بشارت شفیع: گراتاس سے غارنگکیش تک کا سفر

بشارت شفیع: گراتاس سے غارنگکیش تک کا سفر

567 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اعجاز شفیع

وہ بچپن سے ہی مرکز نگاہ  عام و خاص تھے۔ لوگ ان کو نام سے کم اور ا نکے کردار سے زیادہ جانتے تھے۔ ان کے لیے لفظ گراتاس ( ڈانسر) زبان زد عام و خاص تھا۔ وہ ہر ساز پہ ناچتے تھے۔ دیوانہ وار ناچنا ان کو بہت پسند تھا۔ اس بات سے بےپرواہ کہ کوئی دیکھ رہا ہو کہ نہ نہیں ، موسیقی ھو یا نہ ہو، کوئی پسند کرے یا نہ کرے، لمحہ خوشی کا ھو یا غم کا۔  وہ ۔تمام وسوسوں سے بے نیاز، ۔نیازمندی اگر تھی تو صرف اتنی کہ ان کا دل خوش ھوجاے۔ سروکار ان کو اپنے دل سے تھا۔ دنیا کی پرواہ کبھی نہیں کرتا۔ خود اعتمادی ان میں کٹ کٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ بلا جھجک، بےساختہ اور فلبدیحہ  بولنے کے عادی تھے۔ گھر میں اکثر انکو اس روایے پہ بڑوں سے ڈانٹ پڑتی۔ وہ کسی کو بھی نظروں میں نٰہیں لاتے تھے- اور جہان ، جب ، جو اس کے من میں آیے وہ اسی وقت ، وہی پہ اس کا مکمل اظہار کرنے کے عادی تھے۔

 راقم بشارت سے عمر میں بمشکل دو سال بڑا اور جگری بھائی ہے ھمارا خاندان آبائی گاوں برکلتی چھوڑکر ھندور میں اباد ھے۔ آبو سکول ٹیچر تھے یوں ھم اسکول سے فارغ وقت بھی ایک استاد کے کنٹرول میں گزارتے- پڑھائی ھو یا نہ ھو گھر کے باغچے سے باہر نکلنا بلکل ممنوع تھا۔ اور  ھمیں ھمیشہ اپنے کزنز کا انتظار رھتا تھا۔ موجب دوری ھمارے پاس ھمعمر رشتدار اکیلے مشکل سے اتے تھے اور بڑے ھمارے ساتھ مشکل سے برابراتے تھے۔ اس لیے اپنے بڑے بھایئوں امتیاز اور وزیر شفیع کیساتھ دن گزارتے تھے۔ امتیاز  اوٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی رکھتے تھے اور وزیر بھائی ادبی سرگرمیوں مثلاٰ بیت بازی ، تقریر نویسی وغیرہ میں ھمیں مشغول رکھتے تھے۔۔ جب دونوں بھائی میٹرک کے بعد کراچی چلے گیے تو ھمارے پاس  تایازاد بھائی شکور خاں اکثر اتے تھے۔ جن کی صحبت فیض میں ادبی سرگرمیوں پر کام کرنے کا موقع ملا۔۔ بشارت شفیع کا بچپن اپنے سے بڑوں کیساتھ گزرا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ ، بصیرت و بصارت میں اپنے ھم عصروں اور اپنے عمر سے زیادہ بڑے لگتے تھے۔

بچپن سے لےکرلڑکپن تک بہت شریر گردانے جاتے تھے۔ اکثرلوگوں کے راے میں ؤہ مجذب المذاج انسان تھے۔1996 ء میں والد صاحب کی اصرار پر استاد محترم سید حسین شاہ کی شاگردی میں قرآن مجید کی تعلیم شروغ کی۔ جہاں نیت شاہ قلندر جیسے خوش آواز دوست کی صحبت حا صل رہی۔ اور اس کا اثر یہ ھوا کہ بشارت موسقیی اور شاعری کی طرف مائل ھوے۔

ان ایام میں ان کو دل لگی ھوئی اور اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ھوے پہلا شعر یوں کہا:

خورکے تے تپ جوآ ان گواننے بے
تیس دی نے ایتا ٍگوچھوۓ کیتا گوچھوے

(ترجمہ:اے میرے محبوب تم اپنے رویے میں بےجا لچک کوکم کرلو۔  گھاس کے پتے کے مانند نہ بن- کہ ہوا کے دوش پہ ٹہلتے جاو، اپنی مرضی کے بغیر)

یہ بشارت شفیع کا پہلا شعر تھا جو انہوں نے 1997جنوری میں لکھا تھا۔ اس وقت وہ کلاس ششم کے طالب علم تھے۔ اس شعر کیساتھ میرا گراتاس (ڈانسر) غارنگ کیش(شاعر) بھی بن گیا تھا۔  ہم سب اس شعر کے پیروڈیز بنا کر انکا مزاق اڑاتے تھے۔ کسے معلوم تھا کہ یہ بچہ بروشاسکی ادب کاایک  درخشان ستارہ بنے گا اور یہ شعر بروشاسکی زبان کی تجدید نو کی طرف ایک قدم ثابت ھوگا۔

بشارت کو شعر و شاعری سے شغف انتہاے بچپن سے تھا۔ بڑے بھائی اشعار لکھ کر دیتے تھے اور ھم یاد کرتے تھے۔ بشارت کو کلاس دوم میں 500 سے زاید اردو اور فارسی اشعار یاد تھے۔ وزیر بھائی کو جج بناکر ہم بیت بزی کھیلتے جو کبھی کبھی ھفتہ بھر جاری رہتا۔ عمر اور ایجوکیشن میں سینیر ھونے کیوجہ سے میں اکثر ان سے سبقت لے جاتا تھا۔ جس پر وہ ھمشہ کہتا تھا کہ دیکھنا ایک دن میں آپ سے اگے نکل جاؤںگا۔ اور آج مجھے احساس ھوا کہ وہ بہت اگے نکل چکا تھا کہ چھو بھی نہیں سکے۔۔۔۔وہ ہار کے بھی جیت گیا اورمیں جیت کے بھی ھارگیا۔۔۔۔

لڑکپن میں خلاف فطرت وہ کھیلوں کی نسبت فن خطابت اور عرفانی ادب کی طرف مائل تھے۔ اسکی وجہ شاید یہی تھی کہ ھمارے والد صاحب ریلیجیس ایجوکیشن بورڈ کے ساتھ منسلک تھےاور بشارت والد صاحب کیساتھ  واعظین بیس کیمپ جاتے اور مزھبی اسکالرز کی صحبت میں اچھا خاصا وقت گزارتے تھے۔ ان میں خاص کر استاد سید خلیل، شفا جان اور کریم خان شامل ھیں،

فطین لیکین باغی تھے۔ سکول میں اساتزہ کو تنگ کرنا ان کیلیے عام سی بات تھی۔ شاید ان کا معیار اس تدرسی سیلیبس سے ماورا تھا۔ وہ کلاس کے باغی المزاج لڑکوں سے زیادہ میل جول رکھتے تھے۔ اخبار جہآں کا شمارہ ھمیشہ شوق سے پڑا کرتےتھے۔ اس مقصد کیلیے وہ آغاخان ہیلتھ سنٹر کے اسٹاف سے ھمیشہ تعلق استوار رکھتے تھے۔ نرگیس، نورجہاں،  شیراز اور 1997- 1999  تک تمام سٹاف کی خدمت قابل صدہاستائش ھےان دنوں۔ پروین شاکر مصطفے زیدی اور احمد فراز کو ھمیشہ پڑتے تھے۔

اسکول کے عمر سے ہی وہ بائیں بازوں کے نظریات کے حامی معلوم ھوتے تھے۔ شاید یہ رویہ وراثت  میں ملا تھا۔ وہ کٹر قوم پرست اور سوشلسٹ نظریات رکھتےتھے مٹرک کا امتحان گاوں کے ھائی سکول سے مکمل کیا۔ کالج کے پہلے سال قوم پرستی کی پاداش میں جیل میں گزارنا پڑا۔ وہ نو ماہ جیل میں رہے۔ یہ نو ماہ کی زندگی بشارت کے زندگی کا وہ انتہائی اھم حصہ ہے  جس نے ان کے اندر سے مجزوبیت اور طفلیت کو نکال کر ان کے قلب کو متانت اور دلجمعی سے منور کیا۔ وہ یکسر بدل گیے تھے۔ وہ بچہ جو ایک سال پہلے تک سکول کےاسمبلی اور بزم ادب میں تقریر کا اعادہ کیا کرتےتھا۔ سال کے اندر ہی قوم پرست لیڈر بن گیا تھا۔ جیل سے رہا ہوتے ہی قوم پرست تنظیموں کے رہنماوں نے انکا پرتپاک استقبال کیا۔ وہ جاہ و جلال مجھے آج بھی یادھے۔ بس اب دیر کس بات کی تھی وہ اگے بڑہے اور بی این ایف  کے اسٹوڈنٹ ونگ میں شامل ھوگیے

قوم پرستی کے جرم میں گرفتاری کے دن، اور سٹوڈنٹ سیمینار سے خطاب

 اور اسطرح اس نے پوری یونیورسٹی لائف قوم پرست سیاست میں گزاری۔ اپنے ادبی شوق کو ملحوظ خاطر رکھ کر انہوں نے اردو ادب کے شعبے میں داخلہ لیا۔ اور بی اے پاس کیا۔ لیکن اپ نے اس مضمون کو اپنے مستقبل کے لائحہ عمل سے ہمقدم محسوس نہیں کیا اور شعبہ کریمنالوجی (جرمیات) میں ماسٹرزکی۔یہ شائد اس لیے کہ جیل کی زندگی کے تلخیاں ان کو یاد تھی اور وہ پولیس کےاس نظریے کو سمجھنا چاہتے تھے۔جس کی بنا ایک بےگناہ انسان  قید رہتا رہے۔  وہ جیل میں گزری اس زندگی پر گپ شپ کرنا پسند نہیں کرتے تھے- لیکن جب بیاں کرتے تو یقین کرنا بھی مشکل ہوتا تھا۔ اس کفیت کے حوالے سے اپنے ایک شعر میں یوں گویا ہوے ہیں؛کہ

دوسی بے جی خوندارے نیمالینے
جا ایا تھپ حالے بم کھین دیساچھا

ترجمہ: ایک دفعہ میں نے ایک محفل میں اپنی جیل کی آپ بیتی بیاں کی تومیری ہمت و برداشت دیکھ کر میرا دشمن (جسکا ارادہ مجھے قتل کرنا تھا) کی حالت اتنی غیر ھوئی بس اسکی جان نکلتے نکلتے حلق میں آرکی۔

یونیورسٹی سے فارغ ھوکر وہ گلگت منتقل ہوے اور ریڈیو پاکستان گلگت سے منسلک رہے۔اور دوبارہ موسیقی اور آدب کی طرف راغب ھوے۔ اور باضابطہ شاعری شروع کی۔اس سے قبل وزیر بھائی کی بروشاسکی گرامر کی کتاب بروشاسکی رازون 2007 میں شائع ہوئی تھی۔ اور وزیر بھائی بروشاسکی پریونیورسٹی آف نارتھ ٹیکسس کے پروفیسرڈاکٹر صدف منشی کیساتھ تحقیق کررہے تھے۔ اس آثنا بشارت نے بھی ان کو جوائن کیا اور تحقیق کے سلسیلے میں ڈاکومنٹیشن پر بہت کام کیا۔ ان کی شاعری کو پہلی دفعہ 2010 جولائی میں اس ریسرچ کے لیےمحبوب جاں کی سریلی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔ وہ انتہائی دلچسپی سے ادبی سرگرمیوں کے ساتھ وابسطہ تھے   2010 میں شادی خانہ آبادی کی بندھن سے باندھے گۓ لیکن یہ شادی صرف چھ مہینے چل سکی۔ اس واقع کا ان پر اتنا گہرا اثرپڑا کہ آپ نے اپنی سیاست، ادب اپنے پروفیشنل تعلق کو منقطع کیا  کراچی چلے گۓ۔  اور آغا خان ٰیونیورسٹی کراچی کے شعبہ تحقیق براۓ آطفال سے وابسطہ ھوے۔ لیکن جلد ہی انہوں نے آمن فانڈیشن کے ھیلتھ ڈیپارتمنٹ کو جوائن کیا۔

وہ ادبی سرگرمیوں اور قوم پرستی کو پارک کرکے مکمل پروفیشن اورینٹیٹ بن چکا تھا۔  اس پروفیشنل تگ و دو میں اپ نے جیمز پی گرانٹ انسٹیٹو ٹ آف پبلک ہیلتھ براک یونیورسٹی کی اسکلرشپ حاصل کی اور ایم پی ایح کرنے بنگلہ دیش چلے گۓ۔اس دوران وطن سے دوری نے ان کے اندر کے ادبی جزبے کو مزید گرمایا۔ وہ شعر گویئ میں مصروف رہے۔

دوستوں کے ساتھ رقص کے مناظر

 اسٹیڈیز سے فارغ ہو کر وطن واپس آے اور اپنا پہلا البم ریکارڈ کرنے کی خواہش ظاھر کی۔ اورراقم کے مشورے پرآپ نے یاسین محرکہ اور یاسین رائٹرز فورم کو تعاون و اشتراک کےلیے اپنا پروپوزل دیا اور ان کے اشتراک سے پہلا البم ریلیز کردیا اور یوں 2012 میں ان کی شاعری کو پبلک کیاگیا ۔

آپ نے بروشاسکی موسیقی میں پروفیشنلیزم کو متعارف کرایا۔ ان سے قبل ھر شاعر، گلوکاری میں بھی طبع ازمائی کرتا تھا۔ آپ نے پروفشنلز اور نیو ٹیلینٹ کو اگے  لایا۔ محبوب جاں، ؤجاہت شاہ عالمی اور مشتاق احمد کی دل کو چھونے اولی اوازوں میں گانے ریکارڈ کرواے۔ آپ کی شاعری کسی عشق و عاشقی کے محورسے ماورا تھا۔

ان کی شاعری نمایاں خصوصیات حسب زیل ہیں:

پیغام انسانیت:

بشارت کی شاعری ان کی اپنی زندگی کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ وہ وفا تھے، ننگ تھے، ناموس تھے اور انسان تھے۔ ان کو مادیت پرستی سے دور کا بھی تعلق نہ تھا- آپ پیغام امن و محبت تھے۔ اس کا اطہار اپنی ایک غزل میں یوں کرتے ہیں

مہرے گونو بوکام با جا مالینگا
مالے ہر پھوں یاٹے گورن اوسے

ترجمہ: (اے میرے ھموطنو) میں نے اس سر زمین کی  ہر کھیت کے ہر کھلیان میں  مہرو محبت کا بیچ بویا ہے۔ (تم سے ھو سکے تو) ہر کھلیاں کا خیال رکھنا۔

حقیقت پسندی:

بشارت نوجوانوں کو اپنے ماضی، اپنی گزشتہ اور سرگزشت سے سکھنے کی تلقین کرتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے آپ نے اپنے اوپر گزری ہر حالت کو حقیقت سے بیان کیا ہے۔ اپ نے اپنی بچپن کی غریبی تنگدستی اور ان سے جھڑی ہوئی ارمانوں،اور حرکتوں کو بھی شاعری میں بیان کیا ھے۔  مثلا:

جا بلتم لل ایاتا بم گوکاٹ گویلجی جوا
جانے اسقر با اچو بلچیرنگ کا ھن یوآس

اجو اخوش منوم بم تے گنز چم گروان دیخیسم
شاشنگ گروان نی یچے اچھے نقس ان دوخارا

ترجمہ 1:اے میرے بھائی: مجھے آپ نے کیسے نہیں پہچانا۔ میں ھمیشہ آپ کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ میں وہ اشقور (بالوں کی رنگت کی مناسبت سے لوگ انکو اشقور کہتے تھے۔) ھوں۔ جسکا زیادہ وقت لگڑیاں اور گوبر جمع کرنے میں گزرتاتھا۔

2-اے میرے محبوب اس دن سےپھٹا ہوا گریباں مجھے بہت پیارا لگتا ھے۔ جس دن تم مجھے پھٹے گریباں کیساتھ دیکھ کر  بہت ہنسی تھی۔

عالمگیریت/ آفاقیت:

بشارت شفیع کی شاعری میں عالمگیریت کا عنصر نمایاں نظر اتا ہے۔ وہ دنیا کی عارضی تقسیم کی مخالف تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ حدبندیاں استحصال کی علامت ہیں ۔ اور اس دنیا کی محدود زندگی میں لالچ فضول ہے۔ مثلاؒ فرماتے ہیں

میناکا والاس اپی چھک میورچن گنز دیاکا
غاننگا حرص شیمے ٹیٹے نیا دس دامینی

مینکا اسورا اچھوس ۔۔فت اچھم با شوم دنیا جا
مینے دینا اوخوش کا یانیشن  ویے اوکھرا۔

وہ فرماتے ہیں ۔ کہ موت کا ایک دن مقرر ہے۔ اور سب نے اپنے باری پہ جانا ھے۔ یہ دولت اور زمین کسی کے بھی مستقیل کام انے والی نہیں ہے۔ اس کے باوجود دیکھو حرص و حواص کے پجاری رسی لا کر دشت کو تول رہا ہے۔

وہ دنیا کی استحصالی نظام سے بہت ناللاں تھے ۔ اسکا اظہار اپنے ایک غزل میں یوں کرتے ہیں

دومرچا کھو تھاریسن ایریچومان            ان بو خوشانا نی تل ایریچومان
ھالے بم شون دیچومان دومار نوخا         دوماراس شون یاٹے گورین اوسے

ترجمہ : اس دنیا میں یتیم کو بھگ مانگنے پر مامور کرتے ہیں۔ وہ خوشی سے یہ کام نہیں کرتا، زبردستی سے کرائی جاتی ہے۔  گھر پہ موجود معزور ( اندھے) کو بھیگ مانگنے کے لیے تنگ کرتے ہیں ۔۔ اس لیے بھیگ مانگنے والے معزور پہ ہاتھ رکھو:

مقصدیت :

بشارت میں اگرچہ شاعری کا گر روز اول سے موجود تھا۔ لیکن اپ نے باقاعدہ شاعری ایک نیک مقصد یعنی بروشسکی کی ترویج و ترقی، ثقافت کی تجدید نو اور اتحاد و آتفاق کے مضوعات  کو سامنے رکھ کر کیا۔ ان کی ہر جنبش قلم اس مقصد کے لیے وقف تھا۔ وہ فرماتے ہیں:

جا ایریچمے اوسمو ہارنگ زنگ دوچھو یم با
می اسپالومم تھے باطنے ننگ دوچھو یم با

شففیع تھے حفس ہر حننے دوروغا جوشا خوۓ
جا دوردانہ چھیل پھت نیتے میل بوتا می یم با

ترجمہ: میری کوشش ہے کہ میں دلوں کے اندر لگی ھوئی زنگ کو دھو ڈالوں۔ ھم نے جس ننگ و ناموس کو بلا دیا تھا ایک دفعہ پھر میں نےاس  ننگ کو زندہ کیا ہے۔ وہ مزید فرماتے ھیں ۔کہ اے کاش میں اس دن اس صاف و شفاف پانی کو چھوڈ کر شراب کیوں پیوں گا  جس دن شفیع کا یہ ارمان پورا ھوجاے۔

 مادری زبان کی محبت :

بروشاسکی زبان کا شمار دنیا  کی ان  زبانوں میں ھوتا ہے جنکا  مزاج اب تک ماہر لسانیات کی سمجھ سے بلا تر ہے۔ بشارت کو اس بات کا اندازہ تھا کہ بروشاسکی کی اہمیت کیا۔ واللہ وہ عصبیت و تعصب سے آزاد تھے۔ لیکن ان کو اس بات پہ فخرضرور تھا کہ وہ اگ دریافت کرنے والوں کی زباں کی نما ئندگی کرتے پیں۔ ان کو ان تمام لوگوں سے محبت تھی جو بروشاسکی کے لیے کام کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ ماچی بپ کو وہ اپنا استاد سمجتھے تھے۔ وہ فرماتے ہیں:

جاگو جوا بو غارنگکیش ، ماچی: امایم با
ماچی اپاے تے ، سیس اونگی شفیع امایم با

(اے میرے استاد) شاعری کے میدان میں،  میری آپ کے سامنے کیا اوقات ؟ شفیع لوگوں میں مقبول اگر ہے تو وہ اس لیے کہ آج میدان میں ماچی نہٰں ھے۔ بروشاسکی ادب میں ماچی بب کو وہ مقام حاصل ہے جو آمیر خسرو کو اردو ادب میں حاصل ہے۔ بشارت بروشاسکی سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ اس زبان کی تہہ تک  جانا چاہتے تھے۔ لیکن کم عرصے میں اپنے کام سے کافی مطمین تھے۔ وہ یوں راقم طراز ہیں

جا پن دوا جا کھن دوا جا سم بروشاسکی
می تھوشکوم اتین میرینے اسقم بروشاسکی۔

جا تھوشکوم دوکوچ  گوتا سرانایا تاھل ان
ان گوغارین کا جا نوکیرات زم  بروشاسکی

ترجمہ: میرا گھر،میری راجدانی ، اور میرا وسیلہ بصیرت بروشاسکی ہے۔ (اس لیے) ھم نے پھر سے  بروشاسکی کی تجدید نو کی اور  (فخریہ انداز سے فرماتے ہیں کہ) ہم نے  پھر سے آپکولاکے  بانسری کے سپرد کیا اور موسقیت دلائی۔اب جب بھی تمھاری گیت سنائی دیتی ھے تو میں فخر سے جھوم اٹھتا ھوں۔ لوگ سمجھتے تھے کہ بروشاسکی زبان  شاعری کے لیے موضوں زبان نہیں لیکن بشارت نے اپنی شاعری سے اس انمٹ تاثر کو ختم کیا اور اس کا اظہار یوں کرتے ھے۔

ان لیل گوتن کا ایچمن لمن چے طواف گو
وے لیل اکوتم گوغا سیمان خم بروشاسکی

ترجمہ: (اے بروشاسکی) لوگ اپکو سمجھنے سے قاصر ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خشک زبان ہے لیکن دیکھ لینا جس دن  ان کو تیری وسعت وعظمت کا(میری طرح)  احساس ھو تو وہ اسی دن تیرا دامن چھوم لینگے۔

وطنیت:

بشارت ایک محب وطن انسان تھےوہ کافی عرصہ اپنے گاوں سے دور رہیں مٹرک کے بعد مزید تعلیم کے لیے کراچی چلے گیے اور اعلی تعلیم کےلیے دھاکہ گیے۔ اس دوری کا اثر یوں ہوا کہ بشارت کو اپنا یسن بہت ہی محبوب لگنے لگا ۔ وہ فرماتے ہیں۔

یٰسن جا بطن دوا۔ جا آسے ملتن دو
ہاے دریغٰ۔  جا بطن جا اچھوم متھن دوا۔

ترجمہ: یٰسین میرا اسا پیارا وطن ہے۔ (بس یوں جانوں) میرے دل میں دوڑ نے والا خون ہے۔  ہاے دریغٰ- ان دنوں میں اپنے اس پیارے وطن سے دور (بنگلہ دیش) میں ھوں۔

گو گندی مقیچم جا اسے ملتن دولیش خاش
مامو غوچھر دیوشم یٰسن گویک یاٹے گو

ترجمہ: (اے میرا پیارا وطن) تیرےلیے میں محنت ایسا کرونگا اس وقت تک، جب تک کہ میرے ان رگوں (دل) میں خون موجود ہے۔کہ دودھ کے نہریں نکالوں گا یٰسن تیرے لیے۔

گوھر ھروٹم ، بڈول کا بدنگے بطن ان
لالک سینا بو، دشمنا ششو دوچھویم با

سماجی یکجہتی: آپ کی شاعری کا زیادہ حصہ سمجی ترقی، سماجی یکجہتی اور باہمی اتفاق کے حوالے سے ہیں اپ نے کوشش کی ھے کہ لوگوں کے سامنے ایسے عناصر رکھے جو نزدیکیاں پیدا کردے۔

جا غررنگ اولے جست اوچھومے حنگ دوچھو یم با
جا دنگ اپیما ھن اقیلش دنگ دو چھو یم با

جا بطن نے سس جوست نوتے وے اوس گاری اوچھم
تھوم اسے ملتن ھر چھاریشا بوتا تھی یم با

ترجمہ: میں نے اپنی شاعری میں سماجی قربت پیدا کرنے والی سازی /دھن کو شامل کیا ھے۔ وہ لوگ جن کی نیند سماجی ناتفاقی سے اڑگیا تھا ان کیلے (اپنی شاعری میں) نیند لے کے ایا ھوں۔(میرا مقصد) ھموطنوں کو اکھٹا کرکے ان کا دل خوش کرانا ھے  بس اسی ارزو کے حصول کے خاطر میں نے اپنا خوں ھر ھموطن کے دروازے پہ (بشکل شاعری) گرایا ھے۔

عشق اور مقام عشق:

بشارت کے نزدیک عشق کا مطلب اور مہفوم عام لغت یا روایت سے بلکل الگ تھا ۔وہ ان تما م عشق کے دعویداروں کو للکار کے کہتا تھا کہ:

دنیا کھو سیسے عشق برنگ اوسکی بالی بے
ٹھانگ اوسموں ھرنگ ھک بشا کھوگون دواری بے

ترجمہ: دنیا کے لوگ عشق سے نابلد ہیں اوران کو عشق کبھی سمجھ نہیں ایا۔ یعنی ان کے اندہرے دلوں میں کبھی بھی عشق کا چراغ روشن نہیں ھوسکا۔ ان کو گہری عشق تھی انسانیت سے، معاشرت سے۔ قدرت سے۔ اپنے نطریہ محبت پر ایک غزل میں اپنی سوچ کو بڑی عام فہم زباں میں بیان کرتا ہے اس کا ایک بند یوں ہے:

محبت ھر تھارسے یاریکی یک
محبت گوس گوخوشے غاریکی یک

محبت ہر تھارس ناچارے گندی
دیشونے گوس، ھینگ اسقا غا سیمان

ترجمہ: (میرے نزدیک) محبت ہر یتیم کا اڑھنا، بچھونا ھے۔(جو ان (یتیم) کی دکھ درد کو چھڑے بننا اس کو اغوش دیتا ہے)۔ محبت آپنے محبوب کیلے رکھی ہوئی اس چیز کا نام جو اس کے دل کو اچھا لگتا ھے۔ محبت، ہر یتیم و ناچار کے لیے دل کی انتہاے خوشی سے، سب کےلیے اپنا دروازہ کھولنے کا نام ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔