برفانی کھائی میں گرنے کے بعد حوالدار علی مدد شاہ کی زندگی تو بچا لی گئی ، لیکن ان کی دس انگلیاں کاٹنی پڑی

غذر (محمد ایوب) حوالدار علی مدد شاہ کا تعلق ضلع غذر تحصیل گوپس کے گاوں سمال مولاآباد سے ہے۔ پاکستان آرمی میں اپنے ریجمنٹ اے کے 24 کے دیگر چند ساتھیوں سمیت یہ گیان سیکٹر کے دشوار گزار برف کے پہاڑوں سے اگلے مورچوں کی طرف جارہے تھے جو کہ سطح سمندر سے 26 ہزار کی بلندی پر واقع ہے۔

بد قسمیتی سے رسی کٹ گئی اور حوالدار علی مدد سمیت ان کے ساتھی برف کی ایک خطرناک گہری کھائی (کاروس) میں جاگرے۔ ان کے ساتھوں کو بروقت نکالا گیا مگر حولدار علی مدد شاہ کو خون جما دینے والی سردی میں کم و بیش 24 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔

پاک آرمی کے تازہ دم جوانوں کی انتھک کوششوں کے بعد حولدار علی مدد شاہ کو موت کے منہ سے بچالیا گیا، اور پھر انہیں فوری طور پر ہیلی کاپٹر کی مدد سے ملٹری ہسپتال راولپنڈی پہنچا دیا گیا، جہاں ان کا علاج ممکن ہوا۔

ان کی زندگی تو بچ گئی لیکن ان کے دونوں ہاتوں کی دس انگلیاں سخت سردی کے باعث جل گئی تھیں، جن کو ڈاکٹروں نے کاٹنے کا فیصلہ کرلیا۔

جب ڈاکٹروں نے انگلیاں کاٹنے کے لئے حولدار علی مدد شاہ سے مشورہ کیا، یقیناً وہ لحمہ ان پر بھاری گزرا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر اجازت دی کہ پاک وطن کے لئے سر کٹوانے کی قسم کھائی ہے، انگلی کٹوانے کو چھوٹی سی قربانی سمجھتا ہوں۔

وہ اس وقت پاک آرمی سے رخصت ہوچکے ہیں، اور اپنے گھر میں بچوں کے ساتھ اپنی زندگی کے ایام گزار رہے ہیں۔ 

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments