ایمبولینس کو رستہ دیں ،اس میں آپ کا کوئی پیارا بھی ہو سکتا ہے

ایمبولینس کو رستہ دیں ،اس میں آپ کا کوئی پیارا بھی ہو سکتا ہے

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جدید نفسیات کے امام سگمنڈ فرائڈ نے بڑی اچھی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں۔

“میرے خیال میں انسان بنیادی طورپر تہذیب کا دشمن ہے کیونکہ تہذیب اجتماعی مفادات کی نگہبانی کرنا چاہتی ہے جبکہ انسان اپنی انفرادی خواہشات کی تسکین کو اہمیت دیتے ہیں ۔ایک پر امن معاشرتی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے ہر فرد کو قربانیاں دینی پڑتی ہیں ان قربانیوں سے انسان مجموعی طور پر دولت اور فطرت سے ایسا رشتہ قائم کرتے ہیں جس میں سب کی بھلائی مضمر ہوتی ہے تاکہ ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل ہوسکے” (The future of illusion,1927)

کا ئنات کے آب و گیاہ میں بسنے والی تمام مخلوقات میں بنی نوع انسان وہ تغیر پذیر حیوان ہے جس نے اپنے ارتقائی سفر کے مختلف مراحل نہایت خوش اسلوبی سے عبورکیے ۔اِس سفر میں اُس نے جنگلوں سے نکل کر شکاری طرز سے زرعی طرز زندگی،زرعی طرز سے صنعتی طرز زندگی کے مختلف ادوار طے کرتے ہوئے ذہن و ذکاوت اور فہم و فراست کے بل بوتے پر کبھی چاند پر بھی اپنے قدم جمائے تو کبھی سمندروں کی تیز و تند ہواؤں کو بھی زیر کیااور سائنس کے میدان میں بے پناہ ترقی کے ذریعے نہایت تیزی سے منازل اس طرح طے کیں کہ آج وہ آسائشات و تعیشات بھی زندگی کا حصہ ہیں جو کبھی محض خواب و خیال میں ہی تصور کیے جا سکتے تھے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حضرت انسان اختیار و اقتدار کے نشے میں دیگر انسانوں کی کشت و خون کا بازار گرم کرنے سے بھی باز نہ آیامگر تقاضائے فطرت ہے کی انسان کے ارتقاء کاسفر جاری و ساری رہتا ہے ۔انسان کے طائر فکر کی اڑان،ترقی و خوشحالی کے فسانے اور چاند پر بستیاں آباد کرنے کے خواب اپنی جگہ لیکن وہ زمین کے کسی ٹکڑے پر آج تک ایک ایسی بستی آباد کرنے میں ناکام نظر آتا ہے کہ جہاں ہر طرف امن و آشتی کا شہرہ ہو اور انسان کا وجود نہ صرف دیگر انسانوں کے لئے بلکہ زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات کے لئے امن و سلامتی کی ضامن ہو۔

بقول شاعر

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف
ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

کسی بھی معاشرے کی تشکیل میں اخلاقی اقدار نہایت ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک میں اخلاقیات کے موضوع کو کسی دیومالائی قصے کے معنوں میں لیا جاتا ہے خصوصاََپاکستان میں مذہبی حلقوں کو فتو ٰی فروشی کا بازار گرم کرنے جبکہ تعلیمی اداروں کو قدیم مسلمان سائنسدانوں اور تاریخ کے فرسودہ سورماؤں کے کارناموں کو بچپن کے کسی پریم کہانی کی طرح یاد دلا دلا کر رنگ برنگی ڈگریاں تقسیم کرنے کے علاوہ معاشرے میں اخلاقیات کا سبق ازبر کرانے یا جدت پسندی کی جانب رغبت کے لئے آخر وقت ہی کہا ہے۔۔۔۔۔۔؟ اخلاقی تربیت کے اسی فقدان کے سبب آج ہم اپنی مذہبی،ثقافتی،سماجی،تعلیمی یا قومی اقدارپر ببانگ دہل فخر تو کرتے ہیں لیکن ہمارے سماج کے اخلاقی اقدار کی گرتی ہوئی ساکھ ایک حساس فرد کو کرب سے دوچار کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ایک ایسا سماج جہاں کو ڑا کرکٹ کو گھر کے سامنے گلی کی نکڑ پر پھینکنے اورندی نالوں میں بہانے کا رواج عام ہو یا جہاں کے لوگ بیت الخلا کے استعمال کے آداب سے ہی نا آشنا ہوں وہاں بھلا کیسے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ لوگوں کے اذہان پاکیزہ ہوں اور ان سے کارِ مسیحائی انجام دینے کے حوالے سے کیسے توقعات وابستہ کیے جا سکتی ہیں۔

بقول ندا فاضلی

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہے کئی بار د یکھنا

کسی بھی معاشرے کے عوام کی گردشِ خون میں جب انسان دوستی،ہمدردی اور ایثار وقربانی کے حَسیں جذبات سرایت کر جائیں تو اخلاقیات کا معیار نہایت بلند اور قابلِ رشک درجے پر پہنچ جاتا ہے اور اس معاشرے میں اپنی ذاتی گاڑیوں میں سفر کرنے والے قانون کا احترام کے ساتھ ساتھ انسانیت کا بھی عملی مظاہرہ کرتے ہوئے روڈ پر پیدل چلنے والوں بھی خیال رکھتے ہیں اور ٹریفک کے کسی حادثے کی صورت میں گاڑیوں کو روک کر زخمیوں کی حتیٰ الامکان مدد کرنے کے ساتھ ساتھ ہسپتال پہچانے کا رواج عام ہوتا ہے اور رستے سے گزرنے والے ایمبولینس کو رستہ دیا جاتا ہے اور غیر ارادی طور پر ایمبولینس میں موجود زخمیوں کے درد کو محسوس کیا جاتاہے ۔لیکن ایک ایسا معاشرہ جہاں انسان کے خون کے شریانوں میں سطحی مذہبیت سے مملو ناپاک جراثیم سرایت کر گئے ہوں اور جہاں دیگر انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگین کرکے خوشی محسوس کی جاتی ہو وہاں ہم بھلا کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ لوگ اپنی قیمتی مصروفیات کو تعطل کا شکار کرکے ایمبولینس کو رستہ دیں۔ہمارے جیسے جاہل معاشروں میں توسڑک پر پیدل چلنے والے راہگیر وں کو گاڑیوں سے ٹکر مار کر یا کسی حادثے کی صورت میں لاشوں اور زخمیوں کو سڑک پر بے یار و مددگار چھوڑ کر اپنی جان بچا کر بھاگنے کی رِیت قائم ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جب کسی ریاست میں اخلاقی اقدار اور اخلاقی تربیت سے کہیں زیادہ مذہبی رسومات کو خاص فوقیت دی جائے تو معاشرہ سطحی مذہبیت کا شکار ہو جاتا ہے۔مساجد اذان کی صداؤں سے ضرور گونجتی ہیں،نمازیں ادا کی جاتی ہیں،روزے بھی رکھے جاتے ہیں ،حج ادا کیا جاتا ہے حتیٰ کی تمام عبادات بجا لاکر خوب ثواب کمایا جاتا ہے لیکن اخلاقیات کا معیار شرمناک حد تک پستی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہوتا ہے۔اسی سبب معاشرے عبادت گزاروں کی بہتات تو ہو جاتی ہے لیکن اخلاقی لحاظ سے معاشرہ درندوں کی بستی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور معاشر ے سے انسان دوستی،ہمدردی اور ایثار و قربانی کے دلکش جذ بات مفقود ہو جاتے ہیں۔

معروف شاعر جون ایلیا نے کیا خوب کہا ہے

ؔ سب سے پر امن واقعہ یہ ہے
آدمی آدمی کو بھول گیا

آج کے دور کے انسان کی جہالت ،تنگ نظری ، مذہبی انتہا پسندی اور رجعت پسندی کے قصے ایک طرف لیکن دوسری طرف زمین پر ایسے آسمان صفت جواہر بھی جنم لیتے ہیں جو دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین بناتے ہیں۔خواہ وہ پاکستان کا عبد الستار ایدھی ہو یا جرمنی کی رتھ فاؤ،البانیہ کی مدر ٹریسا ہو یا اٹلی کی فلورینس نائٹ انگیل۔دراصل یہ وہ شخصیات ہیں جو زندگی کے بنیادی مقصد کو پا لیتے ہیں۔عبد الستار ایدھی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد ان کے خاندان نے کراچی شہر کا رخ کیا۔ایدھی صاحب نے پہلے پہل کپڑے کے کاروبارکا سوچا ۔حضرت نے جب کپڑے کی مارکیٹ کا رخ کیا تو ایک بد معاش نے کسی شخص کے پیٹ میں چھرا گھونپا تھا۔زخمی زمین پر گرا اور لوگ تماشا دیکھتے رہے ۔آخر کار وہ شخص زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔عبد الستار ایدھی جیسا حساس فرد اس واقعے سے اس حد تک متاثر ہواکہ انہوں نے کپڑے کے کاروبارکے خیا ل کو ذہن سے نکال باہر کیااور ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام لکھوایا ۔نیچے ٹیلی فون نمبر۔اورکراچی شہر کے لوگوں کی مدد کا آغاز کر دیا۔وہ ادارے کے ڈرائیور بھی تھے اور آفس بوائے بھی۔ٹیلی فون آپریٹر بھی اور سویپر بھی۔ ٹیلی فون اپنے سر ہانے رکھ کر سوجاتے ۔فون کی گھنٹی بجتی ایڈریس لکھتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے ۔زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچاتے اور ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رخصت ہو جاتے۔ایک دفعہ ایدھی صاحب نے فجر کی نماز ادا کرنے کے لئے مسجد کا رخ کیا۔مسجد کی دہلیز پر کوئی نوزائیدہ بچہ چھوڑ گیا مولوی صاحب نے بچے کو ناجائز قرار دے کر قتل کرنے کا اعلان کیا ۔نمازی ہاتھوں میں پتھر اٹھائے بچے کو قتل کرنے کے لئے جارہے تھے لیکن عبد الستار ایدھی نے بچے کو اٹھایا ۔ سینے سے لگایا اور بچے کی پرورش کا آغاز کیا۔کہا جاتا ہے کہ آج وہ ایک بنک میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہے ۔ایک اور واقعے میں عبد الستار ایدھی کو خبر ملی کہ گندے نالے میں ایک لاش پڑی ہے ۔لواحقین بھی نعش نکالے کے لئے تیار نہ تھے لیکن ایدھی صاحب نالے میں اتر گئے۔نعش نکالی غسل دیا کفن پہنایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کھود کر تدفین کی۔1951 کو شروع ہونے والے ایدھی ویلفیئرسینٹرکی آج پاکستان کے تمام شہروں میں 300 مراکز کام کر رہے ہیں جس میں1800 پرائیوٹ ایمبولینس سروس سٹیشن شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایدھی ویلفیئرکے بین الاقوامی سطح پربرطانیہ،کینیڈا،جاپان،امریکہ اور بنگلہ دیش میں مراکز موجود ہیں جو دنیا کے کسی ملک میں ہنگامی صورتحال کی صورت میں ہجرت کرنے والے مہاجرین کی مدد کرتے ہیں۔ اسی طرح عبد الستار ایدھی کی انسانیت سے بے لوث محبت کے باعث ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایدھی ویلفیئر کا ادارہ پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کی سب سے بڑی پرائیوٹ ایمبولینس سروس بن گئی اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ایدھی صاحب نے نہ صرف 20 ہزار نوزائیدہ بچوں اور 50ہزار یتیموں کی کفالت کی بلکہ 2003 تک گندے نالوں سے 16 ہزار لا وارث نعشیں نکالی اور تدفین کی۔

ہندوستان کے شاعر نریش کمار نے کہا تھا

ؔ خدا سے کیا محبت کر سکے گا
جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

انسان کی زندگی جب ایثار و قربانی سے متصل ہوتو یقیناًانسانیت کی فلاح و بہبود کا باعث بنتی ہے۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک انسان دوست خاتون رتھ فاؤنے 1960 میں پاکستان کا رخ کیا اور جذام جیسے موذی مرض سے متاثرہ مریضوں کی مدد کے لئے اپنی زندگی وقف کردی ۔اُس دور میں جذام لا علاج مرض تصور کی جاتی تھی اور مرض سے متاثرہ مریض معاشرتی بے حسی کے باعث موت سے قبل موت سے بد تر زندگی بسر کرتے تھے کیونکہ مرض پھیلنے کے خدشات کے سبب مریضوں کے ساتھ سماجی تعلقات منقطع کیے جاتے ۔ جس کے سبب ان کی زندگی واجنی سی ہوکر رہ جاتی ۔مرض کے پھیلنے کے حوالے سے صحیح معلومات نہ ہونے کے سبب نہ صرف معاشرہ بلکہ قریبی عزیز و اقارب بھی ربط منقطع کر تے ۔رتھ فاؤ نے کسی مسیحا کی طرح جہالت سے پُر معاشرے میں لوگوں کو جذام کی مرض کے حوالے سے معلومات فراہم کیں اور شعور دیا کہ جذام ہاتھ ملانے،ساتھ کھانا کھانے سے نہیں پھیلتی بلکہ مریضوں کو اپنے ساتھ رکھ کر علاج کرنے کی ترغیب دی ۔اس طرح انہوں نے 1963 میں کراچی میں لیپروسی کلینک کا آغاز کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ کار پاکستان کے دیگر شہروں تک بھی پھیلایا ۔کہتے ہیں اس دور میں گلگت میں ایک خاتون جذام کے مرض کا شکار ہوئی۔گھر والوں نے مرض کے پھیلنے کے خدشات کے باعث قریبی ایک غار میں منتقل کیا اور پتھروں کی دیوار بنا کر صرف کھانا فراہم کیا جاتا تھا ۔عظیم رتھ فاؤ کو جب اس بابت خبر ہوئی تو انہوں نے دشوار گزار راستوں کی صعوبتیں برداشت کرکے نہ صرف گلگت جیسے دور دراز علاقے کا رخ کیا بلکہ مریضہ کو غار کی جہنم سے بد تر زندگی سے بھی نجات دلا دی اور گلگت میں لیپروسی سینٹر کا آغاز کیا جو آج بھی جذام اور ٹی بی سے متاثرہ مریضوں کو سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

ہندوستان کے شاعر نریش کمار نے کہا تھا

خدا سے کیا محبت کر سکے گا

جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

دنیا کے کسی خطے میں آباد کسی قوم میں اخلاقی اقدار پستی کا شکار ہوں تو ان کی ا خلاقی تربیت نہایت ضروری ہوجاتی ہے ۔اور بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی اخلاقی پستی کا شکار ہے ۔ جبکہ معاشرتی بیماریوں کا سدباب اخلاقی تربیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔سب سے پہلے ہمیں ایک قدیم مقولہ “اپنے دشمن سے بھی محبت کرو”کے مصداق اپنے اندر انسان دوستی کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ تبدیلی جلسے جلوسوں ،نعروں، پروپیگنڈا یا تشدد کے ذریعے کبھی نہیں لائی جاسکتی بلکہ تبدیلی معاشرے میں بسنے والے ہر فرد کی پسند و نا پسند ،نظریہ اور اقدار سے متصل ہے۔عبد الستار ایدھی نے ایک بار کہا تھا کہ ان کی والدہ ماجدہ انہیں جیب خرچ کے طور پر دو پیسے دیتی تھی اور تاکید کرتی کہ بیٹا! ایک پیسہ اپنے لئے خرچ کرنا جبکہ ایک کسی ضرورت مند پر۔اسی جذبے اور تربیت کے سبب عبد الستار ایدھی دنیا بھر میں ایک مسیحا کے طور پر ابھرے اور انہوں نے کارِ مسیحائی کو اپنی زندگی کا بنیادی مقصد بنایا۔ہمیں معاشرے میں اپنے بچوں کی کم سنی سے اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عملی زندگی میں ایک کامیاب شخص کے ساتھ ساتھ انسان دوستی ،ہمدردی اور ایثار و قربانی کے جذبات کا حامل معاشرے کا ایک اچھافرد ثابت ہو سکے۔دنیا بھر میں ایمبولینس سروس اپنے ابتدائی دور سے بغیر کسی مذہب،رنگ و نسل اور قوم کی تفریق کے انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔خواہ وہ 1487میں سپین فوج کی پہلی قدیم جنگی امور میں استعمال ہونے ولی ایمبولینس ہو یا1793 میں نپولین بونا پاٹ کے طبیب جین لارے (Jean Larrey)کی بنائی ہوئی تانگہ ایمبولینس،1861 سے 1865 تک جاری رہنے والی امریکی سول وار میں میجر جنرل ایڈمنڈ رَکر(EdmundRucker)کی بنائی ہوئی چار پہیوں والیRuchker ایمبولینس ہویا جنگ عظیم اوّل میں برطانوی،امریکی اور فرانسیسی افواج کے زیرِ استعمال رہنے والی ماڈل ٹی فیلڈ ایمبولنس(Model T field)،1832سے لندن میں شروع ہونے والی پہلی عوامی ایمبولینس سروس ہو یا دورِ جدید کی ایدھی یا Falck ایمبولینس سروس۔بلاشبہ یہ سہولیات انسان کی قیمتی جان بچانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جبکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ایک انسان کی زندگی کی قدر و منزلت دنیا کی ہر شے سے کہیں زیادہ ہے۔تھوڑا سا غور کریں تو معاشرے میں تین قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں۔مرنے والے،مارنے والے اور بچانے والے۔اگر راہ سے گزرتی ہوئی ایمبولینس کو رستہ دینے میں ہماری مصروفیاتِ زندگی تھوری سی تعطل کا شکار ہوکر کسی انسان کی جان بچانے کا موجب بن سکتی ہیں تو ہمیں اس میں پہل کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ کچھ افرادایمبولینس سروس کو غیر ضروری فون کرکے انسانوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق کرنے سبب بنتے ہیں کیونکہ ایمبولینس سروس کی فون کا بلا وجہ مصروف ہونا دوسرے انسان کی جان کی ضیاع کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔ایمبولینس سروسز کی مدد کے حوالے سے عام عوام میں شعورپیدا کرنے کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھا کر عوامی مقامات پر بینرزآویزاں کرکے ،ورکشاپ کے انعقاداور سکول ،کالج اور یونیورسٹیوں کی سطح پر طلباء و طالبات کو شعوردے کے خاطر خواہ نتائج بر آمد کیے جا سکتے ہیں۔تاکہ اپنی ذاتی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والے بھی ایمبولینس کو رستہ دیں تاکہ مریضان کو ہسپتال پہنچانے میں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کیونکہ انٹرنیشنل ایمرجنسی سروس (EMS)کے ماہرین کے مطابق کسی بھی حادثے کے رونما ہونے کے بعد ایک گھنٹہ نہایت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور یہی لمحہ انسان کی زندگی بچانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔پاکستان میں ایمبولینس سروس سے وابستہ ڈرائیوروں کو ورکشاپ کے انعقاد کے ذریعے ہیلتھ کئیر سروسز (Health care services) کے ساتھ فرسٹ ایڈ(Fist Aid) کے پیشہ ورانہ ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں زخمیوں کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔ ہمیں انسانیت سے محبت ،ہمدردی اور ایثار و قربانی کے جذبے کو بیدار کرکے حقیقی طور پر زندہ و جاوید ہونے کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے کیونکہ انسان کے زندہ ہونے کے ثبوت کے لئے صرف سانسوں کے رشتے کا قائم ہونا کافی نہیں بلکہ دکھی انسانیت سے خالص اور بے لوث محبت سے اس کا عملی ثبوت دیا جا سکتا ہے۔

شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی نے کیا خوب کہا ہے

اے دوست دل میں گرد کدورت نہ چاہیے

اچھے تو کیا بروں سے بھی نفرت نہ چاہیے

کہتا ہے کون ، پھول سے رغبت نہ چاہیے

کانٹوں سے بھی مگرتجھے وحشت نہ چاہیے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments