وزیر تعلیم کے دعوے اور سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال

کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کا راز اس ملک کی تعلیمی صورتحال اور نتائج سے ہی کیا جاسکتا ہے تعلیم کے بغیر کوئی بھی ملک ،قوم ،معاشرہ ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتا گلگت بلتستان کا شمار ملک کے انتہائی پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں دیگر سرکاری محکموں میں اصول و ضوابط اور قوانین کا فقدان ہے وہاں محکمہ تعلیم جیسے اہم اور مقدس پیشے کے ساتھ بھی ہمیشہ سے کھلواڑ ہوتا رہا ہے ماضی میں اس اہم محکمے کو نہ صرف زریعہ معاش کا مرکز بنا یا گیا بلکہ تجارت کا محکمہ ہی بنا رکھا جس کے باعث عوام کا اس اہم محکمے سے اُمید اور توقع ہی اُٹھ گئی یوں گلگت بلتستان میں تعلیم کا نام گالی بن کر رہ گیا تھا پیپلزپارٹی کے دور کی خاتمے کے بعد مسلم لیگ نواز کی حکومت برسر اقتدار آئی نواز لیگ نے اپنے الیکشن منشور میں تعلیمی نظام کی بحالی اور میرٹ کا یقینی بنانے کا منشور سامنے رکھا بھاری اکثریت کے بعد ن لیگ کی حکومت نے صوبائی وزیر تعلیم کا تاج ضلع گانچھے سے منتخب رکن اسمبلی حاجی محمد ابراہیم ثنائی کے سر سجا دیا وزیر موصوف نے شروع دن سے ہی گلگت بلتستان کی بوسیدہ نظام تعلیم کو سدھارنے کا نعرہ لگایا عوامی اجتماعات اور میڈیا کے سامنے ڈھائی سالوں سے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے دعوے کرتے رہے تمام ذیلی علاقوں میں سرکاری سکولوں کے عمارتوں ،انفراسٹکچر ،طلبا و طالبات کو درپیش مسائل جن میں فرنیچر ،کلاس روم، پینے کے صاف پانی ،واش رومز اور دیگر تعلیمی بنیادی سہولیات دہلیز پر فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتے رہے موجودہ وقت میں گلگت بلتستان کے دسویں اضلاع کے تمام بالائی علاقوں میں ان تمام سہولیات مکمل ناپید ہے کہیں پر اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے تو کہیں پر حوا کی بیٹیاں اور طلبا کھلے آسمان سخت موسمی حالات میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے دسویں اضلاع کے بالائی علاقوں میں سرکاری سکولوں میں بچے ،بچیاں وزیر تعلیم گلگت بلتستان حاجی محمد ابراہیم ثنائی کی وعدہ وعیدوں کو نبھانے کی آس لگائے منتظر ہیں جہاں تک بلتستان ریجن کا تعلق ہے وہاں کا تعلیمی نظام بالائی علاقوں میں اب بھی ماضی کے دور کا قصہ بیان کررہے ہیں سرکاری اساتذہ کی سیاسی مداخلت پر تبادلے ،سکولوں کی خراب رزلٹ اور اساتذہ کی من مانیاں وزیر تعلیم کے لئے مسلسل چیلنچ بنا ہوا ہے سپائڈر مین بن کر ہر سکولوں میں ماہوار چھاپہ مارنے کا دعویٰ کرنے والے وزیر موصوف صرف اپنے من بسند کی سیکرٹری تعلیم کو لانے میں کامیاب تو ہوگئے ہیں لیکن ان کے اپنے آبائی حلقے ضلع گانچھے کے تعلیمی اداروں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے جہاں تک گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے تمام سرکاری طلبا و طالبات کے لئے مفت کتابوں کا سلسلہ شروع کیا ہے وہ یقیناًقابل تحسین اور قابل تعریف ہے موجودہ صورتحال میں نظام تعلیم کو بدلنے کے لئے متعدد بار قوانین پاس کئے ہیں لیکن ان پر تاحال کوئی عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آرہا گلگت بلتستان میں نظام تعلیم مسلسل زبوں حالی کاشکار ہے پچھلے حکومت میں اس مقد س محکمے کو تجارت کا زریعہ بنایا گیا تو اس حکومت نے سیاسی محکمہ بنا دیا ہے سیاسی بنیادوں پر تقرری اور تبادلے سے جہاں گلگت بلتستان کے سرکاری اساتذہ شدید ذہنی کفیت کا شکار ہے وہاں اس کا اثر براہ راست نظام تعلیم پر بھی پڑ رہی ہے گزشتہ ماہ صوبائی وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی کے خواہش پر گانچھے سے تعلق رکھنے والے سابق سیکرٹری محکمہ فشریر خادم حسین کو محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کا چارچ دیا گیا تو بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے رد عمل سامنے آیا ہے اور اسے وزیر تعلیم کی خواہش کی بنیاد پر تقرری کا فیصلہ قرار دیا لیکن مسلہ سیکرٹری تعلیم کا نہیں بلکہ نظام تعلیم کا ہے گلگت بلتستان کے عوام چاہتے ہیں کہ خطے کا نظام تعلیم تبدیل ہو سرکاری سکولوں کے انفراسٹکچر ٹھیک ہو گلگت بلتستان میں ایسے سینکڑوں سرکاری سکول موجود ہیں جن کا سرے سے ہی باونڈری وال نہیں ہے ،متعدد مقامات پر سکولوں کی چھتیں ٹپکتی ہے کہیں پر گائے اور جانور رات کو سکول کے احاطے میں رات گزرتے ہیں تو کہیں پر اساتذہ کی غیر حاضریاں اور من مانیاں کوئی نئی بات نہیں بالائی علاقوں میں اب بھی پرائمر ی سطح کے تعلیم جو کہ بنیادی تعلیم تصور کی جاتی ہے کا درست نظام نہ ہونے کے باعث سینکڑوں طلبا او رطالبات بورڈ امتحانات میں فیل ہوجاتے ہیں اور تعلیم کو خیرباد کہہ دیا ہے دسویں اضلاع کے ذیلی اور بالائی علاقوں میں واقع سرکاری سکولوں میں کوئی پُرسان حال نہیں ہے تعلیمی ماحول سے لے کر عمارتوں کی صورتحال کا اللہ ہی حافظ ہے کئی مقامات پر سکولوں کے عمارت کھڑی ہے لیکن پڑھانے والا نہیں جبکہ ضلع ،شگر ،کھرمنگ ،گانچھے ،داریل ،تانگیر ،استور ،کے مختلف دیہاتوں میں سرے سے ہی سرکاری سکول نہیں ہے جس کے باعث ان علاقوں کے بچے ،بچیاں تعلیم سے دور ہیں میں نے کئی ایسے جگے دیکھے ہیں جہاں بچے سکول سرے سے ہی نہیں بچے ،بچیاں سکول ،کتاب اور قلم کے لئے روتے دیکھا ہے مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت نے سب سے زیادہ بجٹ تعلیم پر رکھا گیا جو کہ خوش آئند ہیں لیکن خطیر بجٹ مختص کرنے کے باوجود تعلیمی انفراسٹکچر نہ بدلنے سے ترقی اور خوشحالی کا پہیہ جام ہی جام ہے وزیر تعلیم گلگت بلتستان حاجی محمد ابراہیم ثنائی کے پاس اب بھی ڈھائی سال کا وقت ہے وزیر موصوف اپنے وعدوں اور دعوؤں پر عمل کرنے میں کامیاب ہوئے تو اب بھی اس علاقے کے غریب اور پسماندہ طبقے کے لوگ انہیں اپنے دل میں بسائیں گے اگر ماضی کی طرح محکمہ تعلیم کے ساتھ فراڈ ،جھوٹ اور دھوکہ دہی کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والے وقتوں میں گلگت بلتستان کا نظام تعلیم نہ سنبھلنے والے ہاتھوں میں چلا جائے گا اورآنے والی نسلیں بددعائیں ہی دیتے رہیں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments