مقامی افراد کی مرضی کے بغیر پانی کی ترسیل کا منصوبہ کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، عمائدین ریشن چترال

مقامی افراد کی مرضی کے بغیر پانی کی ترسیل کا منصوبہ کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، عمائدین ریشن چترال

34 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (محکم الدین ) عمائیدین ریشن نے ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر ریشن نالہ سے برنس کے دیہات شاچار اور جگومی کو پانی دینے کے لئے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے واٹر سپلائی پراجیکٹ کا نوٹس لیا جائے جوکہ علاقے میں کشیدگی پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ ریشن نالہ کا زائد پانی خود اس علاقے کی ضروریات کو پورا نہیں کرتی۔ کپٹن (ریٹائرڈ ) میربہادر کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں متفقہ قرار داد میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیاکہ ان دیہات کو ریشن نالے کا پانی دینے کی صورت میں دومقامی بجلی گھربند ہو جائیں گے جبکہ گاؤں کے کئی غیرآباد اور بنجر اراضی کو مستقبل میں آباد کرنے کے منصوبے بھی ممکن نہیں رہیں گے ، جن میں نیواراغ، پراغ لشٹ، کوڑوم شغور اور کاموٹی شامل ہیں۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ایسے مقام پر واٹر سپلائی پراجیکٹ شروع کرنے کا ہرگز مجاز نہیں ہے جہاں غیر متنازعہ پانی کا ذریعہ موجود نہ ہو۔ حاضرین نے کہاکہ محکمے کے افسران اپنا کمیشن بٹورنے کے لئے ریشن کا پانی دوردراز دیہات کو دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے علاقے میں سنگین کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے ۔اُنہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورت حال کی تمام تر ذمہ داری ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ چترال ڈویژن پر عائد ہوگی۔اس موقع پرنورعالم خان ،شاہ نادر،اکبرخان،عبدالرب،محمدعلی ،آمیراللہ اورعوام کی کثیرتعدادموجودتھی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔