یاسین: دس سال سے ایک اعشاریہ دو میگاواٹت تھوئی بجلی منصوبہ زیرِ التوا

یاسین: دس سال سے ایک اعشاریہ دو میگاواٹت تھوئی بجلی منصوبہ زیرِ التوا

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یاسین (معراج علی عباسی ) گزشتہ دس سالوں سے زیرالتواء 1.2میگاواٹ تھوئی ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کی تعمیراتی کام شیطان کے آنت کی مانند لمبی ہوتی جاری ہے ۔سال 2007کو 14کروڑ کی لاگت سے شروغ ہونے والی تھوئی پاور پراجیکٹ نے ا پ تک تقریبا35کروڑ سے زیادہ کی رقم ہضم کرچکا ہے ۔سرکاری خزانے سے اچھا خاصہ بڑی رقم نگل نے کے باوجود پاور ہاوس کی تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بجائے سال باسال شیطان کی آنت کی طرح لمباہوتا جارہاہے ۔1.2میگاواٹ تھوئی پاور ہاوس کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے محکمہ برقیات گلگت بلتستان کے علاوہ وزیراعلیٰ معائنہ کمیشن اور نیب گلگت بلتستان کے حکام نے بھی اپنے جانب سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا رکھا ہے مگر پاور ہاوس کی تعمیراتی کام ایک مہنے سے دوسرمہنے پھر اگلے سال پر ٹل جاتا ہے ۔ اس وقت تحصیل یاسین میں بجلی کی شدید بحران ہے ۔یاسین میں بجلی کی بڑتی ہوئی بحرانی حالات پر کنٹرول کرنے کے لیے محکمہ برقیات کے حکام ہرممکن کوشش کررہے ہیں ۔محکمہ برقیات غذر کے جانب سے نازبر پاور ہاوس کو مرمت کے لیے بند کرنے ساتھ ہی سیلی ھرنگ پاورہاوس کی ایک مشین میں فنی خرابی کے باعث بندہوئی ہے جس باعث یاسین میں 2گھنٹے کے حساب سے بجلی فراہم کی جاری ہے ۔یاسین کے عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یاسین میں موجود بجلی کی شدید بحرانی کفیت کو ختم کرنے کے لیے تھوئی پاور ہاوس کو ہرصورت فنگشینل کیا جائے ، ھرنگ پاور ہاوس میں نصب ون میگاواٹ طاقت کی نئی یونٹ کو چالوکیا جائے اور نازبرپاور ہاوس کے واٹرچینل پر جاری مرمت کے کام میں تیزی لایا جائے تاکہ بجلی کے حوالے سے عوام کو درپیش مشکلات میں اسانی پیدا ہوسکیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔