امن کا تاج محل

امن کا تاج محل

37 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شکیل کی کل شام کرکٹ کھیلتے ہوئے تنویر سے لڑائی ہو گئی تھی ۔۔وہ افسردہ تھا ۔۔ہمناز کی اردو کے استاد نے کلاس میں کہا تھا کہ وہ پھر کلاس میں نہیں آئے گا کیونکہ ان کی کاپیاں پوری نہیں ہیں۔۔ کام ادھورے ہیں ۔۔شکیل کے ابو کی شام مسجد میں شمیم کے ابو سے توتکار ہو گئی تھی ۔۔دھمکیاں دی گئی تھیں ۔۔شکیل کی امی صبح کی اذان سے پہلے جاگتی ہے ۔۔وضو بنا کے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے ۔۔یا اللہ مجھے دنیا و آخرت کی عافیت عطا فرما ۔۔اس کا ابا جاگتا ہے ۔۔ہاتھ اٹھتے ہیں ۔۔یا اللہ میرے ہاتھوں دوسروں کی آبرو اور دوسروں کے ہاتھوں میری عزت محفوظ فرما ۔۔تنویر اور ہمناز جاگتے ہیں ۔۔رب کے حضور سر جھکائے ہوئے ہیں ۔۔یا اللہ ہمیں خوشیاں عطا فرما ۔۔مسجد جاتے ہوئے شکیل کے ابو کا شمیم کے ابو کا سامنے ہوتا ہے ۔۔ہاتھ ملاتے ہیں ۔۔بھائی جان رات کیسے گذری ۔۔۔بھائی جان اللہ کا شکر ہے آپ کے گھر میں خیریت ہے ۔۔میرے بھتیجے بھتیجیاں کیسی ہیں ۔۔۔تنویر کالج کی طرف روانہ ہوتا ہے۔۔ ہمناز سکول کے لئے روانہ ہو تی ہے ۔۔ان کی امی جان ان کی پیشانی چوم چوم کر ان کو رخصت کرتی ہے ۔۔کہتی ہے ۔۔بچو جاؤ۔۔اللہ کی رحمت کے سائے میں جاؤ ۔۔سب سے محبت کروسب کا احترام کرو بیٹا ۔۔۔کالج کے راستے میں سامنے سے تنویر آتا ہے۔ ۔مسکرا کے شکیل کے گلے لگتا ہے ۔۔ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کالج کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔۔گویا ان کی زندگی میں کل والی شام تھی ہی نہیں ۔۔۔ہمناز بچی ہے اس کو اپنے استاد سے بہت محبت ہے ۔۔اس کو قلق ہے کہ اس کا استاد روٹھ چکا ہے ۔ پھر اس کی کلاس میں نہیں آئے گا ۔۔وہ دھڑکتے دل سکول پہنچتی ہے ۔۔استاد کو سکول کے لان میں کھڑے دیکھ کر سیدھا اس کے پاس جاتی ہے ۔۔اس کی آنکھوں میں محبت کے دو موٹے موٹے آنسو ہیں ۔۔سلام کرتی ہے اور سر سیدھا اپنے استاد کے دل پہ رکھتی ہے ۔۔’’ سر آپ پھر ہماری کلا س میں نہیں آئیں گے کیا ؟۔۔استاد۔۔۔ تم لوگ میری زندگی ہو ہمناز۔۔ کوئی اپنی زندگی سے روٹھ کر زندہ کس طرح رہ سکتا ہے ۔۔میں کیوں نہ آؤں بیٹا یہ کیا کہہ رہی ہو ۔۔یہ چترالی معاشرے کا ایک عکس ہے ۔۔اور یہ سچ ہے ۔۔یہاں پہ دل صاف ،خیالات پاکیزہ اور ذہن کھلے ہوئے ہیں ۔۔یہاں پہ محبت اور احترام دو فطری جذبے ہیں ۔۔جن کی خوشبو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔۔فلائینگ کوچ میں سفر ہے۔ راستے میں ٹریفک پولیس کھڑی ہے ۔۔گاڑی روکی جاتی ہے ۔۔ڈرایور سر نکال کر بڑے فخر سے کہتا ہے ۔۔چترالی ہیں ۔۔گویا کہ وہ دنیا کی مہذب ترین لوگوں کو لے کر محو سفر ہے ۔۔۔سپاہی سوال کرتا ہے ۔۔۔سارے چترالی ہیں ۔۔ہاں سر ۔۔۔ہاتھ کے اشارے سے کہتا ہے ۔۔جاؤ ۔۔ہوسٹل کے کمرے میں رینجر کے سپاہی داخل ہوتے ہیں ۔۔ہوسٹل پہ چھاپا ہے ۔۔کمرے میں موجود طالب علم سے پوچھا جاتا ہے ۔۔کہاں کے ہو ؟۔۔ابھی اس کی الماری کھولی جارہی ہے ۔۔ادھر سے آواز آتی ہے ۔۔چترال۔۔ادھر الماری کھولنے والے کے ہاتھ رک جاتے ہیں ۔۔سپاہی معافی مانگ کے نکلتے ہیں ۔۔انٹرویو میں پوچھا جاتا ہے ۔۔انکوائری میں پوچھا جاتا ہے ۔۔گواہی میں پوچھا جاتا ہے ۔۔سفر خضر میں پوچھا جاتا ہے ۔۔کاروبار میں پوچھا جاتا ہے’’ چترال ‘‘ کہنے پر پھر اعتماد کیا جاتا ہے ۔۔اطمنان محسوس کیا جاتا ہے ۔۔آخر یہ چترالیت کیا ہے ۔۔یہ امن، محافظت ،شرافت اور اعلی انسانی کر دار کا عملی نمونہ ہے ۔۔یہ محبت اور احترام کی ایک سند ہے ۔۔قران عظیم الشان نے اہل قریش کو محبت والا کہا ۔۔یہ محبت والوں کا معاشرہ ہے اور محبت ان کا اعزاز ہے ۔۔چترالیوں سے امن ، محبت اور شرافت ہی کی توقع کی جاتی ہے ۔۔یہاں پہ ماں کی گود سے شرافت کا درس شروع ہوتا ہے ۔۔گھر انگن ،گل کوچے ،کھیت کھلیاں ،دکان بازار ،جلسہ گاہ ،تعلیمی ادارے ،عبادتگاہیں اسی شرافت کی درس گاہیں ہیں ۔۔یہاں سے شرافت کے سوتے پھوٹتے ہیں ۔۔روایتی رشتے ناطے ۔۔روایتی شرم و حیا ۔۔روایتی نرم مزاجی ۔۔تحمل بردباری ۔۔مھیٹی زبان ۔۔شرین الفاظ ۔۔قابل احترام القاب۔۔شائستگی ۔۔چترالیت کی پہچان ہیں ۔۔چترال میں کہیں روایتی دشمنی نہیں ہوتی ۔۔خا ل خال اس کی مثالیں ملتی ہیں ۔۔رشتے ناطے مضبوط ہیں دوستیاں پکی ہیں ۔۔ماں بہن بیٹی کا مقام ہے ۔۔عورت شرم و حیا کا پیکر ہے ۔۔پردہ ہے ۔۔ماں کی زبان میں دعا ہے بہن کا پیار بھر الہجہ ہے ۔۔بیٹی خدمت کی پتلی ہے ۔۔معاشرے میں بوڑھے بزرگ کا احترام ہے۔۔یہ چترالیت ہے ۔۔ہر بیٹی کو مناز جیسی نصیحت کی جاتی ہے ۔۔ہر بیٹے کو شکیل جیسا سمجھایا جاتا ہے ۔۔یہی شرافت چترالیوں کی پہچان ہے ۔ہر چترالی کو یہ برقرار رکھنا ہو گا ۔۔یہی امن کی ضمانت ہے ۔۔ آج کا نوجواں طبقہ اور تعلیم یافتہ نسل اس درس کو لینے میں کوتاہی کر رہا ہے جو قابل افسوس ہے ۔۔ان کو سوچنا ہو گا کہ آج اگر ان کا احترام کیا جاتا ہے تو وہ شرافت کی وہ محسوس روایت ہے جو ان کے ابا و اجداد نے قایم کیا اور برقرار رکھا ۔۔اسی کو بر قرار رکھنا اصل تعلیم ہے جس کو حاصل کرنے کی ہمیں ضرورت ہے ۔۔تاکہ دنیا میں ہماری پہچان برقرار رہ سکے ۔۔یہی سر زمین امن کی تاج محل ہے جس کو اللہ تا قیامت قایم رکھے ۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author