیشتر علاقوں میں ایک ایک ہفتہ تک جنگلوں میں آگ لگ جاتا ہے مگر اس ادارے کو بالکل خبر ہی نہیں ہوتا ہے مقامی لوگوں کے زبانی سنتے ہیں اور منہ بند رکھنے کا مشہورہ دیتے ہیں کچھ سالوں سے سوشل میڈیا اور دیگر زرائع سے پریشر بڑھنے کی وجہ سے ایک اور غضب کا معاملہ یہ ہوا ہے کہ محکمہ جنگلات نے تحفظ جنگلات کیمٹی کے نام پر کمیونٹی کا ایک ایسا گروہ بنا یا ہے جو صرف اور صرف جنگلات کے تباہی پر یقین رکھتے ہیں اور ان ہی مقامی کمیٹیوں کے ایماء پر جنگلات تباہ ہو چکے ہیں اگر ایسی طرح کمیونٹی سے ہی کام لینا ہے تو محکمہ جنگلات کا کیا فائیدہ ہے؟ اس سے بہتر یہ ہے کہ اس ادارے کو ختم کر کے جنگلات کو مقامی تحفظ کمیٹی کے حوالے کردیا جائے تاکہ ایک دوسروں کے آسرے پر تو نہ رہیے ۔خیر بات طویل ہوگئی جلغوزہ سے بات نکلی تھی اس سال جلغوزہ کی پیداوار بہت ہی اچھا ہے گزشتہ سال کی بنسبت اس سال پیدوار دگنا ہے اور جلغوزہ بھی اعلی کوالٹی کا ہے مگر مقامی محنت کش اس بات کو لیکر بہت مایوس ہیں کہ اس سال جلغوزہ چائنہ لیے جانے پر پابندی عائد ہے اگر چہ اس پابندی کی سر کاری طور پر کوئی سٹیٹ منٹ نہیں ہے مگر مقامی سطح پر یہ تا ثر موجود ہے اگر چائنہ سر کار کی طرف سے یہ پا بندی ہے تو انتہائی تشویشناک مسلہ ہے اس پر فوری اقدامات اٹھانی چاہیے چونکہ اس سے مقامی لوگوں کو کروڑوں کا نہیں بلکہ اربوں کا نقصان ہو سکتا ہے گزشتہ سال صرف چلاس شہر میں دو ارب روپے کی جلغوزہ کا خرید و فروخت ہوا ہے اس سال یہ تعداد دگنی ہے اگر وہی ریٹس رہے تو اس سال معمولی حساب سے چار ارب روپے دیامر میں آسکتے ہیں صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وفاقی حکومت کی تعاون سے دیامر کے جلغوزے کو نہ صرف چائینہ تک رسائی دیں بلکہ قدرت کے اس عظیم تحفہ کو یورپ میں بھی متعارف کرائے تا کہ دیامر کے سوغات سے عالمی مارکیٹ کا رونق دو بالا ہوسکے چونکہ سننے میں آیا ہے کہ یہ جلغوزہ دیامر سے چائنہ جاتا ہے اور وہاں بٹھیوں میں پکنے کے بعد چائنیز لیبل لگ کر یورپ کے سرد ممالک میں جاتا ہے جہاں ڈالروں میں اس کی خرید و فروخت ہوتی ہے اب اگلے ایک مہینے میں دیامر کا جلغوزہ مار کیٹ میں آجائے گا اگر صوبائی حکومت دیامر کے عوام سے زرا سی ہمدردی کا مظاہرہ کر کے وفاقی حکومت کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کر یں تو مجھے یقین ہے کہ دیامر کا یہ بیش بہا جلغوزہ عالمی مارکیٹ تک رسائی حا صل کر سکتا ہے اس سے غریب عوام کی معیشت بہتر ہوگی اور ساتھ ہی حکومت کی نیک نامی یقینی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔