صوبائی حکومت نےچترال جیسا پسماندہ اور سیلاب و زلزلے سے متاثرہ ضلع یکسر نظر انداز کیا گیا، سلیم خان ایم پی اے

چترال (محکم الدین ) پاکستان پیپلز پارٹی چترال کے صدر اور ایم پی اے چترال سلیم خان نے کہا ہے ۔ کہ تبدیلی کے دعویدار اور انصاف کے ٹھیکہ دار چار سالوں میں کچھ بھی نہ کر سکے ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ لوگ جوق درجوق پی پی پی میں شامل ہو رہے ہیں ۔ صوبائی خزانے پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوظ حکومت نے قبضہ جما رکھا ہے ۔ اور صرف اپنے حلقوں کو نواز رہے ہیں ۔ جبکہ چترال جیسا پسماندہ اور سیلاب و زلزلے سے متاثرہ ضلع یکسر نظر انداز کیا گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک بڑے شمولیتی تقریب کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر پارٹی کے دیگر رہنما محمد حکیم ایڈوکیٹ ، قاضی فیصل ، سرور کمال ایڈوکیٹ ، اکمل بھٹو ، عالمزیب ایڈوکیٹ کے علاوہ بڑی تعداد میں شمولیتی افراد موجود تھے ۔ سلیم خان نے کہا ۔ کہ پی پی پی نے اسلام ، پاکستان اور چترال کیلئے جو خدمات انجام دی ہے ۔ اُس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اور ملک گیر سطح پر ترقی کے کام صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں انجام پائے ۔ انہوں نے کہا ، کہ 1973کے آئین سے لے کر این ایف سی ایوارڈ کی منظوری اور صوبائی حکومتوں کو خود مختاری دینے تک تما م کام پی پی پی کے کارنامے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کی سڑکیں کھنڈر بن چکی ہیں ۔ لیکن انصاف کے دعویدار اس کو باوجود بار بار مطالبے کے نظر انداز کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں 2015کے زلزلے میں لوئر چترال میں سولہ ہزار اور اپر چترال کے سات ہزار متاثرین کو امداد دی گئی ۔ لیکن متاثرین کی بہت بڑی تعداد اب بھی امداد سے محروم ہے ۔ اور بار بار صوبائی حکومت سے مطالبہ کرنے کے باوجود ان متاثرین کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ۔ سلیم خان نے کہا ۔ کہ لوگوں کو پی پی پی کی خدمات کا اب اندازہ ہو گیا ہے ۔ اس لئے پیپلز پارٹی کی طرف اُمڈ آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 2018کے الیکشن میں پیپلز پارٹی چترال میں کلین سویپ کرے گی ۔ اور تینوں سیٹ جیت جائے گی ۔ جس کا کوئی پارٹی مقابلہ کرنے کی پو زیشن میں نہیں ۔

انہوں نے اے این پی کے صدر عید الحسین کی طرف سے اُن پر لگائے گئے الزامات کو ہر زہ سرائی قرار دیتے ہوئے کہا ۔ کہ عیدالحسین چترال میں پیپلز پارٹی کو تباہ کرنے کے بعد اب اے این پی کے پلیٹ فارم سے مجھ پر الزامات لگا رہا ہے ۔ اگر اُن میں صلاحیت ہے تو کونسلر کی سیٹ جیت کر بتائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کی تعمیرو ترقی میں میرا کردار روز روشن کی طرح عیان ہے ۔ انہوں نے پی پی پی میں نئے شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہا ۔

قبل ازین درجنوں افراد نے جے یو آئی ، جماعت اسلامی ، اے این پی ، آل پاکستان مسلم لیگ ، تحریک انصاف کو چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ جن میں مولانا عبد اللطیف سابق صدر اے این پی ، امام مسجد اوسیک مولانا محمد غازی جے آئی ، قاری شبیر احمد دروش حاجی شیر ولی صدر القریش سو سائٹی دروش ، مس ولی خان آزوردام ، حاجی گل زمان دروش ، امان اللہ دمیل ، حاجی دینار بیگ وارڈپ ، محمد ولی ، عبد الصمد ، محمد خان وارڈپ ، رحمت اعظم سیردور ، محمد ظاہر شاہ دارگیردینی ، حضرت ولی پوٹنیاندہ ، شہزاد دروش ، عبدالکریم وارڈپ ، بی بی نہار جوائنٹ سیکرٹری اے این پی ، سرور خان گرم چشمہ ، اسرار الدین پی ٹی آئی ، حفیظ سید سخی احمد شاہ کوغذی ، محب اللہ ، آصف احمد ، سہیل احمد وغیرہ نے پارٹی میں با قاعدہ شمولیت کی ۔

ایم پی اے سلیم خان جنرل سیکرٹری محمد حکیم خان نے شمولیت کرنے والوں کو ہار پہنائے اور اُنہیں خوش امدید کہا ۔ اس موقع پر مولونا عبد اللطیف ، محمد حکیم ایڈوکیٹ اور قاری نظام الدین نے بھی خطاب کیا ۔

آپ کی رائے

comments