متاثریں دیامر کے ساتھ واپڈا کا ناروا سلوک

متاثریں دیامر کے ساتھ واپڈا کا ناروا سلوک

38 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: محمد قاسم

واپڈا کا شمارملک کےاہم اداروں میں ہوتا ہے.یہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے. اگر واپڈا بجلی کی مین سوچ آف کرے تو یک دم ملک میں تاریکی چھا جائیگی. ترقی کا پہیہ جام ہوگا. انڈسٹری خاموش ہو جائیگی. ایک دم بےروزگارى کی شرح میں اضافہ ہوگا. سٹاک ایکسچینج بحران کا شکار ہو گا. اور ڈالر کو پر لگ جائنگے.

واپڈا ایک اہم ترین ادارہ ہونے کے باوجود یہ ادارہ کو ایک قابل ایماندار دیانتدار اور تجربہ کار چیرمین کی شخصیت سے ہمیشہ محروم رہا۔ ہر دور کی ملکی سیاسی قیادت نے اس ادارے کو زاتی انڈسٹری کے طور پہ استعمال کیا گیا۔ یوں اس قومی ادارے میں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے ذاتی مفادات کو زیادہ ترجیح دی گئی. سابق دور کے حکومتوں نے اس ادارے کو نچوڑ کر اربوں روپے کی خود برد کی گئی. موجودہ حکومت نے بھی سابقہ حکومتی ادوار کی طرح کرپشن کرنے میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کی۔

واپڈا اپنی کمزور اور ناقص پالیسیوں کے وجہ سے ملک کے جس کسی کونے میں بھی گیا وہاں صوبائی اور علاقائی نفرتوں کے پہاڑ کھڑے کر دیئے. بیوروکریسی کے کاندھے پہ رکھ کر نفرتوں کے گولے برسائے. تعمیر و ترقی کے نام پہ ایک مخصوص ٹولے کو نوازا۔ سفارشی بنیاد اور پیسوں کے عوض پہ ناقابل افراد کو روزگار کے دروازے کھول کر میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔علاقائی پڑھے لکھے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لئے کوئی انسٹیوٹ کا قیام عمل میں نہیں لایا۔ مقامی ڈگری ہولڈر کو دیوار سے لگا کر دیگر شہروں سے ملازمین بھرتی کئے۔مقامی لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ۔

ملکی سطح کا میگاترین منصوبہ کالا باغ ڈیم واپڈا کی ہٹ دھرمی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے سبوتاژ ہوا. اور ملکی مسائل کو پس پشت ڈال کر صوبائی مفادات کے بنھیٹ چڑھ گیا. اور نتیجہ پوری قوم کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑا.

کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں مکمل طور پر ناکامی کے بعد واپڈا نے گلگت بلتستان کے گیٹ وے چلاس کے مقام پہ دیامر بهاشہ ڑیم کی تعمیر کے لئے کچھوے کی رفتار کام شروع کیا.اور یہاں بھی لاپرواہی ناتجربہ کاری کے گل کہلائے. یہاں کے عوام میں تعصب کو مزیر پروان چڑھایا۔ علاقائت اور رنگ نسل کے فروغ کے مقامی سیاسی لیڈروں اور مذہبی پنڈتوں کا سہارا لیا گیا. تاکہ عوام ایک صف میں کھڑے نہ ہوں اور قوم یکجا بن کے واپڈا کو مسائل پیدا نہ کرے.

دیامر کے عوام نے ملکی سطح کا میگاترین منصوبہ دیامر بهاشہ ڈیم کی تعمیر کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا. رسم رواج، ثقافت، زمینیں، مساجد آباو اجداد کی قبریں اس میگا منصوبے کے نظر کر دیا۔ تاکہ ملک میں ترقی اور خوشحالی آئے اور اندھیروں کا خاتمہ ہو. ملک کی انڈسٹری چلے تاکہ بےروزگاری کی شرح میں کمی ہو. پانی کی وافر مقدار میں ذخیرہ اندوزی ہو. تاکہ ملک میں آب پاشی کا نظام بہتر ہو.روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ ملک کے وسع تر مفاد میں قربانی دینے والوں کے ساتھ واپڈا کی ظلم و زیادتی اور ناروا سلوک کے داستان رقم کرنا شروع کروں تو میرا قلم جواب دیتا ہے. اور میرے اوسان خطا ہوتے ہیں.کہ تعمیر و ترقی کے لبادے میں یہ سفید ہاتھی غریب اور کم فہم لوگوں کو کیوں کچل رہا ہے۔نفرتوں کے دیوار جدید انداز میں تعمیر کر کے ایسے ماہرانہ نقش نگاری کی گئی ہے کہ متاثرین ڑیم کا ہر قبیلہ ہر فرد زاتی مفادات کو اولین ترجیحات میں شامل کرنے کی تگ و دو میں مصروف عمل ہیں.اور اخلاقیات کو قصہ پارینہ سمجھنے لگے ہیں. اجتماعی فوائد کی بات کرنے والے لوگوں کو واپڈا کا سانپ سونگھ گیا ہے.

واپڈا کے دیامر بهاشہ ڈیم پراجیکٹ میں کوئی ایک بھی فہم و فراست والا آفیسر موجود نہیں .جو علاقے کی حساسیت متاثرین ڈیم کی آبادکاری ملازمین کی بھرتیاں سیمت دیگر اہم امور پر کوئی جامع پالیسی وضع کرے ….

دشمن ملک بھارت میں گزشتہ 20 سالوں میں چھوٹے بڑے کوئی 1400 ڈیم تعمیر کئے گئے ہیں۔جبکہ پاکستان میں واپڈا کی پانی کی ذخیرہ اندوزی کے اورسستی بجلی کی پیداوار میں کاکردگی صفر کے برابر ہے۔

دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر ملک کی اہم ضرورت ہے۔اس ڈیم کی تعمیر سے پانی کی وافر مقدار میں ذخیرہ اندوزی اور 4500 میگا واٹ سستی بجلی بھی پیدا کی جایئگی۔نیز تربیلا ڈیم کی عمر میں بھی اضافہ ہوگا۔

مگر دیامر ڈیم منصوبے کے واپڈا کی تعمیراتی حوالےسے دیکھا جائے تو واپڈا کے پاس مایہ ناز انجینئرز ہونے کے باوجود بھی تهور کے مقام پہ واپڈا کالونی کسی بھی وقت سیلابی ریلے مین بہہ جانے کے خطرے سے خالی نہیں.

ہسپتال کالونی کے ساتھ متاثرین ڈیم کی آبادکاری کے حوالے سے مسجدیں سکولز اور شاپنگ سنٹرزکی تعمیر تو کی ہے پر متاثرین ڈیم کو پلاٹس کی فراہمی میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔ جبکہ متاثرین ڈیم کے ساتھ واپڈا کے وعدے بھی کار وفا نہیں ہو سکے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت اور واپڈا حکام دیامر ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے از سرے نو جامع پالیسی مرتب کرے۔اور متاثرین دیامر ڈیم میں پائی جانے والی محرومیوں کے ازالے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔