دن کا وہ راجہ، رات کی رانی کدھر گئی؟

سکردو سے واپسی ایک دفعہ پھر جنوں اور پریوں کے دیس دیوسائی سے۔ ایسے میں جہاں بانہیں کھول کر دیوسائی کی یخ بستہ ہواؤں کو گلے لگانے کا من کرتا ہے تو وہاں کئی سال پہلے رحیم گل کی کتاب ’’جنت کی تلاش‘‘ میں پڑھی یہ باتیں ایک ایک ہوکر یادوں کی سکرین میں نمودار ہوتی چلی جاتی ہیں:

’’ہم دیوسائی پہنچ گئے تھے۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ روئے زمین پر ایسا منظر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر اٹالین یا سپینی سیاح نے یہ نظارہ دیکھا ہوتا تو یقیناً اس نتیجے پر پہنچتے کہ خدا ہے اور یہی اس کا گھر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سطح سمندر سے تیرہ چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر ہتھیلی کی طرح طویل و عریض میدان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا حدِ نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگ برنگ پھولوں کا لہراتا ہوا گلزار۔ ہم دم بخود رہ گئے۔ حیرت زدہ ہی نہیں خوفزدہ بھی ہوئے۔ جنوں اور پریوں کا دیس ایسا نہ ہوگا تو پھر کیسا ہوگا؟ اربوں اور کھربوں بلکہ اس سے بھی زیادہ مسکراتے ہوئے ترو تازہ شگفتہ پھول ہمیں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ تقریباً سو مربع میل کے چاروں طرف برف پوش چوٹیوں کی نورانی فصیل کھڑی تھی۔ زمین تو کیا پوری کائنات میں ایسا منظر دوسرا کاہے کو ہوگا! لیکن انسان کا المیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! مونٹ ایورسٹ اور چاند پر پہنچنے والے دیوسائی نہ پہنچ سکے! انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے کے لیے یہی کیا کم تھا کہ چودہ ہزار فٹ کی سطح مرتفع میں اتنا لمبا چوڑا میدان پایا جائے اور اس پر طرہ یہ کہ نظر کی حد ختم ہوجائے، مگر پھولوں کی سرحد ختم نہ ہو۔ گویا پاؤں میں بھی پھول اور تا بہ افق پھول ہی پھول۔ یعنی زمین پر بھی پھول اور زمین سے گلے ملتے ہوئے آسمان پر بھی پھول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش یہ خواب ہوتا! اے خدا! تو یہ ہے تیری خدائی! ایسی ہوتی ہے دُنیا! کس نے بیج بوئے یہاں؟ کون لایا تھا یہ بیج؟ کس نے بھرے ہیں رنگ ان میں؟ کاسنی، نیلے، پیلے، اودے، کالے، سرخ، گلابی اور سفید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون گوڈی کرتا ہے ان کی؟ اور کون پیاس بجھاتا ہے ان کی؟ کس نے سجایا ہے اتنا عظیم گلدان اور کس نے رنگ چھڑک دئیے ہیں ان پہنائیوں میں؟ پانی کا سمندر دیکھا تھا۔ برف کا سمندر دیکھا تھا۔ مگر کبھی نہیں سنا تھا کہ پھولوں کا بھی سمندر ہوتا ہے۔ یہ پھولوں کا سمندر تھا۔‘‘

یہی کشش آج ہمیں دوبارہ دیوسائی سے گزرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ حالانکہ ہم کئی بار دیوسائی سے گزر چکے ہیں۔ اس کی خوبصورتی کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے کہ اس کی خوبصورتی دکھتی نہیں بلکہ چیخ چیخ کے اپنے مداحوں کو اپنی جانب متوجہ بھی کر رہی ہے۔ اس لیے کبھی ہمیں کہنا پڑا تھا؎

کبھی رہتے نہیں چُپ حُسن والے

میری دھرتی کے منظر بولتے ہیں

یقیناً اب وہاں پر خزاں کا راج ہوگا۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ یہی تو خوبصورتی کی بے وفائی ہے کہ یہ زیادہ دیر ساتھ نہیں دیتی۔ ایسے ہی حالات کی منظر کشی پروفیسر کمال الہامی نے یوں کیا ہے؎

اے پیرِ مرد تیری جوانی کدھر گئی؟

تیرے شباب کی وہ کہانی کدھر گئی؟

گلشن سے اب بہار گئی، آگئی خزاں

دن کا وہ راجہ، رات کی رانی کدھر گئی؟

اب پروفیسر میاں کو کون سمجھائے کہ جہاں دن کا راجہ ٹھہر نہیں جاتا وہاں رات کی رانی کا کیا بھروسہ؟ رانی تو رانی ہوتی ہے یہ رات کی رانی ہو یا حُسن کی، دغا دے ہی جاتی ہے۔

ہمارے سفر کے لیے دُعا کیجئیے کہ گلگت تک کا سفر بخیر ہو۔ پریوں اور جنوں کے دیس دیوسائی سے گزرتے ہوئے دُعائیں ذادِ سفر کا درجہ رکھتی ہیں۔

یار زندہ، صحبت باقی!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments