حفیظ الرحمن ہنزہ کےساتھ کئے گئے وعدوں‌کو عملی جامہ پہنائے، ظہور الہی سینئر رہنما عوامی ورکز پارٹی ہنزہ

ہنزہ (نمائندہ خصوصی) تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ہنزہ کے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں میں سے کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ اگر وزیر اعلی اپنے اعلانات اور وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرواسکتے تو اختیارات پر سوالات اٹھتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ ثابت کرے کہ ان کے پاس اختیارات ہیں اور وہ بڑے فیصلے لے سکتے ہیں۔

وزیر اعلی کو چاہیے کہ اپنے وعدے وفا کرے۔ بابا جان اور دیگر اسیرانِ ہنزہ کو رہا کیا جائے۔ اور سانحہ علی آباد کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔ ہنزہ کو قانون ساز اسمبلی میں اضافی نشست دی جائے، گوجال کو سب ڈویژن اور شیناکی کو تحصیل بنایا جائے۔ متاثرین قراقرم ہائے وے کو معاوضوں کی عدم فراہمی بڑی ناانصافی ہے۔

ان سب مسائل کو حل کرنے کا وعدہ وزیر اعلی بارہا کر چکے ہیں لیکن کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ وزیر اعلی گفتار کے قاضی ثابت ہورہے ہیں اور ان کے کھوکھلے اعلانات کی حقیقت، اور ان کی لیڈرشپ کا بھرم بھی دھیرے دھیرے کُھل رہا ہے۔

ہنزہ کے عوام، بالخصوص نوجوان، حکومت سے ناامید ہوچکے ہیں، جبکہ ن لیگ کی حکومت مسائل حل کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی ہے۔ ن لیگ کے امیدوار کو جتانے کے لئے ضنی انتخابات میں کھلے عام دھاندلی کی گئی اور الیکشن بھی تین دفعہ ملتوی کئے گئے، جیت جانے کے بعد رہنما اپنے خاندانی اور جائیدادی مسائل میں الجھ گئے ہیں، جبکہ عوام مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔

وزیر اعلی اور مسلم لیگ کے پاس اپنی رہی سہی ساکھ بچانے کا آخری موقعہ بچا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments