سکردو: گلگت بلتستان یوتھ الائنس کی جانب سے حقوق گلگت بلتستان تحریک کے لئے احتجاجی مظاہرہ

سکردو: گلگت بلتستان یوتھ الائنس کی جانب سے حقوق گلگت بلتستان تحریک کے لئے احتجاجی مظاہرہ

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو ( رجب علی قمر ) سکردو میں گلگت بلتستان یوتھ الائنس کی جانب سے حقوق گلگت بلتستان تحریک کے لئے زبردست احتجاجی مظاہرہ، یادگار شہدا پر جلسہ منعقد کیا گیا احتجاجی جلسے سے چیئرمین جی بی یوتھ الائنس شیخ حسن جوہری ،شبیر معیار ،پیپلز پارٹی کے عبد اللہ حیدری ،تحریک انصاف کے خواجہ مدثر ،شکیل صابری ،الطاف سربراہ طلبا تنظیم و دیگر نے خطاب کیا۔

اس موقع پر شرکا ء نے حسینی چوک سے شیخ حسن جوہری کی قیادت میں یادگار شہدا تک ریلی نکالی احتجاج جلسے میں تاجر اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کیں اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیح حسن جوہری نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی کٹھ پتلی حکومت خطے کے غریب عوام کے حقوق میں رکاوٹ ہے اور گلگت بلتستان کو اپنی جاگیر بنا رکھی ہے حکمران صرف اپنی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے میں مصروف ہے لیکن غریب عوام کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن مسلکی تعصب کو ہوا دے رہی ہے ۔ اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کی ایما پر تمام سرکاری محکموں میں مسلکی بنیاد وں پر بھرتیاں ہورہی ہے۔

شیخ حسن جوہری نے کہا کہ سپیکر گلگت بلتستان فدا محمد ناشاد اور سینئر وزیر اکبر تابان وزیر اعلیٰ کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی ہے۔ شیڈول فور کا نفاذ مسلم لیگ ن کی مرضی سے ہوتا ہے یہ شیڈول ملک دشمن اور دہشت گردوں کے خلاف بنائی گئی تھی مگر سیاسی و مذہبی انتقام سے اس کا اطلاق کیا جارہا ہے۔

جلسے سے دیگر مقررین عبداللہ حیدری ،شبیر معیار ،خواجہ مدثر،شکیل صابری و دیگر نے کہا کہ بلتستان یونیورسٹی اور قراقرم یونیورسٹی کو ضم کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔ بلتستان میں ٹھیکوں کی بندر بانٹ اور عوام زمینوں پر خالصہ سرکار کے نام پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں ہے۔ مقررین نے کہا کہ تمام محکموں میں خالی پوسٹوں پر ن لیگ کے کارکنا ن کو کھپایا جارہا ہے لولی لنگڑی اسمبلی میں وزرا ء خاموشی تماشائی بنی ہوئی ہے عوام نے جنہیں ووٹ دے کر اسمبلی بھیجا تھا آج وہی لوگ زبان پر مہرے لگائے بیٹھے ہیں کسی کو عوام کی فکر نہیں صرف اپنی تنخواہوں اور مراعات کے پیچھے ہیں مقررین نے کہا کہ ٹیکسزز کا نفاذ کسی صورت قبول نہیں ہے۔ خطے کے عوام کو جب تک آئینی حقوق نہیں ملتا کسی قسم کی ٹیکسز لاگو نہیں ہوسکتے۔ فاٹا اور ایجنسسز میں کسی قسم کی ٹیکسز لاگو نہیں ہے لیکن گلگت بلتستان میں غیر قانونی طور پر ٹیکس لاگو کرنا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ مقررین نے کہا کہ پہلے گلگت بلتستان کو وہ تمام حقوق و مراعات دی جائے جو ملک کے چاروں صوبوں کو حاصل ہے ہماری ملکیتی زمینوں کی بندر بانٹ اور پہاڑوں پر موجود قیمتی پتھروں پر سروے کے نام پر قبضہ مافیاسرگرم ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔