وزیراعلیٰ صاحب۔ایک نظر ادھر بھی

وزیراعلیٰ صاحب۔ایک نظر ادھر بھی

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: فہیم اختر

گلگت پارک لنک روڈ مرکزی شاہراہ کے بعد اہم ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ گزر ہوتا ہے یہ اہم شاہراہ جہاں تجارتی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے وہی پر کئی دفاتر اس لنک روڈ کا سہارا لیتے ہیں ۔ پارک ہوٹل سے شروع ہوکر محکمہ اطلاعات و اے پی پی آفس ، بابر روڈ، و ڈومیال روڈ سے جڑتا ہوا یہ روڈ ختم ہوتا ہے ۔ اس شاہراہ سے متصل کئی اہم مقامات ہیں جن میں صوبائی قانون ساز اسمبلی جی بی ، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ،اے کے آر ایس پی دفتر، محکمہ اطلاعات ، اے پی پی (سرکاری خبر رساں ادارہ )، محکمہ جنگلات ، ہاشو فاؤنڈیشن ، گورنمنٹ گرلز کالج ، ڈگری کالج ، سٹی ہسپتال ، پریس کلب گلگت ، نجی تعلیمی ادارے ، سمیت کئی ہوٹلز موجود ہیں ۔ یہ روڈ گزشتہ کئی سالوں سے خستہ حالی کا شکار تھا ۔ جس پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے شہر کے دیگر لنک روڈ ز کے ساتھ اس روڈ کو بھی فوری طور پر میٹل اور کارپٹنگ کرنے کے احکامات جاری کردئے ۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے کی زمہ داری معروف ٹھیکیدار مقصود احمد ڈار کو دیدی جنہوں نے روزانہ کی بنیاد پر کام کرکے چند ہی روز میں اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ گزشتہ روز اس روڈ سے گزرتے ہوئے مقصود احمد ڈار کو ایک بار پھر اپنے کام میں مگن پایا اور یہ سوچ کر کہ اس روڈ کے تکمیل کے حوالے سے ایک تصویر اخبار کے لئے بناؤں گا میں اس تعمیراتی حدود میں گیا ۔ جہاں پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے معاون خصوصی حاجی عابد علی بیگ اس بات کاانتظار کررہے تھے کہ روڈ سے بلڈوزر ہٹ جائے گی تو گاڑی نکالیں گے ۔ میں نے اپنے کار خیر میں حاجی عابد علی بیگ کو بھی دعوت دیدی جس پر وہ اپنی لگژری گاڑی سے اتر کرتعمیراتی کام کے حدود اربعہ میں داخل ہوئے ۔ انہوں نے اخباری زمہ داری سونپتے ہوئے کہا کہ مجھے وزیراعلیٰ نے تمام ترقیاتی کاموں کی نگرانی کا ٹاسک دیا ہے جس پر میں تمام منصوبوں کے دورے کررہا ہوں (حالانکہ اس منصوبے کا دورہ پر میں اسے گاڑی سے نیچے لے آیا تھا) اور وزیراعلیٰ نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ غفلت برتنے والوں کی نشاندہی کی جائے ۔ راقم نے حاجی صاحب کو وہی پر دنیور مین چوک تا مچھور چوک روڈ میں غیر معیاری تعمیراتی مٹیریل کے استعمال پر عوامی شکایات کی جانب توجہ مبذول کرائی جس کی تصدیق مقصود احمد ڈار صاحب نے بھی کی ۔ اسی اثنا ء وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اچانک دورہ کیا ۔ وزیراعلیٰ نے اس روڈ پہ جاری کام (جو آخری مراحل میں ہے ) کا جائزہ لیا اور حاضر ٹھیکیدار سے اس حوالے سے بریفنگ لی ۔ مقصود احمد ڈار نے چند ایک اور چیزوں کی نشاندہی کی ۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پارکنگ کے نظام کی بہتری کے لئے لائننگ مشین خریدی جاچکی ہے جلد محکمہ آپ تک پہنچائے گا جس پر مقصود ڈار نے کہا کہ محکمہ کا کوئی اعتبار نہیں اسی لئے میں نے خود خریدا ہے اور خود کام پہ لگاؤں گا۔

وزیراعلیٰ کا اس موقع پر رویہ واقعتا سنجیدہ تھا جب انہوں نے کہا کہ کام چوری کسی منصوبے میں برداشت نہیں کی جائے گی ۔ یہ عوامی منصوبے ہیں جو بروقت تکمیل نہ ہوں تو عوام کے لئے ازیت کا سامان بن جاتے ہیں تمام ٹھیکیداروں اور محکمہ جات کو مطلوبہ ساز و سامان فراہم کردیا ہے اب شکایت اور غفلت کی گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے مقصود احمد ڈار کے کام کی بھی تعریف کی ۔ مقصود احمد اس سے قبل کے آئی یو پل سمیت روڈ اور دیگر منصوبوں کو بھی بروقت مکمل کرکے حکومت کے حوالے کرچکے ہیں ۔ ان کا کام واقعتا قابل تعریف ہے ۔اور سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے تو وزیراعلیٰ صاحب شیر شاہ سوری بن گئے ہیں۔چند مہینوں میں اکثر مقامات کی سڑکیں کسی اور شکل میں نظر آتی ہیں۔

وزیراعلیٰ کے اس ایکٹیوٹی کی خبر سوشل میڈیا پر دو اطراف سے پھیل گئی ایک سرکاری پیجز اور کار سرکار میں کار فرماں افراد کی تھی جبکہ دوسری راقم نے خود چڑھادی تھی ۔ حکومتی پیجز کی جانب سے پھیلنے والے پوسٹ پر سوائے شاباشی ، آفرین ، زبردست کے اور کچھ بھی نہیں مل سکا البتہ راقم کے پوسٹ پر درجنوں افراد کے تبصرے بھی آگئے اور پیغامات بھی ۔ جو وزیراعلیٰ صاحب کی توجہ چاہتے ہیں۔

ایک صاحب نے لکھا کہ کارگاہ روڈ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے ۔ حالانکہ کارگاہ روڈ سیاحتی حوالے سے انتہائی اہم روڈ ہے جبکہ اس علاقے میں صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس علاقے میں پانی، برقیات،سیاحت ، ماہی گیری ،جنگلات ، زراعت جیسے اہم شعبوں کے دفاتر اور مراکز موجود ہیں مگر صوبائی حکومت کی جانب سے نظر انداز ہونے کی وجہ سے کوئی ترقی نظر نہیں آرہی ہے ۔وہاں پر بڑی مشنری کی ضرورت ہے جس کے لئے بہترین روڈ کی بھی ضرورت ہے ۔
صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے دوست جو کہ کئی بار گلگت بلتستان سیاحت کی غرض سے آئے ہیں کہتے ہیں کہ ’’بھائی جی میں تین سال سے چلم سکردو آ رہا ہوں صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا یہ میری تیسری بار تھی کم از کم گورنمنٹ ہٹ تو بنا سکتی ہے دیو سائی کی کسی ایک یا دو سائٹ پے اور تو اور آپ دیوسائی میں بیمار پڑ جائیں تو آپ کا کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔سکردو آتے آتے یہ تھوڑی بہت چھوٹی لیکن ضروری چیزیں ہیں‘‘۔ سیاحتی مقامات میں صحت اور انفارمیشن ڈیسک کی اشد ضرورت ہے ۔ گلگت بلتستان میں سیاحت روز بروز سال بہ سال بڑھ رہی ہے جن کو سنبھالنے اور ان کو سہولیات پہنچانا حکومت کی اولین زمہ داری ہے لیکن گزشتہ سیاحتی سیزن میں ایسے اقدامات نظر نہیں آئے ۔آئندہ سال پچھلے سالوں کی نسبت سیاحوں کی تعداد بہت زیادہ متوقع ہے ۔ صوبائی حکومت قبل از وقت اقدامات اٹھائے تاکہ بعد میں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اتفاق سے صوبائی وزیر سیاحت صاحب کو ایک سیاحت کے موضوع پر اعلیٰ سطحی نشست میں صرف سر ہلاتے دیکھا ہے جس کے بعد اندازہ ہوگیا کہ یہ بندہ کچھ نہ کچھ کر ہی لے گا۔

ایک دوست نے پی آئی اے لنک روڈ کی خستہ حالی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ روڈ وزیراعلیٰ کے گھر کے عقب میں ہی ہے لیکن وزیراعلیٰ کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ اس روڈ کی خستہ حالی پر مقامی اخبارات نے کئی مرتبہ سروے کیا ہے اس روڈ میں نہ صرف خستہ حالی کا عنصر ہے بلکہ بہتر نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے پانی گھروں اور دوکانوں میں بھی داخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا محال اور کاروبار تباہ ہوا ہے ۔موجودہ وقت میں حکومت نے نکاسی کو بہتر کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں جس کی وجہ سے روڈ ٹریفک کے لئے مکمل بلاک ہے جبکہ پیدل چلنے کے لئے بھی بڑی مشکلات درپیش ہیں۔ اس میں مزید انتظار سراسر نقصاندہ ہے ۔
جگلوٹ سے تعلق رکھنے والے صاحب نے لکھا ہے کہ ’جگلوٹ میں تمام لنک روڈ ز پر پتھر جمع کرکے روڈ کو مکمل بلاک کیا گیا ہے اور تعمیراتی کام سست روی کا شکار ہے ‘۔ جگلوٹ گلگت حلقہ نمبر2میں نمایاں مقام رکھتا ہے ۔ اور حلقہ 2میں اکثر جگلوٹ کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوا ہے وزیراعلیٰ کے اپنے حلقے میں یہ شکایات آنا بہت بڑا سوال ہے ۔ بہر حال وہاں پر کام کرنے والی کمیٹی اب بھی سب اچھا بتارہی ہے ۔
یہ صرف ضلع گلگت بلکہ حلقہ 1اور 2کے چند ہی مثالیں ہیں۔ اب حلقہ نمبر1اور 2میں گاشو پہوٹ، چکرکوٹ ،بارگو شروٹ شکیوٹ جیسے دور دراز علاقے موجود ہیں ۔جبکہ حلقہ نمبر3میں حراموش،بگروٹ اور دیگر دور دراز کے علاقے ہیں ۔ شہر کے اندر ایسی صورتحال ہے تو اطراف کی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ اس وقت ضلع گلگت کے علاوہ 9اور اضلاع ہیں اور ان اضلاع میں ایسے مقامات موجود ہیں جو سیاحت اور جغرافیائی لحاظ سے بھی اہمیت کے حامل ہیں مگر بڑا مشقتوں کا کام ہے ان علاقوں پہ جانا ۔وزیراعلیٰ صاحب کے پاس فوج کی کمی نہیں ہے طرح طرح کے ناموں سے آگے پیچھے نظر آتے ہیں جن کو آج تک استعمال نہیں کیا گیا ۔ ن لیگی زمہ داران ہر ضلع میں موجود ہے ۔ ترقیاتی کاموں کی دیکھ بھال اور نگرانی کا کام تقسیم کرے صرف مراعات یا مفادات کے لئے اخباری بیانات دیکر حکومت سے وفاداری ثابت نہیں ہوسکتی ہے ۔ وزیراعلیٰ صاحب کا اچانک دورہ انتہائی مختصر تھا ۔ اخبار کی خبر کے لئے چند جملوں کے علاوہ ’سمائل‘دیکر رخصت ہوگئے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

فہیم اختر

فہیم اختر پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ گلگت بلتستان کے صدر ہیں اور مقامی اخبارات میں صدائے گلگت کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ پامیر ٹائمز کے مستقل کالم نگار ہیں۔