گلگت بلتستان میں ٹیکس کا اطلاق 2016کے بعد ہوا- امجد حسین ایڈووکیٹ

گلگت بلتستان میں ٹیکس کا اطلاق 2016کے بعد ہوا- امجد حسین ایڈووکیٹ

31 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( پ۔ر) مرکزی انجمن تاجران گلگت بلتستان کے صدر محمد ابراہیم ، مسعودالرحمن ، غلام الدین ،علی بیگ ،حاجی دلداراور دیگر وفد نے پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ سے کپمپ آفس راجہ بازار میں ملاقات کی ۔ ملاقات کا مقصد گلگت بلتستان میں حالیہ نافذ کئے جانے والے مختلف قسم کے غیر قانونی ٹیکس کے خلاف آئیندہ کا لالحہ عمل طے کرنا تھا وفد سے خطا ب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے عوام سے آخری نوالہ بھی چھینے کے در پے ہے۔گلگت بلتستان میں ٹیکس کا نفاذ غیر قانونی ہے،پیپلز پارٹی اس غیر قانونی عمل کی بھر پور مذمت کرتی ہے اور آنے والے دنوں میں تاجران جو بھی لالحہ عمل طے کرینگے پیپلز پارٹی ان کے ساتھ بھر پور تعاون کی یقین دہانی کراتی ہے۔ صوبائی صدر نے گلگت بلتستان کے تمام سیاسی جماعتوں کو اس احتجاج میں بھر پور شرکت کی دعوت دی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران کے صدر محمد ابراہیم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام کاروباری و مزدور طبقے سے مشاورت کے بعد آئیندہ کا لالحہ عمل طے کر ینگے۔ٹیکس کے فیصلے کو ختم کرانے کے لئے مکمل شٹرڈوان کرینگے اور جب تک یہ فیصلہ واپس نہیں ہو جاتا تب تک شٹر ڈوان جاری رکھینگے ۔ اس موقع پر صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے گلگت بلتستا ن میں ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد پر ٹیکس لاگو کیا ہے اور گلگت بلتستان میں غریب عوام کا جینا محال کیا ہے ۔گلگت بلتستان کے کونسل کے ارکین چاہیں تو اب بھی ٹیکس کا نفاذ کو رکواء سکتے ہیں ۔ کچھ لوگ اب اخبارت میں بیانات دے رہے ہیں کہ ٹیکس پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں لاگو ہو ا ہے جو کہ حقیت کے بر عکس ہے ۔ گلگت بلتستان میں ٹیکس کا اطلاق 2016کے بعد ہوا ہے اس وقت پیپلز پارٹی کی وفاق اور گلگت بلتستان میں حکومت ہی نہیں تھی تو کیسے الزام پیپلز پارٹی پر کس طرح لگایا جا رہا ہے ۔وزیر اعلی گلگت بلتستان خطے کے عوام کو خواب دیں کہ جب حقوق کی بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام متنازعہ ہے ۔ جب تک گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق نہیں ملتے تب تک خطے کی عوام ایک روپیہ ٹیکس دینے کو تیار نہیں ۔وفاق اگر گلگت بلتستان کے عوام سے ٹیکس لینا چاہیتی ہے تو رہ پہلے جی بی کے عوام کو وہ حقوق دیں جو ملک کے دیگر صوبوں کے شہریوں کو حاصل ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔