قانون ساز اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں نابینا افراد کے حقوق کے لئے بھر پورآواز بلند کرونگا۔ حاجی رضوان علی

قانون ساز اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں نابینا افراد کے حقوق کے لئے بھر پورآواز بلند کرونگا۔ حاجی رضوان علی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( سٹاف رپورٹر) عالمی یوم تحفظ سفید چھڑی کے موقع پر وثیرن ویلفیئر فاؤنڈیشن اور ویپرا کے زیر اہتمام دنیور گلگت میں ایک آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں نابینا افراد کے علاوہ مختلف سکولوں اور کالجوں کے طلبہ و طالبات اساتذہ اور سول سوسائٹی کی بہت بڑی تعداد بھی واک میں شریک ہوئی۔

واک کی قیادت ممبر قانون ساز اسمبلی حاجی رضوان علی اور چیئرمین ویڑن ویلفیئر فاؤنڈیشن ارشاد حسین کاظمی کر رہے تھے واک کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں نابینا افراد کو درپیش مسائل اور ان کے حقوق سے متعلق مختلف نعرے درج تھے۔واک بیگ مارکیٹ سے شروع ہوئی جو شاہراہ قراقرم سے ہوتی ہوئی نجی سکول میں اختتام پذیر ہوئی ۔ اس موقع پر عالمی یوم سفید چھڑی کے حوالے سے ایک سیمینار بھی منعقد ہوئی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ممبر قانو ن ساز اسمبلی حاجی رضوان علی نے کہا کہ خصوصی افراد کی دیکھ بال اور ان کو درپیش مسائل کو حل کرنے کا ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ یہ افراد ہمارے معاشرے کا حصہ ہے۔ مگر یہ گلگت بلتستان کا المحہ ہے کہ ہم نے ان خصوصی افراد کو ذہنی طور پر معاشرے کے دھارے میں شامل نہیں کیا ہے ۔ان کو ہم نے تسلیم نہیں کیا ہے۔یہ اسپیشل افراد ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں ان کے حقوق کو فراہم کرنا سول سوسائیٹی اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بدقسمتی ہے ان افراد کے لئے کو ئی پالیسی نہیں بنا ہے۔ان کے حقوق کے لئے قانون ساز اسمبلی میں آواز اُٹھاوں گا۔ ان کے لئے باقاعدہ ایک پالیسی بل لانے کی ضرورت ہے۔ان وقت یہ خصوصی افراد بے یار ومدد گار ہے۔میں ان افراد کی پالیسی کے لیئے آنے والے اسمبلی اجلاس میں خصوصی طور پر آواز اُٹھائیں گے اور ان کے قانون سازی کے لئے بات کرینگے۔ ان کو مفید شہری بنانے میں ہم سب کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ مگر بدقسمتی ہے گلگت بلتستان میں ان کو اُن کے بنیادی حقوق نہیں دے جارہے ہیں۔ سرکاری اداروں میں ان خصوصی افراد کے لئے 2فی صد کوٹہ مختص ہے مگر ان آفسیراں نے اپنے عزیز واقارب کو نوازہ ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے نابینا افراد کو روزگار اور وظائف کی فراہمی کا طریقہ کار وضع کرنیکے لئے پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون اورنگزیب خان ایڈووکیٹ صاحب کی قیادت میں قائم پارلیمانی کمیٹی کے کام میں غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور کمیٹی کے ذمہ کام کو نابینا افراد کی خواہشات کے عین مطابق تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے نابینا افراد کے لئے الگ تین فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔مقررین نے گلگت بلتستان میں موجود تمام معذور سرکاری ملازمین کو پورے ملک کی طرح ہزار روپے کنونس الاؤنس جلد فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

سیمینار کے مہمان خصوصی ممبر قانون ساز اسمبلی حاجی رضوان علی صاحب نے اس دوران خطاب کرتے ہوئے نابینا افراد کے تمام مطالبات کو جائز قرار دیا اور یقین دہانی کروائی کہ قانون ساز اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں نابینا افراد کے حقوق کے لئے بھر پور طور پر آواز بلند کرینگے۔انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کے ساتھ خصوصی ملاقات کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ حاجی رضوان علی صاحب نے معذور افراد کے حوالے سے خصوصی بل بھی اسمبلی میں لانے کا وعدہ کیا۔

ویژن ویلفیئر فاؤنڈیشن اور ویپرا کے زیر انتظام منعقدہ اس سیمینار سے ویڑن ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چئیرمن ارشاد حسین کاظمی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے نابینا افراد کئی بار اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں نابینا افراد کو وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں ،ارشاد کاظمی نے مزید کہا کہ نابینا افراد کو ان کی اہلیت کے مطابق روزگار کی فراہمی میں مزید غیر معمولی تاخیر کی گئی تو نابینا افراد ایک بار پھر احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئینگے ،سیمینار سے ٹیچرز یونین اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس گلگت کے صدر شکور علی زاہدی اور ڈائیریکٹر محکمہ سوشل ویلفیئر محمد یوسف صاحب نے بھی خطاب کیا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔