اپوزیشن اراکین کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی منظور نہیں، این ٹی ایس کے ذریعے ملازمتیں دینے پر تحفظات ہیں: کاچو حیدر

اپوزیشن اراکین کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی منظور نہیں، این ٹی ایس کے ذریعے ملازمتیں دینے پر تحفظات ہیں: کاچو حیدر

93 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( کرن قاسم +فریال فاطمہ) ممبر قانون ساز اسمبلی کاچو امتیاز حیدر نے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے سلسلے کو بند کرے ، اپوزیشن کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی علاقے کے عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی اور ظلم کے مترادف ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سسکتا ہے ، صوبائی حکومت اپنے اس فیصلے کو واپس لے ورنہ اسکے سخت نتائیج سامنے آئینگے ۔پاکستان مسلم لیگ ن کے حکومت کے ہر اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں جو عوام کی ترقی و تعمیر کیلئے اٹھائے جا رہے ہیں گلگت سکردو روڈ کی تعمیر اور بلتستان یونیورسٹی کا قیام سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کو ہم حکومت کے احسن اقدام قرار دیتے ہیں اور ہم اس قسم کے عوامی اقدام کو سراہتے ہیں ۔ سرکاری محکموں میں عمل یں لائے جانے والی تقرریوں میں تحفظات ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے ۔

ان خیالات کا اظہار رکن اسمبلی کاچو امتیاز حیدر نے ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں اپوزیشن کے فنڈز میں کٹوتی سراسر زیادتی ہے ۔پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت اس قسم کے اقدامات سے گریز کرے ۔ مسلم لیگ ن واے کل اپوزیشن میں ہونگے اور کل ایسا ہی سلوک ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ، اپوزیشن ممبران کی فنڈز میں کٹوتی کے فیصلے کو واپس لیا جائے کیونکہ اپوزیشن کے ممبران بھی عوام سے منتخب ہوکر آتے ہیں اور عوام کی امیدیں منتخب نمائندوں سے وابستہ ہیں ۔ فنڈز میں کٹوتی کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں التوا کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستا ن مسلم لیگ ن کی حکومت اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کرینگے اور عوامی نوعیت سے متصادم فیصلوں پر تعمیری تنقید کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکردو روڈ کی تعمیر اور بلتسان میں یونیورسٹی کا قیام بہترین اقدامات یں ۔ حکومت اس قسم کے میگا پروجیکٹ پر کام کا آغاز کرے ۔ مومودہ دور حکومت میں جتنے بھی ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے وہ سب سابق حکومت کے منصوبے ہیں ۔ جن پر مسلم لیگ ن اپنے نام کی تختیاں لگا رہی ہے ۔ آنے والے می میں حکومت کے تین سال مکمل ہوجائینگے مگر ان تین سالوں کے دوران موجدوہ حکومت نے سڑکوں کی مرمتی کام کے علاوہ کوئی بھی تاریخی منصوبہ نہیں دیا ہے ۔

رکن اسمبلی کاچو امتیاز حیدر نے کہا کہ این ٹی ایس کے زیر نگرانی ہونے والے ٹیسٹ انٹرویو پر تحفظات ہیں میرٹ کی باتیں ہوتی ہیں مگر عملی طور پر میرٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کا برملا اظہار خود حکومتی وزیر نے اسمبلی فلور پر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب خور مختار ادارہ ہے کرپشن کے خلاف نیب کی کارروائی احسن اقدام ہے ۔

ا نہوں نے مزید کہا کہ سکردو حلقہ نمبر دو دیگر حلقوں کی نسبت آبادی اور رقبہ کی لحافظ سے بڑا حلقہ ہے جس کی وجہ سے عوامی مسائل حل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آبادی اور رقبے کو مد نظر رکھتے ہوئے حلقہ دو میں ایک اور حلقے کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ عوامی مسائل کو حل کرنے میں آسانی ہوگی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئینی حقوق کے حواے سے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت سنجیدہ نہیں ہے جس کی واضح ثبوت یہ ہے کہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کے سفارشات سامنے نہیں آئے ہیں حکومت کمیٹیوں ڈھونگ رچا کر آئینی حقوق کے مسئلے کو التوا میں ڈال رہی ہے ۔ انہوں نے کہا صوبائی حکومت کے ترقیاتی سکیموں کا یہی صورت حال رہا تو پانچ سالوں میں دو اے ڈی پی منظور ہو سکیں گی جس کے بعد گلگت بلتسان میں تقریاتی سکیموں کا قبرستان بن جائیگا ۔

ا نہوں نے کہا کہ میں نے اپنے حلقے میں تعلیم کو فوکس کیا ہے اور سکردو کے مختلف گاؤں جہاں پر لڑکیوں کیلئے سکول نہیں تھے وہاں پر لڑکیوں کیلئے سکول تعمیر کنے کی سکیمیں دی ہیں ۔ جس پر کام کا آغاز ہو چکا ہیا ور خواتین کو ہنر مند بنانے کیلئے ووکیشنل سنٹرز کے قیام کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔ پچھلے سالوں کی نسبت اس دور میں کچھ بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں گلگت بلتستان کے عوام میں شعور آچکا ہے اور یہاں کے عوام بہتری اور ترقی کی طرف گامزن ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔