آئینی حقوق کمیٹی شیخ چلی کی کہانی بن چکی ہے، گلگت بلتستان کونسل کمائی لوٹنے کا ادارہ ہے، سعدیہ دانش

آئینی حقوق کمیٹی شیخ چلی کی کہانی بن چکی ہے، گلگت بلتستان کونسل کمائی لوٹنے کا ادارہ ہے، سعدیہ دانش

51 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس (ڈسٹرکٹ رپورٹر )پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آئینی حقوق کمیٹی شیخ چلی کی کہانی بن چکی ہے۔گلگت بلتستان کونسل عوام کے خون پسینے کی کمائی لُوٹنے کا ادرہ بن چکا۔لگتا ہے آئینی حقوق کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی کیلیبری فونٹ میں ٹائپ کیا گیا ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا معاملہ لٹکا کر عظیم کایا پلٹ اقتصادی منصوبے سی پیک کے خلاف عالمی لابی کو سازشوں کا موقع فراہم کر رہی ہے۔آئینی حقوق کوئی پانامہ یا اقامہ نہیں کہ جس میں ہیرا پھیری کی جا سکے بلکہ یہ گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام کے مستقبل کے تعین کا انتہائی نازک اور حساس ترین معاملہ ہے۔گلگت بلتستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے یہاں کے عوام نے پاکستان کی بقا،سلامتی اور استحکام کے لئے لازوال قربانیاں دیں ہیں۔آئینی حقوق گلگت بلتستان کے عوام کا بنیادی حق ہے جس میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔یہ کیسی آئینی حقوق کمیٹی ہے جس کی سفارشات کئی سال گزرنے کے باوجود وزیر اعظم تک نہیں پہنچ سکیں۔جتنے جھوٹ آئینی کمیٹی کے نام پر بولے گئے اتنا پیچیدہ تو آئینی حقوق کا معاملہ بھی نہیں۔گلگت بلتستان میں گرجنے والے نواز لیگی نام نہاد شیر وفاقی حکومت کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور وفاقی سطح کے اجلاسوں میں مسلط کئے گئے فیصلوں کی تائید میں سر ہلانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔اتنے نازک اور اہم ترین ایشو پر جھوٹ بول کر گمراہ کرنے والے گلگت بلتستان کے عوام کے مجرم ہیں۔سی پیک کا سرچشمہ گلگت بلتستان ہے مگر یہاں کے حکمرانوں کو کوئی احساس تک نہیں کہ اس اہم ترین منصوبے پر ہماری کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔گلگت بلتستان کونسل عوام پر ٹیکس عائد کر کے اپنی تنخواہوں اور مراعات کا بندوبست کر رہی ہے۔اراکین کونسل اپنی اے ڈی پی  رشتہ داروں میں بانٹ رہے ہیں۔اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کو گلگت بلتستان کونسل کے وجود کا علم ہی نہیں۔کونسل میں موجود اراکین کو یہ تک نہیں معلوم کہ کونسل کا دائرہ اختیار اور کام کیا ہے۔ایسے میں کونسل کے اراکین صرف تنخواہ دار ملازم اور کونسل کا وجود محض ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں۔صوبائی حکومت کے وزراء خود میرٹ کی پامالی اور اپنی بے بسی اور بے اختیاری کا رونا رو رہے ہیں۔پیپلزپارٹی نے سیلف گورننس آرڈیننس کے ذریعے گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل کو اختیارات دئے جبکہ حفیظ سرکار بیورو کریسی کے سامنے بے بس ہو کر کٹھ پتلی بن چکی ہے اور  عوامی نمائندگی کا حق کھو چکی ہے۔حکومت این ٹی ایس کے نام پر منظم اور ٹیکنیکل کرپشن کر رہی ہے۔پیپلزپارٹی ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا دفاع اور تحفظ کرے گی اور موجودہ حکومت کے خلاف بھر پور اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔